ڈاکٹر جمشید نظر
زندگی کا سفر عجیب ہے اس سفر میں کبھی راستے ہموار ہوتے ہیں اور کبھی اچانک ایسی دیوار سامنے آ جاتی ہے کہ انسان رک جاتا ہے اوراس کے دل میں سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی راستہ ختم ہو گیا ہے؟ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب مایوسی انسان کے دل میں جگہ بنانے لگتی ہے۔ ناکامی انسان کو اتنا نہیں توڑتی جتنا امید کا ٹوٹ جانا توڑ دیتا ہے۔ جب خواب بکھر جاتے ہیں تو دل کے اندر ایک عجیب سا خلا ء پیدا ہو جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی خلا ء اگر ہمت اور محنت سے بھر دیا جائے تو انسان کو نئی طاقت اور کامیابی دے دیتا ہے۔
تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے مایوسی کو شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیاانہی لوگوں میں ایک نام بلب کے موجد ’’تھامس ایڈیسن ‘‘کا بھی ہے۔ایڈیسن نہ کسی امیر گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور نہ ہی وہ غیر معمولی تعلیم یافتہ تھا۔ بچپن میں اس کی سماعت بھی کمزور ہو گئی تھی۔ایڈیسن نے صرف تین ماہ سکول میں تعلیم حاصل کی حالانکہ اس کو سیکھنے کی بہت جستجو تھی اس لئے وہ اکثر اپنے اساتذہ سے سوال پوچھتا رہتاتھا جس پر اساتذہ اسے نالائق طالب علم سمجھنے لگے ۔ ایڈیسن کی ماں سکول ٹیچر تھی جب اس کو یہ پتہ چلا تو اس نے ایڈیسن کوسکول بھیجنا سے اٹھا لیااور خود اپنے بیٹے کو کھیل کے انداز میں پڑھانا شروع کردیا۔یوں ایڈیسن کے اندر پڑھنے کا شوق بڑھتا گیا۔ ایک مرتبہ اس نے پرانی کتابوں کا ایک بڑا ڈھیر دو ڈالر میں خریدا۔ رات کے تین بجے وہ کباڑ خانے سے کتابیں لے کر گھر جا رہا تھا کہ ایک پہرے دار نے اسے چور سمجھ لیااور اس کو رکنے کے لئے آواز دی مگر ایڈیسن اپنی سماعت کی خرابی کی وجہ سے آواز سن نہ سکا۔ پہرے دار نے گولی چلا دی، خوش قسمتی سے گولی ایڈیسن کے کان کے بالکل پاس سے گزر گئی اور یوں یہ عظیم موجد موت کے منہ سے بچ گیا۔ایڈیسن کی اصل پہچان اس کی محنت تھی، وہ دن رات اپنی تجربہ گاہ میں مصروف رہتا تھاکئی بار وہ اس قدر کام میں ڈوب جاتا کہ اسے یہ تک یاد نہیں رہتا تھا کہ اس نے کھانا کھایا ہے یا وہ ابھی تک بھوکا ہے۔ایڈیسن مذاق میں کہا کرتا تھا کہ اگر وہ مریخ پر پیدا ہوتا تو شاید چالیس منٹ زیادہ کام کر سکتاتھا کیونکہ مریخ کا دن زمین کے ایک دن کے مقابلے میں تقریبا چالیس منٹ زیادہ لمبا ہوتا ہے۔ایڈیسن کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں اپنی ایجاد کردہ1093 ایجادات کے جملہ حقوق محفوظ کروائے جواب تک کاایک حیران کن ریکارڈ ہے۔
ایڈیسن کی سب سے بڑی کامیابی برقی بلب کی ایجاد تھی جس کے لئے اس نے ہزاروں تجربات کیے اورمسلسل ناکامیوں کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری۔ بالآخر اکتوبر 1879ء ایڈیسن کا ربونائزڈ دھاگے کا فلامنٹ بلب میں لگانے میں کامیاب ہو گیا۔ جب بلب روشن ہوا تو اس کی روشنی غیر معمولی تھی، بلب ساری رات اورپورا دن روشن رہا۔ ایڈیسن نے روشنی بڑھانے کے لئے جب بلب کے وولٹیج بڑھائے تو بلب جل گیا لیکن اس تجربے نے دنیا کو بتا دیا کہ برقی روشنی کا خواب اب حقیقت بننے والا ہے۔ایڈیسن نے دسمبر 1879ء میں جب اس ایجاد کا عملی مظاہرہ سب کے سامنے کیا تو دنیا حیران رہ گئی۔ لوگ روشنی کا بلب دیکھ کر دنگ رہ گئے اور ایڈیسن کومینلو پارک(امریکہ کا شہر) کا جادوگرکہنے لگ گئے۔کہتے ہیں کہ بلب کی کامیاب ایجاد تک پہنچنے کے لیے ایڈیسن نے ہزاروں تجربات کیے۔ ہر ناکامی اس کے لیے ایک سبق بن جاتی تھی اور وہ دوبارہ کام شروع کر دیتا تھا۔تجربات ناکام ہونے پر جب ایک صحافی نے ایڈیسن سے سوال کیا کہ ہزار مرتبہ ناکامی کے بعد آپ کو مایوسی نہیں ہوتی تو ایڈیسن نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں ہزار مرتبہ ناکام نہیں ہوا بلکہ میں نے ہزار ایسے طریقے دریافت کئے ہیں جو کام نہیں کرتے۔یہ جواب دراصل زندگی کا ایک بڑافلسفہ ہے۔ایڈیسن کی زندگی سبق دیتی ہے کہ ایک کم تعلیم یافتہ، سماعت کی خرابی کا شکار اور غریب انسان بھی مسلسل محنت اور ثابت قدمی سے پوری دنیا کو حیران کر سکتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو کامیابی میں تبدیل کر سکتا ہے اس لئے زندگی کی ناکامیوں سے گھبرا کر مایوس ہونا چھوڑ یں اور آگے بڑھتے جائیں۔