گندم پالیسی 2026 کی منظوری ،نجی شعبے کی قیادت میں 25لاکھ میٹرک ٹن اسٹریٹجک ذخائر قائم کیے جائینگے
لاہور ( خصوصی رپورٹ)حکومتِ پنجاب نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں گندم پالیسی 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت نجی شعبے کی قیادت میں 25لاکھ میٹرک ٹن اسٹریٹجک گندم ذخائر قائم کیے جائیں گے۔ اس پالیسی کا مقصد کسانوں کو تحفظ، غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور صارفین کو قیمتوں کے استحکام کے ذریعے ریلیف فراہم کرنا ہے۔گندم پالیسی 2026 ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت نافذ کی جائے گی، جس میں حکومت براہِ راست گندم کی خریداری نہیں کرے گی اور نہ ہی سرکاری خزانے سے کوئی رقم خرچ ہوگی۔ گندم کی خریداری نجی شعبے کے ایگریگیٹرز کے ذریعے شفاف طریقے سے ہوگی، جبکہ کسانوں سے گندم 3,500 روپے فی 40 کلوگرام کے بینچ مارک ریٹ پر خرید کر براہِ راست ڈیجیٹل ادائیگیاں کی جائیں گی۔پالیسی کے تحت حکومت کا کردار ریگولیٹری نگرانی تک محدود ہوگا، جبکہ نگرانی کے لیے ڈویڑنل اسٹریٹجک ریزرو مینجمنٹ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے مطابق یہ پالیسی ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالے بغیر غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے اور گندم کی مرحلہ وار سپلائی کے ذریعے صارفین کے لیے قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جائے گا۔