400 ارب کی کٹوتی وفاقی حکومت کو فنڈز کی حصولی میں مشکلات کی وجہ سے کی گئی‘ بجٹ میں کمی سے ترقیاتی کام کھٹائی میںپڑ گئے
اسلام آباد (آن لائن)رواں مالی سال کے 6 ماہ میں وفاقی منصوبوں کا برا حال ، ترقیاتی بجٹ1500 ارب سے کم کر کے1100 ارب روپے کر دیا گیاجس سے کئی ترقیاتی منصوبے متاثرہونے کا خدشہ ہے اورترقیاتی فنڈز ریلیز کرنے میں کئی دشواریاں سامنے آئی ہیں جس سے مزید ترقیاتی کام کھٹائی میں پڑ گئے۔دستاویزات کے مطابق 1500 ارب سے 2024-25 کا ترقیاتی فنڈ 1100 ارب روپے کردیا گیا، 400 ارب کی کٹوتی وفاقی حکومت کو فنڈز کی حصولی میں مشکلات کی وجہ سے کی گئی، جولائی تا دسمبر 2024 ترقیاتی پروگرام کو صرف 148 ارب دستیاب ہوئے، اس عرصہ میں فنڈز کی فراہمی 14.2 ارب روپے ماہانہ تک محدود رہی، بجٹ ٹارگٹ کے مطابق ماہانہ فنڈز فراہمی 94 ارب روپے ماہانہ ہونا تھی ، آئی ایم ایف پیکیج کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لئے رقوم کی فراہمی پر کٹ لگانا لازم ہوگیا تھا، گزشتہ مالی سال جولاء تا دسمبر ترقیاتی منصوبوں کے لیئے 150 ارب روپے جاری کیئے گئے تھے، 2023-24 کا ترقیاتی بجٹ 940 ارب روپے تھا، دستاویزمیں مزید بتایا گیا کہ نیشنل موٹروے کے لیئے صرف 23 ارب 60 کروڑ روپے فراہم کئے گئے، اس رقم میں سے این ایچ اے صرف 19 ارب 70 کروڑ روپے خرچ کرسکا،توانائی کا شعبہ 95.5 ارب میں سے صرف 4 ارب روپے خرچ کرسکا،کلائمیٹ چینج سے تحفظ کے منصوبوں پر ساڑھے 5 ارب میں سے صرف 11 کروڑ روپے خرچ ہوسکے،نیشنل فوڈ سیکورٹی کے لیئے 24 ارب میں سے صرف 61 کروڑ روپے خرچ کیئے جاسکے