1975، 1994 اور 1999 کے بعد صوبے میں چوتھی بار گورنر راج نافذ کیا گیا
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت بارہ اضلاع میں ایمرجنسی، بعض ڈویڑنز مستثنیٰ قرار
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی تاریخ میں ایک بار پھر نیا باب شامل ہوگیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی تجویز پر صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی، جس کے بعد منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل ہوگئے ہیں۔ دستیاب تاریخی تفصیلات کے مطابق صوبے میں اس سے قبل 1975، 1994 اور 1999 میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، جبکہ موجودہ اقدام چوتھی مرتبہ ہے۔ پہلی مرتبہ 1975 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے اس وقت گورنر راج نافذ کیا جب حیات محمد خان شیرپائو پشاور یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران بم دھماکے میں شہید ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر پابندی عائد کی گئی اور صوبے میں گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ دوسری مرتبہ 1994 میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت نے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کیا۔ بعدازاں پیر صابر شاہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی اور آفتاب احمد خان شیرپائو نے صوبے میں حکومت قائم کی۔ تیسری مرتبہ 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبے کا انتظام گورنر کے حوالے کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے گورنر میاں گل اورنگزیب کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق کو گورنر مقرر کیا گیا۔ بعدازاں لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید افتخار حسین نے نومبر اور دسمبر 2002 میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے قیام تک اپنی تشکیل کردہ کابینہ کے ساتھ صوبے کا انتظام چلایا۔ اب چوتھی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی حکومت معطل کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا ہے، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی عبوری کابینہ کے ساتھ صوبے کے انتظامی امور چلائیں گے۔ اس مرتبہ گورنر راج کے ساتھ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی بھی نافذ کی گئی ہے۔ ان اضلاع میں آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع خیبر، مہمند، کرم، اورکزئی، باجوڑ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں، جبکہ چار جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت بھی اس میں شامل ہیں۔ ایمرجنسی بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویڑنز میں مکمل جبکہ پشاور، کوہاٹ اور ملاکنڈ ڈویڑنز میں جزوی طور پر نافذ ہوگی۔ ہزارہ اور مردان ڈویڑنز کو ایمرجنسی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔