جنوبی پنجاب میں سیلاب سے تباہی

 شیر شاہ بند توڑنے کا فیصلہ،کشتی الٹنے ، سیلابی ریلوں سے 10افراد جاں بحق،ریلوے ٹریک، ملتان مظفر گڑھ روڈ آج سے بند 
راوی ، ستلج اور سندھ میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار،بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا دوسرا یلا ہیڈ محمد والا پہنچ گیا 
 رحیم یار خان میں کشتی الٹنے سے2 خواتین سمیت 3 جاں بحق،مختلف واقعات میں مزید 7اموات ، شدید بارشوں کا الرٹ جاری، 
ملتان ، جلال پور پیر والا ،وہاڑی،رحیم یارخان، میلسی، لاہور ، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)ملتان کو خطرہ ،شیر شاہ بند توڑنے کا فیصلہ کرلیا گیا ،کشتی الٹنے ، سیلابی ریلوں سے 10افراد جاں بحق ہو گئے،ریلوے ٹریک، ملتان مظفر گڑھ روڈ آج سے بند کیا جا رہا ہے ،تفصیلات کے مطابق سیلابی ریلے کے باعث ملتان اور مظفرگڑھ کی شہری آبادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ شہری آبادی کو محفوظ بنانے کے لئے کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور محکمہ آبپاشی پر مشتمل کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ شیر شاہ بند کو توڑ کر دبائو کم کیا جائے تاکہ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان روکا جا سکے۔بند توڑنے سے ریلوے ٹریک بند ہو جائے گا جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت رک جائے گی،ملتان مظفرگڑھ روڈ کو صبح ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا، دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب داخل ہو گیا ہے۔ ہیڈ محمد والا پر اس وقت پانی کا بہائو ساڑھے چار لاکھ کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ پانچ لاکھ چون ہزار کیوسک کا ایک بڑا سیلابی ریلہ بھی دریائے چناب سے گزر رہا ہے۔ سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے کہا ہے کہ ملتان مظفرگڑھ روڈ کو صبح ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا، جبکہ عوام کی سہولت کے لیے ہیڈ محمد والا روڈ کھول دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شگاف ڈالنے سے پہلے ان بستیوں کو خالی کرا لیا جائے گا جو پانی سے متاثر ہو سکتی ہیں، اور شہری انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ہیڈ محمد والا کے بالائی علاقے میں دریائے راوی اور دریائے چناب کے سنگم پر دوسرا سیلابی ریلہ پہنچ گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 60 کلو میٹر اپ اسٹریم پر پانی کی سطح 442.60 فٹ ریکارڈ کی گئی جو پہلے سیلابی ریلے کی زیادہ سے زیادہ سطح 442.90 فٹ سے محض 0.30 فٹ کم ہے۔ اس مقام پر پانی کی سطح فی الحال مستحکم ہے۔ہیڈ محمد والا کے قریب حساس مقام "اکبر فلڈ بند پر دوسرے ریلے کی سطح 413.22 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو پہلے ریلے کی زیادہ سے زیادہ سطح 413.90 فٹ سے 0.68 فٹ کم ہے، تاہم اس وقت یہاں پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے۔بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستانی حکام سے رابطہ کرتے ہوئے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، جلالپور پیر والا کے 100 دیہات زیر آب چکے ، موہانہ سندیلہ میں اسماعیل نامی نوجوان سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہوگیا ہے۔ ریسکیو 1122 پنجاب کے ترجمان نے بتایا ہے کہ جلال پور پیر والا میں رات بھر سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، خان بیلہ کی ملحقہ آبادیوں کرم والی اور دراب پور سے 143 لوگوں کو مڈ نائیٹ آپریشن سے ریسکیو کیا گیا۔ملتان میں مجموعی طور پر 10ہزار810 افراد کو ملتان کے سیلابی علاقوں سے ریسکیو کیا جا چکا، ضلعی انتظامیہ ساڑھے 3 لاکھ افراد اور 3 لاکھ سے زائد جانوروں کا پیشگی انخلا کروا چکی ۔ مظفرگڑھ میں دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے سیکڑوں دیہات زیر آب آگئے،رنگ پور میں پانی کا نیا ریلا پہنچ گیا۔ دریائے راوی، ستلج اور چناب کے آبی ریلوں سے ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے، چناب میں ہیڈ تریموں پر بہا ئو5 لاکھ 43 ہزار کیو سک ہے، راوی میں بھی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے ۔جھنگ میں دریائے چناب کا دوسرا ریلا داخل ہونے سے 300 سے زیادہ دیہات متاثر اور تقریبا 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ مظفرگڑھ کے علاقے عظمت پور میں بھی بند ٹوٹنے سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ادھر بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب داخل ہوچکا ، پانی بستیوں میں داخل ہوگیا، پنجاب میں تباہی کے بعد سیلابی ریلے سندھ کی جانب بڑھ گئے۔ گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا جہاں پانی کا بہا 4 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔ راجن پور میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے تیزی سے زیر آب آرہے ہیں ، 23 دیہات زیر آب آ چکے، متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے ،ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیامتاثرین کے انخلا آپریشن کی نگرانی کیلئے موجود رہے۔ ملتان کے علاقے میں 29،جلالپور پیروالا میں 17،تحصیل شجاع آباد میں 10 بوٹس مسلسل انخلا آپریشن کے لئے استعمال میں لائی جارہی ہیں، وزیراعلیٰ مریم نواز نے انخلا آپریشن میں معاونت پر پاک آرمی اور ایئر فورس کا شکریہ ادا کیاہے ادھر رحیم یارخان کی تصیل لیاقت پور کے علاقہ موضع نوروالا میں بھی سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے دوران کشتی سیلابی پانی میں الٹ گئی جس پر 28کے قریب مرد،خواتین اوربچے سوار تھے، پانی میں ڈوبنے سے 2خواتین سمیت3افراد جاں بحق ہو گئے،13افراد کو بچا لیا گیا ،جاں بحق خواتین کی شناخت شاہدہ بی بی ، سکینہ کے نام سے ہوگئی ،حادثہ میں لاپتہ ہونیوالوں میں بچے بھی شامل ہیں ،تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے ، قبل ازیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کشتی حادثہ کوافواہ قراردیاگیاتھا۔ ضلع وہاڑی میں ستلج کے کٹائو کے باعث اعظم واہ اور ٹبی جھمبیلیاں والی کے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، بستی ممتازآباد کو جانے والی سڑک میں 30 فٹ سے زائدچوڑا شگاف پڑ گیا اور درجنوں بستیاں زیر آب آگئیں،اسی دوران بستی ممتازآباد کارہائشی 40 سالہ امین جھبیل شگاف عبور کرنے کی کوشش کے دوران سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہوگیا ، ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر انتہائی بلند سیلاب ہے۔ ضلع بھر کے 93 مواضعات متاثر ہوگئے ،مجموعی طور پر 74 ہزار 434 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں بہاولنگرمیں گزشتہ شب رات گئے 2 بجے دریائے ستلج کے بھوکاں پتن پْل پر نوجوان سیلفی لیتے ہوئے پائوں پھسلنے سے دریا میں جا گرا ، سیلاب اور پانی کے تیز بہاو کے باعث نوجوان کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔۔بہاولپور میں ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اور سیلاب ناردرن بائی پاس کے قریب پہنچ کر مزید کئی بستیوں میں داخل ہوگیا ۔چنیوٹ میں سیلابی ریلے سے 100 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے، متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ قصور میں 130 دیہات زیر آب آگئے، ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہوئی، بہاولنگر میں بْھوکاں پتن کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آگیا، ہیڈ سلیمانکی پر بند ٹوٹنے سے بستی اللہ بخش، بستی جانن والی اور ماڑی میاں صاحب سمیت مزید آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا۔اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، 32 دیہات کے تمام سرکاری و نجی سکولوں کی چھٹیوں میں 8 تا 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی۔ مزید برآں جھنگ اور گردونواح میں کل رات سے جاری بارش نے سیلاب کی تباہ کاری میں اضافہ کر دیا، سیلاب متاثرین کیلئے قائم خیمہ بستی بھی پانی میں ڈوب گئی۔ترجمان ریسکیو 1122نے بتایا کہ پنجاب بھر کے تمام اضلاع کے سیلابی علاقوں سے حکومت پنجاب 2 ملین افراد اور 15لاکھ جانوروں کا محفوظ انخلا کروا چکی،پنڈی بھٹیاں میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جہاں 111 دیہاتوں کے تعلیمی ادارے 12 ستمبر تک بند رہیں گے۔دریں اثناء￿  پنجاب میں سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے 12 ستمبر سے سرویشروع کیا جا رہا ہیاور سیلاب متاثرین کو ریلیف پیکج دینے سلسلے میں ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کی زیر صدارت گزشتہ روز پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس لاہور میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیلاب سے نقصانات اور متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے امداد فراہم کی جا رہی ہے ۔ ۔ سندھ میں گزشتہ روز روہڑی کے علاقہ میں گھر کی دیوار گرنے سے 2 بچوں سمیت 3 افراد جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوگئے جبکہ ریلوے آفیسر کلب کے قریب امام بارگاہ کی چھت گرنے سے مئوذن جاں بحق ہوگیا۔ جبکہ پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ روز بھی کئی شہروں میں بار ش ہوئی اور 24 گھنٹوں کے دوران جہلم میں 96 ملی میٹر،جھنگ 77، نورپور تھل 70، خانیوال 55، لیہ 42، راولپنڈی 34، ساہیوال 32،منگلا 29، چکوال 26، ڈیرہ غازی خان 21، فیصل آباد20 اور اوکاڑہ میں 17 ملی میٹر بارش ہوئی ۔مون سون بارشوں کا 10واں سپیل آج 9 ستمبر تک جاری رہے گا۔ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عرفان کاٹھیا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مون سون بارشوں کا دسواں اسپیل جاری ہے۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں تاریخ کی سب سے زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے بارش وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ہیڈ تریموں سے آنے والے ریلے کے باعث ملتان اگلے اڑتالیس گھنٹے تک ہائی رسک پر ہے۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ فلڈ بندوں پر اگلے چوبیس گھنٹوں میں پانی کا دبائو بڑھے گا۔ پنجاب بھر میں ریسکیو کشتیوں نے ستائیس ہزار سے زائد ٹرپس کئے ہیں۔