ایران مذاکرات نہیں کرتا تو اس کے لیے بہت برا ہوگا، جنوبی سوڈان پر سفری پابندیاں برقرار رہیں گی،ترجمان
واشنگٹن (آئی این پی )امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنا چاہتے ہیں، وہ ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں، اگر ایران مذاکرات نہیں کرتا تو اس کے لیے بہت برا ہوگا۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات ہفتے کے روز سے عمان میں شروع ہو رہے ہیں، دنیا کو مزید محفوظ بنانے کے لیے یقینی بنانا ہوگا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بناسکے، دونوں ممالک کے مابین براہ راست مذاکرات پہلی مرتبہ شروع ہو رہے ہیں۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو یہ ایران کے لیے بہت برا ہوگا، مذاکرات کا آغاز ہورہا ہے، صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں۔ تاہم ایران کو کبھی جوہری ہتھیاروں تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ترجمان محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان اور یمن میں ورلڈ فوڈ پروگرام بند کردیا ہے کیوں کہ دہشت گرد ان پروگراموں سے فائدہ اٹھا رہے تھے، امریکا کو محفوظ بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ویزے منسوخ کیے جارہے ہیں، جنوبی سوڈان پر سفری پابندی عائد کرچکے ہیں، یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک جنوبی سوڈان امریکا میں مقیم اپنے غیر قانونی شہریوں کو واپس نہیں لے گا۔ اس فیصلے پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔