ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے 13 ویں دن بھی کشیدگی برقرار ہے اور حملے و جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
ایران کی کارروائیاں:
ایران نے میزائل حملے جاری رکھے ہیں اور سائبر حملوں کے ذریعے دشمن کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ایرانی سائبر گروپ ’ہنڈالا‘ نے طبی آلات بنانے والی کمپنی ’اسٹرائیکر‘ کے نیٹ ورک پر حملہ کیا اور تقریباً 50 ٹیرا بائٹ ڈیٹا چرایا۔پاسداران انقلاب کے ذریعے اسرائیل پر حزب اللہ کے ساتھ مشترکہ میزائل حملے کیے گئے۔
عالمی اور انسانی نقصان:
ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے امیر سعید ایراوانی کے مطابق: 1,348 شہری ہلاک اور 17,000 سے زائد زخمی۔یونیسف کے مطابق 1,100 سے زائد بچے متاثر ہوئے۔لبنان میں اسرائیلی حملے میں سات ہلاک اور 21 زخمی۔اسرائیل میں 14 فوجی زخمی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے شرائط برائے جنگ ختم:
ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے۔ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔مستقبل میں حملوں سے بچاؤ کے لیے بین الاقوامی سطح پر مضبوط ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
خلیج میں اثرات:
سعودی عرب نے دو ایرانی ڈرون مار گرائے۔عمان میں تھائی لینڈ کے جہاز کو حملے کے بعد بچایا گیا۔بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کی مزاحمت کی۔کویت میں ڈرون حملے سے بجلی کی کئی لائنیں متاثر ہوئیں۔
امریکی موقف:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں سے ایران کو شکست دی جا چکی ہے اور جنگ میں مزید دیر نہیں لگے گی۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات:
ایران کے حملوں اور خلیج میں کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے مارکیٹ میں 400 ملین بیرل خام تیل جاری کیا تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے۔اس کشیدگی سے خطے میں سیاسی، اقتصادی اور انسانی صورتحال نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو گئی ہے، اور عالمی تجارتی و توانائی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔