سپریم کورٹ رولز 2025 کو لِوِنگ ڈاکومنٹ قرار دیا گیا، رولز کا جائزہ اور ترامیم جاری رہیں گی، فل کورٹ میں مختلف تجاویز اور مشاورت پر اتفاق ہوا:فل کورٹ کا اعلامیہ
نظام انصاف میں آرٹیفیشل انٹیلجنس کا استعمال ہونا چاہیے مگر ہم اس کیلئے فوری طور پر تیار نہیں‘ ججز پر چھٹیوں میں کہیں جانے پر کوئی پابندی نہیں : چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے نظام انصاف میں آرٹیفیشل انٹیلجنس کا استعمال ہونا چاہیے مگر ہم اس کے لیے ابھی فوری طور پر تیار نہیں ہیں۔نئے عدالتی سال کے موقع پر سپریم کورٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ نئے عدالتی سال کی اس تقریب کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا، 2004 سے اس تقریب کو باقاعدگی سے منانا شروع کیا، یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم سب اپنی کارکردگی پر نگاہ ڈالیں۔ان کا کہنا تھا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس کی، ہم نے پانچ بنیادوں پر اصلاحات شروع کیں، ڈیجیٹل کیس فائلنگ کا نظام وضع کیا گیا، ای سروسز کا آغاز کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام انصاف میں آرٹیفیشل انٹیلجنس کا استعمال ہونا چاہئے، ہم مگر اس کیلئے ابھی فوری طور پر تیار نہیں ہیں، آج اعلان کر رہا ہوں کہ ہم نے اندرونی آڈٹ بھی کروایا ہے، ججز پر چھٹیوں میں کہیں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، عدالتی کام کے دوران چھٹیوں کیلئے ضابطہ بنایا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ریڈ زون میں ہوتے ہوئے ججز کو زیادہ پروٹوکول کی ضرورت نہیں، اسلام آباد یا ریڈزون سے باہر یا کسی خطرے کے پیش نظر اضافی سیکیورٹی مہیا کی جائے گی، تمام ججز نے سیکیورٹی سے متعلق ضابطے پر اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ہر کوئی بات کرتا ہے، 61 ہزار فائلیں ڈیجیٹلی اسکین ہوں گی اور پراجیکٹ چھ ماہ میں مکمل ہوجائے گا، کیسز کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے مقرر کیا جائے گا، ڈیجیٹل اسکیننگ پراجیکٹ کامیاب ہونے پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال شروع ہوگا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ سب کی ہے، فیسیلیٹیشن سینٹر میں تمام انفارمیشن دی جائے گی، فیسیلیٹیشن سینٹر یکم اکتوبر سے مکمل طور پر کام شروع کردے گا، ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو موثر بنانا ہے، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیحات میں شامل ہے، ہمیشہ قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رولز کو ایک دن میں نہیں بنایا جاسکتا، پروپوزلز کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے، کمیٹی جو تجویز کرے گی اس کے مطابق آگے چلیں گے، جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست سال بھر چیف جسٹس کے کمرے میں پڑی رہتی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ میرے ساتھ سیکیورٹی کی 9 گاڑیاں ہوتی تھیں، میں نے کہا ریڈ زون میں عدالت اور رہائش ہے اتنی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں، اپنی سیکیورٹی کی گاڑیاں کم کر کے صرف دو رکھی ہیں‘چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کیخلاف 64 شکایات کا فیصلہ ہو چکا،دریں اثناء عدالتِ عظمیٰ کے 156واں فل کورٹ اجلاس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کردیا گیا۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے رولز میکنگ کمیٹی کی کوششوں کو سراہا،کمیٹی نے سپریم کورٹ رولز 1980 کے جائزے پر کام کیا، ججز اور وکلا کی رائے سے جامع ڈرافٹ تیار کیا گیا،جسٹس شاہد وحید نے فل کورٹ کو رولز پر بریفنگ دی۔اِسی طرح فل کورٹ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد اتفاق رائے کیا، سپریم کورٹ رولز 2025 کو لِوِنگ ڈاکومنٹ قرار دیا گیا، رولز کا جائزہ اور ترامیم وقتاً فوقتاً جاری رہیں گی، فل کورٹ نے مختلف تجاویز اور مشاورت پر اتفاق ہوا۔قبل ازیںجسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے فل کورٹ میں شرکت نہیں کی تاہم ان چاروں ججز نے دو صفحات پر مشتمل خط چیف جسٹس پاکستان کے نام تحریر کیا۔خط کی نقول سپریم کورٹ کے تمام ججزاور رجسٹرار سپریم کورٹ کو ارسال کی گئی ہیں۔خط کے متن کے مطابق عوامی اعتماد ہی عدالت کی اصل بنیاد ہے، اپنی بحث عوام کے سامنے لا کر ہی اعتماد کو مضبوط کیا جا سکتا ہے، ورکنگ پیپر میں تضاد، ایک طرف کمیٹی کے ذریعے نفاذ کی بات، دوسری طرف کہا گیا کہ قواعد پہلے ہی نوٹیفائی ہو چکے ہیں،چیف جسٹس نے 12 اگست کو ججوں کو بتایا کہ رولز سرکولیشن کے ذریعے منظور اور 9 اگست کو گزٹ میں شائع ہو چکے ہیں،اس کے باوجود مزید ترامیم کے لیے تجاویز طلب کی گئیں اور فل کورٹ اجلاس بلایا گیا۔