سیز فائر کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن کی خواہش کے اظہار کے ساتھ ساتھ ماضی کے تجربات اور سیاسی حقائق پر بھی بات ہو رہی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ نریندر مودی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کا نظریہ اور ماضی کا رویہ پاکستان مخالف اور انتہاپسندانہ ہے۔حامد میر نے کہا کہ مودی منافق ہیں، وہ کبھی پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر نریندر مودی کی پاکستان آمد "سرپرائز وزٹ" کے طور پر ظاہر کی گئی، حالانکہ وہ ایک طے شدہ دورہ تھا جو اجیت دوول کی ملاقاتوں میں طے پایا تھا۔ حامد میر کے مطابق، سب کچھ پلان کے تحت ہوا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی کا نظریہ اکھنڈ بھارت پر مبنی ہے، جس میں صرف ہندوؤں کی بالادستی ہو۔ انہوں نے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے حوالے سے بتایا کہ آر ایس ایس کی پالیسی یہی ہے کہ مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنایا جائے۔ یہ کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں بلکہ اعلان شدہ نظریہ ہے۔حامد میر نے کہا کہ وہ 2019 میں بھی اسی مؤقف پر قائم تھے کہ مودی کے ساتھ جتنی مرضی بیک ڈور ڈپلومیسی کی جائے، وہ کبھی پاکستان کے لیے مخلص نہیں ہوگا۔
اینکر پرسن کے بقول، آج جب انٹرنیشنل فورسز کی مداخلت پر سیز فائر ممکن ہوئی ہے تو یہ بھارت کی بڑی سفارتی شکست ہے، کیونکہ بھارت ہمیشہ اس دعوے کے ساتھ سامنے آتا رہا ہے کہ ہم کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرتے۔پروگرام کے دوران ایک معاصر نیوز چینل کے اینکر نے جذباتی انداز میں "امن کی آشا" کا ذکر چھیڑا اور سوال کیا کہ "کیا ہم ماضی کو واپس نہیں لا سکتے؟ کیا مودی کو یہ سمجھایا نہیں جا سکتا کہ پاکستان سے دشمنی بھارت کے لیے نقصان دہ ہے؟" اس پر حامد میر نے فوری ردعمل میں واضح کیا کہ "مودی ایک منافق آدمی ہے، جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا"۔اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کی خواہاں ہے، لیکن بھارت کے ساتھ مذاکرات کی راہ اسی وقت ممکن ہے جب وہاں ایک مخلص قیادت موجود ہو۔ موجودہ بھارتی حکومت کے ساتھ دیرپا امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔