ٹرمپ 26نومبر کو سزا کا امکان

ٹرمپ کو4مقدمات کاسامنا ،ہش منی کیس میں نومنتخب امریکی صدرنیویارک کی عدالت میں پیش ہونگے 
 اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )پانچ دسمبر کو امریکی صدارتی انتخابات میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کومتعدد مقدمات کا سامنا، 26 نومبر کو نیویارک عدالت کی جانب فیصلہ سنائے جانے کا امکان، سزاہونے کی صورت میں امریکی آئین کے مطابق صدارتی استثنیٰ سے استفاد کیا جائیگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایک سزایافتہ مجرم کے طور پر منتخب ہونے والے امریکی تاریخ میں پہلے صدر ہیں جو نیویارک میں اپنے ہش منی کیس میں سزا کے منتظر ہیں جبکہ اب بھی دیگر ریاستی اور وفاقی مقدمات میں قانونی کارروائی کو روکنے کوشاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سے پہلے کبھی بھی کسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث فرد کیلئے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے انتخاب نہیں کیا گیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے کسی سابق صدر پر گزشتہ سال تک کبھی بھی مجرمانہ الزام نہیں لگایا گیا تھا۔اس وقت نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کی کوشش ہے کہ کسی طرح انکے خلاف ہونیوالی قانونی کارروائی سے روکا جائے۔ امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیم مذاکرات میں مصروف ہے۔امریکی صدر اس وقت چار مجرمانہ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ، اگرچہ ٹرمپ نے ان مقدمات میں لگنے والے الزامات کا اعتراف نہیں کیا۔ٹرمپ کو 26 نومبر کو نیویارک کے ایک کمرہ عدالت میں پیش ہونا ہے ، ٹرمپ کوفلم سٹار سٹورمی ڈینیئلز کو 2016 کی مہم کے دوران کی گئی رقم کی ادائیگی کو چھپانے کے لیے جعلی کاروباری ریکارڈ کے 34 شماروں پر سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ نیویارک کے جج ٹرمپ کے خلاف فیصلہ سنائیں گے۔ ٹرمپ کی قانونی ٹیم اس بات کو یقینی بنانے کی
 کوشش کر رہی ہے کہ سزا نہ ہو۔ ماضی میں ان کی توجہ مقدمے کی کارروائی میں تاخیر پر مرکوز رہی ہے، لیکن اب اس حکمت عملی سے واقف ذرائع کے مطابق سزاکومکمل طور پر منسوخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔توقع ہے ٹرمپ کے وکلا آنے والے دنوں میں ایک فائلنگ داخل کریں گے جس میں یہ دلیل دی جائے گی کہ بطور صدر منتخب ہونے کے ناطے وہ موجودہ صدر کی طرح آئینی تحفظات کے حقدار ہیں اور انہیں ریاستی استغاثہ کی طرف سے کسی بھی کارروائی سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔