سندھ حکومت نے زراعت کے شعبے میں ممکنہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ کے لیے فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سیکریٹری زراعت اور دیگر حکام نے اس منصوبے کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے اس موقع پر کہا کہ سندھ میں سیلاب، بارشوں، بیماری، گرمی، کیڑے لگنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلوں کو جو نقصان ہو سکتا ہے، اس کے پیش نظر کراپ انشورنس کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے کسانوں کی مالی مدد کے لیے "بینظیر ہاری کارڈ" متعارف کرایا ہے اور اب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس کارڈ کی مدد سے کسانوں کو کراپ انشورنس کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔اس منصوبے کے تحت سندھ میں "پولار ایڈوائزرز" کسانوں کو سپورٹ فراہم کریں گے اور چاول، کپاس اور گندم کی فصلوں کو انشورڈ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر زراعت نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت سندھ نے کراپ انشورنس کے ایک سال کے لیے پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے جو 2025 کے خریف سیزن سے شروع ہوگا۔
اس پائلٹ پروجیکٹ کے دوران، پولار ایڈوائزرز سندھ کے کسانوں کو ایریا ییلڈ انڈیکس انشورنس کے تحت مدد فراہم کریں گے۔ اگر یہ پائلٹ پروجیکٹ کامیاب رہا تو اس پروگرام کو مزید 27 اضلاع میں بھی شروع کیا جائے گا اور گنے سمیت دیگر فصلوں کو بھی انشورنس کی سکیم میں شامل کیا جائے گا۔پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز پہلے مرحلے میں لاڑکانہ اور گھوٹکی اضلاع سے کیا جا رہا ہے، جہاں ٹرائل کی بنیاد پر بیمہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد سندھ کے کسانوں کو قدرتی آفات سے بچانے اور ان کے مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔