ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری حکومت مخالف مظاہرے مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات سے مختلف ایرانی شہروں میں احتجاج میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ احتجاج کے دوران کئی شہروں میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے 26 بینکوں، 25 مساجد، 2 ہسپتالوں اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنوں پر بھی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔میڈیا کے مطابق مظاہرین نے ایمبولینسوں پر بھی حملے کیے اور بسوں سمیت شہریوں کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے اب تک تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے۔ٹائم میگزین کے مطابق تہران کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دارالحکومت کے صرف 6 ہسپتالوں میں 217 مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سے زیادہ تر افراد گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے، تاہم ایرانی حکام نے تاحال ہلاکتوں کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
امریکی جریدے کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی نے کم از کم 63 افراد کی ہلاکت کی رپورٹ دی ہے، جن میں 49 عام شہری شامل ہیں۔دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں، کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر سابق امریکی صدر ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اتحاد برقرار رکھیں اور امریکی صدر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔ ایران نے اقوام متحدہ سے ریاستی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی مداخلت روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ داخلی معاملات پر امریکی بیانات مداخلت اور دھوکہ دہی کے مترادف ہیں۔پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج کو تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی مداخلت ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے خلاف ہے اور ایرانی عوام کی اکثریت ریاست اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔