عاصم رضا خیالوی
گاؤں میں ایک چودھری تھا — طاقت، رعب، اور اختیار کا پیکر۔ اس کی بات قانون، اس کا اشارہ فیصلہ۔ لوگ اس سے ڈرتے، اس کے سامنے سر جھکاتے، اور اس کے فیصلے کو تقدیر سمجھ کر مان لیتے۔ ایک دن وہ اپنی زمینوں کا چکر لگا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک غریب کسان کی بیٹی پر پڑی۔ بڑھاپے کی راکھ تلے دبی ہوئی خواہش کی چنگاری اچانک دہک اٹھی۔ اگلے دن چودھری نے اس کسان کو اپنے ڈیرے پر بلایا۔
کسان سہما ہوا، گھبرایا ہوا، مگر مجبور دل کے ساتھ حاضر ہوا۔ حیرت یہ کہ چودھری نے آگے بڑھ کر اسے مسکرا کر گلے سے لگایا اور کہا:
‘‘نہیں سائیں، تمہاری جگہ زمین پر نہیں، ہمارے دل میں ہے، اٹھو اور پاس بیٹھو۔’’
پورا گاؤں حیران تھا — یہ عزت، یہ نرمی، یہ اپنائیت کیوں؟ لوگ سرگوشیاں کرنے لگے، مگر کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ کسان خود بھی حیران تھا کہ آخر اس نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا ہے؟ پھر چودھری کے گارڈ نے آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا:
‘‘مبارک ہو، چودھری صاحب نے تمہاری بیٹی کو اپنے لیے پسند کر لیا ہے۔’’
یہ وہ لمحہ تھا جب کسان کے وجود پر بجلی گری۔ اسے سمجھ آ گئی کہ یہ عزت دراصل اختیار کا دوسرا چہرہ تھی۔ اب اس کے پاس ہاں کے سوا کوئی راستہ نہ تھا، کیونکہ چودھری کی طاقت صرف گاؤں تک محدود نہیں تھی، بلکہ اردگرد کے تمام علاقوں میں اس کی دھاک بیٹھی تھی۔
یہ کہانی ایک گاؤں کی ہو سکتی ہے، لیکن دراصل یہ دنیا کی سیاست کا عکس ہے۔ چودھری وہ سپر پاور ہے جو کمزور ممالک پر اپنے مفادات کے تابع فیصلے مسلط کرتی ہے، اور غریب کسان وہ ریاست جو اپنی خودمختاری کے باوجود دباؤ میں جکڑی ہوتی ہے۔ سپر پاور محبت کے لہجے میں آتی ہے، تعاون کے وعدے کرتی ہے، مگر دراصل اپنے مفادات کے لیے زمین، وسائل اور اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہی وہ ‘‘چودری کی مسکراہٹ’’ ہے جس کے پیچھے مفاد کی شرط چھپی ہوتی ہے۔
امریکہ نے افغانستان میں بیس سال کی طویل جنگ کے بعد وہاں سے اپنی موجودگی کمزور ہوتی محسوس کی، ہزاروں جانیں اور اربوں ڈالر ضائع کرنے کے بعد آخرکار اپنی فوجیں واپس بلائیں۔ مگر عالمی منظرنامہ بدل چکا تھا۔ چین مستحکم اور منظم عالمی سپر پاور کے طور پر ابھرا، اور امریکہ کو خطے میں اپنا دائرہ برقرار رکھنے کے لیے نیا حکمت عملی تیار کرنی تھی۔
افغانستان میں دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی نظریں اب ایک مرتبہ پھر اس خطے پر ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ براہِ راست فوجی مداخلت خطے میں خطرناک ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔ اردگرد کے ممالک — چین، ایران، روس اور پاکستان — خاموش مگر پختگی سے اپنے مفاد کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب پاکستان کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان، جو ہمیشہ
افغانستان میں بیک ڈور کردار ادا کرتا آیا ہے، ایک ایسی طاقت ہے جو اس خطے میں اثرورسوخ رکھتی ہے۔
امریکہ کا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان کے ذریعے خطے میں دباؤ پیدا ہو، افغانستان میں محاذ کھڑا ہو، اور پھر وہ خود بطور ثالث ‘‘امن قائم کرنے’’ کا کردار ادا کرے۔ یہ وہی حکمت عملی ہے جسے طاقتور اکثر استعمال کرتے ہیں: مسئلہ پیدا کرو، پھر حل بیچو۔
یہ منظر آج کل کے پاک-افغان تعلقات میں واضح ہوتا ہے۔ افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات، دونوں کے مشترکہ بیانیے، اور بھارت کا افغانستان کے ذریعے پاکستان سے تنازع کھڑا کرنے کا منصوبہ اسی تناظر کا حصہ ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ وہ براہِ راست پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں لڑ سکتا، اس لیے وہ افغانستان کے ذریعے اپنے مفاد کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ وہی قدیم کشمکش ہے۔ ہاں کہنے کا مطلب فوری تحفظ یا فائدہ ہو سکتا ہے، مگر اس کے بدلے میں طویل المدت خودمختاری اور آزادی کا خرچ جْڑا ہوتا ہے۔ نہ کہنا بھی الگ پیچیدگی، اقتصادی و سیاسی دباؤ، یا علاقائی تنہائی کے خطرات لا سکتا ہے۔
چودری اور کسان کی یہ کہانی دراصل دنیا کے اقتدار کا آئینہ ہے۔ طاقت جب محبت کے لبادے میں آتی ہے تو اس کے پیچھے مفاد چھپا ہوتا ہے، اور کمزور، جو اپنی بقا اور عزت کے لیے جھکتا ہے، آخرکار ہاں کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ کہانی گاؤں کی بھی ہو سکتی ہے یا عالمی فورم کی۔ سبق ایک ہی ہے — طاقت جب محبت بن کر آئے، تو اس کے پیچھے چھپی نیت کو پہچاننا ضروری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر چودری کے پیچھے مفاد، اور ہر کسان کے پیچھے مجبوری ہوتی ہے۔