محمد سراج کا تنقید کرنے والوں کو مؤثر جواب: "والد کا آٹو رکشہ چلانا میری طاقت ہے، شرمندگی نہیں"

محمد سراج کا تنقید کرنے والوں کو مؤثر جواب:

بھارتی ٹیم کے مسلمان فاسٹ بولر محمد سراج نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ذات پات اور پیشے سے جڑی تنقید کا جذباتی اور باوقار جواب دے دیا۔

 اپنے والدین کے ساتھ ایک تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے سراج نے نہ صرف اپنے ماضی کی جدوجہد کو یاد کیا بلکہ ناقدین کو خاموش بھی کرا دیا۔

"والد کی محنت میری پہچان ہے"
محمد سراج نے لکھا:"میرے والد کا آٹو رکشہ چلانا کوئی توہین نہیں، بلکہ ان کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ میں آج اس مقام پر ہوں۔"انہوں نے بتایا کہ ان کے والد، محمد غوث، انہیں روزانہ 60 روپے دیتے تھے تاکہ وہ حیدرآباد کے اپل اسٹیڈیم میں کرکٹ کی تربیت حاصل کر سکیں۔"یہ رقم اُس وقت بہت بڑی بات تھی، لیکن والد کی قربانیوں نے میرے خوابوں کو حقیقت بنایا۔"
2019 کی تنقید کا حوالہ
سراج نے اپنے پیغام میں یاد دلایا کہ 2019 کے آئی پی ایل سیزن میں خراب کارکردگی کے بعد لوگوں نے طنزیہ تبصرے کیے، اور کہا کہ وہ کرکٹ چھوڑ کر اپنے والد کے ساتھ آٹو رکشہ چلائیں۔"ایسی باتیں دل کو تکلیف دیتی ہیں، مگر میں نے نظرانداز کیا اور اپنی محنت جاری رکھی۔"
“محنت، محبت اور وقار میری پہچان ہے”
انہوں نے واضح پیغام دیا:"میری کیپ اور جرسی اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کے کہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ چاہے آپ آٹو ڈرائیور کے بیٹے ہوں یا سافٹ ویئر انجینئر، کامیابی نہ نام پوچھتی ہے نہ پتہ، صرف محبت اور جذبہ دیکھتی ہے۔"
مداحوں کا مثبت ردعمل
محمد سراج کے اس پیغام کو سوشل میڈیا پر زبردست پذیرائی ملی ہے، لاکھوں صارفین نے ان کے حوصلے، عاجزی اور اپنے والدین سے محبت کو سراہا ہے۔ ناقدین کو جواب دینے کے بجائے مثبت انداز میں اپنے پس منظر پر فخر کرنے کا انداز سراج کو مزید مقبول بنا رہا ہے۔محمد سراج اس وقت نہ صرف بھارتی ٹیم کا اہم حصہ ہیں بلکہ اپنی کہانی سے لاکھوں نوجوانوں کے لیے رول ماڈل بھی بن چکے ہیں۔