مذاکرات بہت اچھے ہو رہے:امریکی صدر ،48 گھنٹوں میں معاہدیکا امکان:ذرائع
قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ، سپین نے اسرائیل پر اسلحہ کی پابندی کا قانون منظور کر لیا
واشنگٹن،قاہرہ،غزہ ،میڈرڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے کے اختتام پر مشرق وسطیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدہ انتہائی قریب ہے۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا شاید میں اتوار کو جاؤں، مذاکرات بہت اچھے اور مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔تاہم کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ مصر میں جاری مذاکرات میں امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف، جیرڈ کشنر ،اسرائیلی ،امریکی، قطری اور ترک نمائندے شریک ہیں۔ حماس اور اسرائیل یرغمالیوں اور قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کر چکے۔سینئر حماس عہدیدار نے بتایا غزہ جنگ بندی معاہدہ بہت قریب ہے تاہم قیدیوں کے تبادلے کی فہرست پر بات چیت جاری ہے۔ حتمی اتفاق باقی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ایک اور امدادی بحری بیڑے کو روک لیا، جس میں صحافی، کارکن اور طبی عملہ سوار تھا۔سپین کی پارلیمان نے اسرائیل پر اسلحہ پابندی کے حکومتی فیصلے کو قانون کا درجہ دے دیا۔قانون کے مطابق اسرائیل کو دفاعی ساز و سامان کی فروخت اور در آمد مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔ کاتالان فٹبال کلب بارسلونا نے اسرائیلی باسکٹ بال ٹیم کو یوروکپ میچ سے قبل پالا بلا ئوگرانا کورٹ پر پریکٹس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اسرائیل کے انتہا پسند قومی سلامتی وزیر ایتمار بن گویر نے بدھ کو مسجد اقصیٰ کے متنازع علاقے کا دورہ کیا، حماس،اردن اور سعودی عرب دورے کی شدید مذمت کی ہے۔