وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کی مالی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور خزانے میں 150 ارب روپے کا سرپلس موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تھے، تو خزانے میں صرف 15 دن کی تنخواہ باقی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کسی نئے ٹیکس کے بغیر صوبے کی آمدن میں 50 فیصد اضافہ کیا ہے۔ صحت کارڈ اسکیم کو بحال کیا گیا اور اس میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا، جس سے ماہانہ 90 کروڑ سے ایک ارب روپے کی بچت ہو رہی ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے کے 87 ارب روپے کے بقایاجات کو ختم کیا گیا اور ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ قائم کیا گیا، جس سے قرضوں کی ادائیگی میں مدد ملی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں سولرائزیشن منصوبہ شروع کیا گیا ہے اور سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز وغیرہ کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں پوسٹنگ ٹرانسفرز میرٹ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں اور کسی قسم کے سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔کابینہ اجلاس میں خیبر پختونخوا جوڈیشل آفیسرز ویلفیئر فنڈ کے قیام اور دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔