پاور شو

 آکاش علی فرتاش
پہلی جنگِ عظیم 1914ء سے 1918ء  تک جاری رہی جو 28 جولائی 1914ء  کو شروع ہوئی اور 11 نومبر 1918ء  کو احتتام پذیر ہوئی جس میں 17 ملین افراد ہلاک اور 20 ملین زخمی ہوئے۔ سکالر طویل عرصے سے پرکھنے کے باوجود ابھی تک کوشاں ہیں کہ 1914ء  تک روسی سلطنت، فرانس، برطانوی سلطنت اور بعد میں ریاستہائیمتحدہ روسی طاقتوں کے دو جرمن سیٹ (جرمن سلطنت اور آسٹریا ہنگری) تنازع میں کیوں آئے؟ خیر اِس کی وجہ مَیں تو تلاش کر چکا ہوں لیکن آپ کو بھی بتاتا چلوں کہ 1914ء  سے پہلے کی دہائیوں میں یورپی اور نوآبادیاتی امور پر عظیم طاقتوں(اٹلی، فرانس، جرمنی، برطانیہ، آسٹریا، ہنگری اور روس) کے مابین سفارتی جھڑپوں کے بعد تنائو میں اضافہ ہوا تھا جس کے نتیجے کی جانچ پڑتال کے ذریعے سے آپ 1867ء  کے بعد سے یورپ میں ہونے والی جھڑپوں کے مطالعہ سے بخوبی معلومات اخذ کر سکتے ہیں۔ مورخین کے مطابق پہلی جنگِ عظیم کے اسباب سے کئی وجوہات ظاہر کئے گئے ہیں لیکن میری ریسرچ کے مطابق پہلی جنگِ عظیم کا اصل مقصد اپنی اپنی "پاور شو" کرنا اور اس کے بعد خود کو اپنی طاقت کے زور کی نمائش سے عالمی سطح پر  سْپر پاور منوانا تھا یاد رکھئے اس جنگ میں ایک طرف جرمنی، آسٹریا، ہنگری سلطنت، ترکی اور بلغاریہ جبکہ دوسری طرف برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی، رومانیہ، پرتگال، جاپان اور امریکہ تھے۔11 نومبر 1918ء  کو جرمنی نے جنگ بندی کر دی اور صلح کی درخواست کی جو 28 جون 1919ئکو فریقین کے مابین معاہدہ"ورسائی" ہوا۔ اب آپ سوچیں کہ پہلی جنگِ عظیم میں ان تمام ممالک کا اصل مقصد کیا اپنی"پاور شو" کرنا نہیں تھا؟ مَیں یہ سوال پوری دنیا کے لئے ایک سوالیہ نشان بنا کر چھوڑتا ہوں۔اب بات کرتے ہیں جنگِ عظیم دوم یا آپ اسے کہہ سکتے ہیں دوسری عالمی جنگ جو ایک عالمی تنازعہ تھا، اس دوسری جنگِ عظیم کا بیج اسی وقت بو دیا گیا تھا جب پہلی جنگِ عظیم کے احتتام میں معاہدہ "ورسائی" پر دستخط ہوئے تھے لیکن اس دوسری جنگِ عظیم کا باقاعدہ آغاز 1 ستمبر 1939ء  کو پولینڈ پر جرمن حملے اور ٹھیک اْس کے دو دن بعد 3 ستمبر 1939ء  کو برطانیہ اور فرانس کے، جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کے ساتھ ہوا تھا۔ 1918ء  سے 1939ء  تک کی یورپین تاریخ پر نظرثانی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ اس کا خواہاں تھا کہ ہٹلر زیادہ سے زیادہ طاقت پکڑ جائے اسی غرض سے اس نے چیکو سلوواکیہ کے حصے علیحدہ علیحدہ کئے اور پھر پورے چیکو سلوواکیہ پر جرمنیوں کا قبضہ ہونے پر بھی برطانیہ خاموش رہا کہ ہٹلر کی حکومت مضبوط ہو جائے تاکہ وہ روس پر حملہ کرے مگر جب ہٹلر نے روس پر حملہ کرنے کی بجائے پولینڈ پر حملہ کر دیا تو 
انگریز گھبرا اْٹھے اور انہوں نے پولینڈ کی حمایت میں نازی جرمنی کے خلاف ہتھیار اْٹھا دیئے۔اس دوسری جنگِ عظیم میں 61 مْلکوں  نے حصہ لیا ان کی مجموعی آبادی دنیا کی ا?بادی کا 80 فیصد تھی اور جْْوش کی تعداد ایک ارب سے زائد تھی، تقریباً 40 مْلکوں کی سرزمین اس جنگ سے متاثر ہوئی اور کروڑ کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے، سب سے زیادہ نقصان روس کا ہوا. تقریبا 2 کروڑ روسی مارے گئے لیکن مَیں یہ کہنا بہتر سمجھوں گا کہ برطانیہ کے زیرِ سائے روس کو ہر طرح کا نقصان پہنچایا گیا خیر 2 کروڑ روسی ہلاک اور اس تعداد سے زیادہ زخمی ہوئے، روس کے 1710000000  شہر اور قصبے، 70000 گائوں اور 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600000 لوگوں، سلاویہ کے 1700000، فرانس کے 600000، برطانیہ کے 375000 اور امریکہ کے 405000 افراد کام آئے۔ تقریباً 6500000 جرمن ہلاک ہوئے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے دوسرے حلیف مْلکوں کے افراد ہلاک ہوئے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے جنگ کا سب سے ظالمانہ پہلو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ کا ایٹمی حملہ تھا لیکن دنیا میں انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکیدار امریکہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اْتار دیا۔ امریکہ"پاور شو" کا مظاہرہ سرِعام کر کے بھی خود کو بیداغ اور امن سلامتی کا علمبردار کہلاتا اور کہلواتا رہتا ہے۔ آپ نے غور کیا ہو گا سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں اگر ورلڈ وار 3 کا ذکر پڑھنے یا سْننے کو  مِلتا ہے یا کبھی کوئی تبصرہ یا پیش گوئی تو اسے صرف فقدان سمجھئے کیونکہ تیسری جنگِ عظیم نہیں ہو گی یہ محض ایک عالمی سطح کا خدشہ ہے جس کو ظاہر کِیا جا رہا ہے تاکہ انسانوں کا دھیان اصل موضوع سے ہٹا کر انہیں خوف میں مْبتلا رکھا جائے کیونکہ امریکہ اب قابلِ جنگ نہیں رہا نہ ہی وہ جنگ کر کے کسی جنگ کو جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے البتہ وہ تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ظاہر کر کے دنیا کو جدید ہتھیار بنا کر صرف پیسہ اکٹھا کر رہا ہے اس لئے کہ اس کا اصل مقصد دنیا کے تمام ممالک پہ اپنا سکہ جمانا ہے لیکن یہ امریکہ کے لئے ایک ناممکن ٹاسک ہے جو اس نے خود ہی خود کو دے رکھا ہے۔ یاد رکھئے روس فی الحال دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں شمار نہیں ہوتا لیکن اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے آج بھی ایک اہم معاشی اور سیاسی طاقت کی اہمیت رکھتا ہے۔ 1991ء میں سویت یونین کے خاتمے سے پہلے، سویت یونین دنیا کی ایک بڑی طاقت تھی لیکن آج بھی روس کی معیشت قدرتی وسائل ( جیسے تیل اور گیس) صنعتوں اور زراعت پر مبنی ہے جو اسے دنیا کی بڑی معیشتوں میں ایک بناتی ہے۔ 1991ء￿  میں سویت یونین کے خاتمے سے پہلے، سویت یونین امریکہ کے ساتھ ایک بڑی عالمی طاقت کی حثیت رکھتی تھی، سویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کا نام روسی فیڈریشن رکھا گیا، ابتدائی طور پر اس کا نام روسی سویت فیڈرل سوشلسٹ ریپبلک رکھا گیا تھا۔اس بات سے امریکہ بخوبی واقف ہے کہ شاخوں سے پھول توڑ بھی لیں تو پھول پھر بھی شاخ سے پھوٹتے رہتے ہیں۔اب عام طور پر ریاستہائیمتحدہ امریکہ اور چین کو دنیا کی سْپر پاور سمجھا جاتا ہے یہ دونوں ممالک عالمی سیاست، معیشت اور عسکری طاقت کے لحاظ سے سب سے زیادہ نمایاں ہیں، ایک طویل عرصے سے امریکہ کو ہی واحد سْپر پاور تصور کیا جاتا رہا جو دنیا بھر میں اپنی عسکری طاقت، اقتصادی اثرورسوخ اور سیاسی اثرونفوذ کی وجہ سیمضبوط مقام پہ دکھائی دیتا رہا ہے لیکن چین اب تیزی سے عالمی سْپرپاور کے طور پر اْبھر رہا ہے جس کی اقتصادی ترقی اور بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتیں اْسے ایک عالمی طاقت میں نمایاں کر رہی ہیں جس سے امریکہ اپنے آنے والے وقت میں بوکھلاہٹ کا شکار رہے گا۔دنیا کے تمام ممالک عالمی امن کے لئے کسی 
بھی طرح کی حکمتِ عملی اختیار کر لیں لیکن جب تک "پاور شو" کا کھیل جاری و ساری رہے گا اْس وقت تک عالمی امن ممکن نہیں ہو سکتا، ہر سوچنے  سمجھنے والے فرد نے بخوبی اِس کھیل کا نچوڑ نکال لیا ہو گا کہ عالمی امن کی بحالی عالمی سطح پر ہی "پاور شو" کے بائیکاٹ سے ممکن ہے اور اِس بات سے بھی سب آگاہ ہیں کہ 1945ء  میں عالمی امن کی ڈگڈگی بجانے والا کون تھا اور تماشائی کون کون رہا. اب اس پہ غوروفکر کرنا نہایت ضروری ہے کہ ڈگڈگی بجانے والے کو عملاً امن کا قیام کرنا چاہیے، اگر عالمی امن کو ممکن بنانا ہے تو دنیا بھر کے تمام "پاور شوز" کرنے والوں کو اپنے اپنے خودساختہ بت گِرانے ہوں گے ورنہ انسانیت کے ساتھ جو کھیل چلتا آ رہا ہے ممکن ہی نہیں کہ وہ رْک سکے اس لئے امن کی آواز بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ عالمی امن کے لئے اپنی جدوجہد کے ذریعے اپنا اپنا حقیقی کِردار ادا کریں۔