تختی کی سیاست

محمد تسنیم رضا
کچھ عرصہ قبل مجھے جنوبی پنجاب کے ایک گائوں جانا پڑا، جہاں میرے ایک قریبی عزیز کا انتقال ہو گیا تھا۔ ارادہ جنازے میں شرکت کا تھا، مگر وقت کی کمی اور سفر کی طوالت کے باعث قل کی رسم تک ہی رکنا پڑا۔ دیہی مٹی کی یہ خاصیت ہے کہ یہاں رشتوں کی خوشبو بھی بسی ہوتی ہے اور غم بانٹنے کا سلیقہ بھی۔ سوگ کے موقع پر لوگ صرف آتے ہی نہیں، بیٹھتے بھی ہیں، دکھ بانٹتے ہیں اور دلجوئی کرتے ہیں۔ یہی دیرپا بیٹھک جب گفت و شنید میں بدلتی ہے تو ابتدا فصلوں کی پیداوار، پانی کی کمی یا کھاد کے مسائل سے ہوتی ہے، اور پھر معاملہ دھیرے دھیرے سیاست کی طرف نکل جاتا ہے۔

میری ہمیشہ سے یہ رائے رہی ہے کہ گائوں کے لوگ بظاہر سادہ سہی، لیکن سیاسی طور پر غیر معمولی حد تک باشعور ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں صرف خیالات کا اظہار نہیں ہوتیں، بلکہ مشاہدے، تجربے اور زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ بعض اوقات یہ سادہ مزاج افراد ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو شہر کے بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کے تبصروں سے زیادہ وزنی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے دل میں اگر کسی سیاسی رہنما کے لیے غصہ ہو تو کھل کر بولتے ہیں، اور اگر تعریف ہو تو بغیر لگی لپٹی کے سراہتے ہیں۔

ان دنوں محترمہ مریم نواز صاحبہ کی جانب سے ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم جاری تھی۔ جنوبی پنجاب میں بھی یہ موضوع زبانِ زدِ عام تھا۔ جگہ جگہ دکانیں، تھڑے اور بیرونی دیواریں اس مہم کی زد میں آ رہی تھیں۔ متاثرین میں اکثر وہ لوگ تھے جو تحریکِ انصاف سے وابستہ تھے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر کسی نے بھی مریم نواز کے اقدام کو ناحق یا ظالمانہ نہیں کہا۔ سب کا کہنا یہی تھا کہ فیصلہ درست ہے، اور اگرچہ وہ مخالف جماعت کی قیادت کر رہی ہیں، مگر قانون کا اطلاق قابلِ تحسین ہے۔

ایک شخص نے بات کرتے ہوئے کہا، ’’محترمہ ہیں تو خاتون، لیکن کام مردوں والا کیا ہے۔‘‘
بس میں واپسی پر ایک دکاندار سے نشست ہوئی۔ وہ بھی اسی جماعت کا حامی تھا جو آج بھی زیرِ عتاب ہے۔ اس کی دکان بھی تجاوزات کی زد میں آ کر متاثر ہوئی تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اْس کا کہنا تھا، ’’غلط ہم تھے، محترمہ نے بالکل ٹھیک کیا۔‘‘
یہ جملہ میرے ذہن میں دیر تک گونجتا رہا۔ ایک عام دکاندار، سیاسی مخالفت کے باوجود، اصول کی بنیاد پر حکومت کے اقدام کو سراہ رہا تھا۔ یہی کسی پالیسی کی اصل کامیابی ہے — جب مخالف کے دل میں بھی جگہ بن جائے۔


"صاف ستھرا پنجاب" محترمہ مریم نواز کا ایک قابلِ تعریف منصوبہ ہے۔ یہ صرف تجاوزات ہٹانے کی مہم نہیں، بلکہ اس سوچ کا اعلان ہے کہ ریاستی وسائل پر صرف طاقتور یا بااثر طبقے کا حق نہیں۔ یہ جگہ سب کی ہے، اور قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر یہی جذبہ، نیت اور رفتار برقرار رہی تو پنجاب کے شہروں اور دیہاتوں کا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ آج لاہور، ملتان، گوجرانوالہ یا راجن پور — ہر جگہ سے یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ یہ مہم دیر سے سہی، مگر ضروری تھی۔کئی افراد اس مہم کو اس لیے بھی سراہتے ہیں کہ برسوں بعد کسی نے طاقتوروں کے خلاف بھی ہاتھ ڈالا ہے۔ بازاروں میں لوگوں کی باتیں بدلی ہیں۔ اب لوگ یہ نہیں کہتے کہ "سب ڈرامہ ہے"، بلکہ کہتے ہیں "چلو کسی نے تو کچھ کیا"۔ اور جب عام آدمی ایسا جملہ بولے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ سیاسی بیانیہ کامیاب ہو چکا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب عوام خود درست فیصلوں کی تعریف کر رہے ہوں، تو پھر ہر منصوبے پر اپنی تختی لگانے کی کیا ضرورت ہے؟
صاف ستھرا پنجاب ہو یا ’’مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘‘، ’’راشن کارڈ پروگرام‘‘، ’’مریم نواز دستک‘‘، ’’نواز شریف آئی ٹی سٹی‘‘، یا ’’میاں نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی‘‘— کیا ہر جگہ ذاتی نام چسپاں کرنا ضروری ہے؟یاد رکھیں، اگر کام واقعی عوامی فلاح کے لیے ہو تو عوام اسے یاد رکھتے ہیں۔ چاہے تختی نہ ہو، مگر شناخت رہتی ہے۔
پرویز الٰہی کی 1122 سروس آج بھی ان کے نام سے جانی جاتی ہے، حالانکہ کوئی تختی ہر شہر میں نہیں لگی۔ موٹروے آج بھی نواز شریف سے منسوب ہے، کیونکہ اصل شہرت تختی سے نہیں، عوام کے دلوں سے آتی ہے۔یہ روش کہ ہر اسکیم پر اپنے یا اپنے رہنما کے نام کی تختی لگا دی جائے، عوام کے شعور کی توہین ہے۔ یہ ان کے ٹیکس سے بنی ہوئی سہولتوں کو ذاتی احسان بنا کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اور اگر کسی منصوبے سے ’’قائداعظم‘‘ کا نام ہٹا کر کسی سیاسی شخصیت کا نام چسپاں کیا جائے، تو یہ سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کا ہر شہری یہ سمجھتا ہے کہ قائداعظم ایک نظریہ ہے، ایک امانت ہے، اور اس سے بڑھ کر کسی کا نام نہیں ہو سکتا۔یہ عمل نہ صرف سیاسی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ قومی ورثے کی توہین بھی۔ سیاست میں سب کچھ بیانیہ ہوتا ہے، تختی نہیں۔ اصل تختی وہ تصویر ہے جو عوام کے دل میں بنتی ہے۔ جو کام دل جیت لے، وہی سیاست ہے۔ اگر آپ واقعی عوام کی خدمت کے جذبے سے کوئی منصوبہ بنائیں، بغیر ذاتی تشہیر کے، تو لوگ خود آپ کو پہچان لیں گے۔ورنہ ہر کام پر اپنے یا اپنے لیڈر کے نام کی مہر لگا کر آپ دراصل یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ مقصد عوام نہیں، ذاتی شہرت ہے۔یہ سچ ہے کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ نے پنجاب میں چند جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں۔ ان کے بعض اقدامات سیاسی مخالفین کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ لیکن اگر وہ واقعی دلوں میں جگہ بنانا چاہتی ہیں، تو انہیں بیانیے سے زیادہ عمل پر توجہ دینا ہوگی۔ تختیاں وقتی تاثر دیتی ہیں، مگر اصل پہچان وہ ہوتی ہے جو عوام کی زندگی میں بہتری سے آتی ہے۔عوام کے مسائل کے حل، روزگار کی فراہمی، تعلیم و صحت کی سہولیات، اور انصاف کے نظام میں بہتری — یہ سب کچھ تختی سے نہیں، خدمت سے جڑتا ہے۔ اور آپ یہ خدمت کیجیے، پھر دیکھیے گا کہ باشعور عوام خود فیصلہ کریں گے کہ کس کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، اور کون صرف تختی تک محدود رہ جائے گا۔