وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے حالیہ اجلاس میں مہنگائی کے مقابلے اور قیمتوں کے استحکام کو حکومت کی اہم ترجیحات قرار دیا ہے، تاکہ کم آمدنی والے اور حالیہ سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے اسلام آباد میں مہنگائی کے رجحانات کا جائزہ لینے کے لیے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی۔اس اجلاس میں وزارتِ خزانہ، توانائی، پیٹرولیم، منصوبہ بندی، قومی غذائی تحفظ، اسٹیٹ بینک، بیورو آف اسٹیٹکس اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کا جائزہ لینا، وفاقی و صوبائی سطح پر ہم آہنگ پالیسی اقدامات وضع کرنا اور فوری انتظامی فیصلے کرنا ہے، تاکہ قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس میں اشیائے خورونوش کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں حالیہ تبدیلیوں پر غور کیا گیا۔ خاص طور پر، ٹماٹر، پیاز، گندم، چاول، چینی اور خوردنی تیل سمیت بنیادی اشیاء کی قیمتوں، صوبہ وار رسد اور ذخائر کی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، اور ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ چاول اور گنے کی فصل کو ہونے والا نقصان قابلِ برداشت ہے۔
وزیر خزانہ نے مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی کو روکنے کے لیے سخت نگرانی اور قیاس آرائیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ، آئندہ بوائی کے موسم کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا، اور کمیٹی نے بیج اور زرعی مداخل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، سپارکو اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر فصلوں کے نقصان کا صحیح اور بروقت اندازہ لگائیں۔کمیٹی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ اب تک کے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے اور مزید بروقت فیصلے کیے جا سکیں، تاکہ ملک میں قیمتوں کا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔