جمہوری حکومت میں ایمرجنسی کا نفاذ اچھی بات نہیں، پرویز خٹک

 اگر آفر آئی تو میں سوچوں گا کہ کیا کردار ادا سکتا ہوں،صوبے میں دہشت گردی عروج پر، گڈ گورننس کا فقدان ہے، سابق وزیراعلی
پشاور(آئی این پی سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت میں ایمرجنسی کا نفاذ اچھی بات نہیں، تاہم اگر مجبوری کے تحت کوئی قدم اٹھانا پڑے تو پھر اس کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے،مجھے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں بلکہ صاف نظر آرہا ہے کہ ایمرجنسی لگے گی، اگر آفر آئی تو میں سوچوں گا کہ کیا کردار ادا سکتا ہوں۔ اپنے انٹرویوز میں پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے مواقع فراہم کیے، لیکن کوئی بھی بات ماننے کو تیار نہیں۔انہوں نے صوبے کی صورتِ حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کا اس وقت برا حال ہے، دہشت گردی عروج پر ہے اور گڈ گورننس کا فقدان ہے۔ سابق وزیراعلی نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کرنے سے گریزاں ہے اور دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے لئے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں کوئی آئینی اقدام اٹھاتی ہے تو ممکن ہے کہ ایسا مجبوری کے تحت کیا جائے۔ پرویز خٹک نے کہا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ختم ہو چکے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور حکومتی کارکردگی پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ مجھے ایسی کوئی آفر نہیں آئی، گورنر راج کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ گورنر راج 3 ماہ زیادہ سے زیادہ 6ماہ بعد ختم ہوجائے گا۔لیکن ایمرجنسی کا وقت مقرر نہیں ہوتا وہ زیادہ دیر چل سکتی ہے۔ مجھے لگتا بھی نہیں کہ گورنر راج لگے گا، مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ ایمرجنسی لگے گی۔ مجھے ابھی آفر نہیں آئی ، حالات پر منحصر ہے ، اگر مجھے آفر آتی ہے تو دیکھوں گا۔اگر آفر آئی تو بندہ سوچتا ہے کہ میں کیا کردار ادا سکتا ہوں۔اگر میں حالات کو تبدیل نہیں کرسکتا یا گڈگورننس نہیں لا سکتا، صوبے کیلئے بہتری نہیں کرسکتا تو پھر میرا کیا کام ہے؟ ۔