اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں کلائمٹ اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، جس میں انہوں نے ملک میں حالیہ سیلاب کے باعث پیدا شدہ تباہ کاریوں اور انسانی و زرعی نقصانات پر روشنی ڈالی۔وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا، پنجاب اور اب سندھ کی وادیوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ ایک جامع پروگرام تیار کریں، کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز اتنے بڑے ہیں کہ پاکستان اکیلا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر اقدامات کرنے ہوں گے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ سیلاب سے زراعت میں جو نقصان ہوا ہے اس کی تفصیلات آئندہ ہفتے سامنے آئیں گی۔ ابتدائی جائزے کے مطابق ہزاروں ایکڑ زمین زیرِ آب ہے، ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کابینہ کی مشاورت کے بعد کلائمٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ فوری اقدامات شروع کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایپکس لیول پر اجلاس بلایا جائے گا، جس میں تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مکمل تبادلہ خیال کرکے ایک جامع پالیسی تیار کی جائے گی۔یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں کی جائیں، زرعی شعبے کی بحالی ممکن ہو اور مستقبل میں ایسے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔