ریکوڈک کا 7 ارب ڈالر فنانشل کلوز مکمل، منصوبہ 2028 تک برآمدات میں 10 فیصد اضافہ کرے گا: گلوبل ڈویلپمنٹ فنانس کانفرنس سے خطاب
ریاض( آن لائن )سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گلوبل ڈویلپمنٹ فنانس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے شریک مندوبین نے عالمی سطح پر موسمیاتی چیلنجز، فنانسنگ کی ضروریات اور ترقیاتی حکمتِ عملیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، جنہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے موسمیاتی تجربات، مالی ضروریات اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر جامع روشنی ڈالی۔کانفرنس کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ عالمی تعاون کے بغیر موسمیاتی چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی لچک کو عالمی ترقیاتی فنانس کا بنیادی حصہ بنانا ناگزیر ہے، کیونکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2022 کے سیلابوں سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ مسلسل سیلابوں کے باعث رواں سال جی ڈی پی میں آدھا فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ریسکیو اور ریلیف کے لیے فوری اقدامات کیے، تاہم بحالی و تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے