دنیا میں ہر 70 میں سے ایک شخص بے گھر، لبنان میں بحران مزید سنگین

 جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1 ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے 
جنیوا (آئی این پی ) دنیا بھر میں 117.8 ملین افراد جنگ، تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و ستم کے باعث جبری بے دخلی کا شکار ہیں،  دنیا کا ہر 70 واں فرد اپنے گھر سے محروم ہے۔ یہ بات  اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی تازہ رپورٹ  میں کہی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 برس میں پہلی بار جبری بے دخلی کی مجموعی تعداد میں کمی دیکھی گئی اور 2025 میں بے گھر افراد کی تعداد میں تقریبا 4 فیصد کمی آئی ہے، یہ کمی مہاجرین اور ملک کے اندر بے گھر افراد کی بڑی تعداد میں واپسی کے باعث ممکن ہوئی۔لبنان میں تیزی سے بڑھتے بحران نے اس پیش رفت کو متاثر کیا ہے۔مارچ 2026 میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1 ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے جبکہ ایران میں 3.2 ملین افراد اندرونِ ملک بے گھر ہیں۔117.3 ملین بے گھر افراد میں 68.6 ملین اپنے ہی ممالک کے اندر بے گھر ہیں، 28.5 ملین اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت مہاجرین ہیں، 9 ملین پناہ کے متلاشی، 7.2 ملین بین الاقوامی تحفظ کے محتاج جبکہ 6 ملین فلسطینی مہاجرین ہیں۔دنیا کے 72 فیصد مہاجرین صرف 7 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جن میں وینزویلا، فلسطین، یوکرین، شام، افغانستان، سوڈان اور جنوبی سوڈان شامل ہے۔مہاجرین کی میزبانی کرنے والے بڑے ممالک میں کولمبیا، جرمنی، ترکیہ، یوگینڈا، ایران، چاڈ اور پاکستان شامل ہیں۔ دنیا بھر میں 65 فیصد مہاجرین اپنے آبائی ممالک کے ہمسایہ ممالک میں مقیم ہیں۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں 14.7 ملین سے زائد مہاجرین اور بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹے جو اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کی سب سے بڑی واپسی کی لہر ہے۔ان میں سے 92 فیصد افراد جمہوریہ کانگو، سوڈان، شام، افغانستان، یوکرین اور میانمار واپس گئے۔اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اپنے ملک یا گھروں کو واپس جانے والے بہت سے افراد اب بھی تشدد، عدم استحکام اور غیر محفوظ حالات کا سامنا کر رہے ہیں جس سے ان کی سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات برقرار ہیں۔