سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کا ضبط ٹوٹ گیا، میڈیا سے گفتگو کرتے آبدیدہ ہوگئیں
ٹویٹ پر 17 سال کی سزا ، آخر یہ کون شخص ہے جو میرے بچوں سے اس طرح بدلہ لے رہا ہے
اسلا م آباد(آئی این پی ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں سنائی گئی سزاں کی معطلی کی درخواستوں پر سماعت 23 ستمبر2026 تک ملتوی کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزاں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔جسٹس اعظم خان نے درخواستوں پر سماعت کی، اس موقع پر درخواست گزاروں کی جانب سے وکلا فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے قانونی مشیر اور پراسیکیوٹر عدالت میں موجود نہیں تھے جس کے باعث مقدمے کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔عدالت نے این سی سی آئی اے کے قانونی مشیر اور پراسیکیوٹر کی عدم حاضری کے باعث کیس کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔دوسری جانب ہائیکورٹ میں بیٹی ایمان مزاری اور داماد ہادی علی چٹھہ کیس کی سماعت کے بعد سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کا ضبط ٹوٹ گیا اور میڈیا کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ان کی بیٹی سے ذاتی انتقام لے رہے ہیں اور عدالتی نظام سے انصاف کی تمام امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ اس دوران ڈاکٹر شیریں مزاری اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھیں بھر آئیں، انہوں نے نظامِ عدل پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کسی قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت نہ دیں تو اسے قانون کے مطابق 14 سال کی قید ملتی ہے، یہاں محض ایک ٹویٹ کرنے پر 17 سال کی سزا سنائی جا رہی ہے، آخر یہ کون شخص ہے جو میرے بچوں سے اس طرح بدلہ لے رہا ہے؟