سموگ بیماریاں بانٹنے لگی

تحریر: گوہر سعید

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں رواں برس بھی موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی سموگ نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سموگ کی مقدار انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس پانچ سو سے زائدریکارڈ ہونے پر لاہور آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا۔پنجاب حکومت نے 17 نومبر تک سکولز اور کالجز کو بند کردیا ہے۔ماہرین کے مطابق سموگ کی صورتحال موسم سرما میں شدت اختیار کر جاتی ہے مگر درحقیقت یہ وہ آلودگی ہے جو سارا سال فضا میں موجود رہتی ہے۔یونیورسٹی آف شکاگو میں دنیا بھر کے ممالک میں فضائی آلودگی کے بارے میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کے باعث پاکستان کے شہریوں کی زندگی میں اوسط نو ماہ کی کمی ہو رہی ہے۔
سموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی ہے جو انسانی آنکھ، دماغ اور جسم کو تاحد نگاہ متاثر کرتی ہے، سموگ کو زمینی ’’اوزون‘‘ بھی کہا جاتا ہے،یہ ایک ایسی بھاری اور سرمئی دھند کی تہہ کی مانند ہو تی ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔سموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس مرکب یا آمیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین جیسے مختلف زہریلے کیمیائی مادے بھی شامل ہوتے ہیں اور پھر فضا میں موجود ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا سموگ کی وجہ بنتا ہے۔جو چیزں سموگ کے بننے اور پھیلنے پھولنے کا سبب بنتی ہیں وہ ہے بارشوں میں کمی، فضلوں کو جلایا جانا، کارخانوں گاڑیوں کا دھواں،درختوں کا بے تحاشا کٹاؤاور قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا کرنا،یہ سموگ کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں دھند اور سموگ میں فرق معلوم ہونا چاہئے کیونکہ سموگ کی موجودگی اور اس کے مضر اثرات کے بارے میں جاننے کے بعد ہی ہم اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔دھند اور سموگ میں بظاہر کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا لیکن دھند اور سموگ کی نوعیتیں، کیفتیں مختلف ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ہوا میں موجود بخارات کم درجہ حرارت کی وجہ سے کثیف ہو جاتے ہیں تو یہ ماحول میں سفیدی مائل ایک موٹی تہہ بنا دیتے ہیں جسے دھند کہا جاتا ہے، اسی دھند میں دھواں اور مختلف زہریلے کیمیائی مادے شامل ہو جائیں تو یہ دھند مزید گہری اور کثیف ہو جاتی ہے جسے سموگ کہاجاتا ہے۔ دراصل سموگ میں بنیادی طور پر ایک زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو پرٹیکولیٹ مادہ 2.5 کہلاتا ہے اور یہ پی ایم 2.5 ایک انسانی بال سے تقریباً چار گنا باریک ہوتا ہے یہ مادہ ہوا کے ذریعے انسانی پھیپھڑوں میں بآسانی داخل ہو کر پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں کیساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے کینسر تک کا باعث بن سکتا ہے۔سموگ انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے، نزلہ، کھانسی، گلا خراب، سانس کی تکلیف اور آنکھوں میں جلن وہ ظاہری علامات ہیں جو سموگ کے باعث ہر عمر کے شخص کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ جبکہ سموگ انسانی صحت کو ایسے نقصانات بھی پہنچاتی ہے جو بظاہر فوری طور پر نظر تو نہیں آتے لیکن وہ کسی بھی شخص کو موذی مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں ڈاکٹروں کے مطابق بچے اور بوڑھے افراد سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ برائے صحت نے ایئر کوالٹی انڈیکس کے حوالے سے رہنما اصول مرتب کیے ہیں جن کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی شہر یا علاقے کی فضا میں موجود پی ایم 2.5 ذرات کی تعداد 25 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ایئر کوالٹی انڈیکس فضائی آلودگی میں موجود کیمائی گیسز، کیمائی اجزا، مٹی کے ذرات اور نہ نظر آنے والے وہ ان کیمائی ذرات کی مقدار ناپنے کا معیار ہے جنھیں پارٹیکولیٹ میٹر (پی ایم) کہا جاتا ہے۔ ان ذرات کو ان کے حجم کی بنیاد پر دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی پی ایم 2.5 اور پی ایم 10ایئر کوالٹی انڈیکس کے معیار کا تعین فضا میں موجود مختلف گیسوں اور پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات) کے تناسب کو جانچ کر کیا جاتا ہے۔ ایک خاص حد سے تجاوز کرنے پر یہ گیسیں فضا کو آلودہ کر دیتی ہیں۔پاکستان میں ایئر کوالٹی انڈیکس کا معیار کیا ہے،ایئر کوالٹی انڈیکس کے معیار کا تعین دو طریقوں یا پیمانوں سے کیا جاتا ہے۔ ایک یہ کہ اس ملک کی ایئر کوالٹی انڈیکس میں پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات) کی تعداد 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ کتنی ہونی چاہیے۔ اور دوسرا یہ کہ اس ملک نے ایئر کوالٹی انڈیکس کو کس اور کتنی درجہ بندیوں میں تقسیم کر رکھا ہے یعنی فضائی آلودگی کی تعداد کیا ہو گی۔لاہور شہر کی ائیر کوالٹی کئی مرتبہ 300 سے 500 کے درمیان رہ چکی ہے جو ہر عمر کے شخص کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ سموگ سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور دعوے فضائی آلودگی حالیہ دنوں میں سموگ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر۔ لاہور شہر اور اس کے گردونواح میں زہریلہ دھواں چھوڑتی گاڑیاں اور فیکٹریاں بھی چل رہی تھی اور فصلوں کی باقیات بھی جلائی جا رہی ہیں۔ سموگ سے بچنے کے دو طریقے ہیں پہلاجو ہر انسان اپنے طور پر اختیار کرسکتا ہے وہ یعنی مناسب حفاظتی لباس پہنایا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب آپ باہر جائیں تو ماسک پہنیں یا دوسرے آلات استعمال کریں جو آپکو نقصان دہ ذرات سے پھیلنے والی آلودگی سے بچاتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ جس قدر ممکن ہو سموگ کے اثرات سے بچا جائے تاہم اگر آپ کی رہائش زیادہ آلودگی والے علاقے میں ہے تو پھر ضروری ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کیلئے دوسرے طریقے بھی اختیار کریں۔ یعنی دل کے مریض گھر وں میں رہ کر اسٹیم لیں، ٹھنڈے مشروبات اور کھانے پینے کی کھٹی ترش اشیاسے پرہیز کریں، اگر کسی کو دل یا پھیپھڑوں کا دائمی مسئلہ ہے، جیسے دمہ یا اس جیسی کوئی دیگر بیماری ہے تو پھر ڈاکٹر سے اپنے آ پ کو فضائی آلودگی سے بچانے کے طریقوں کے بارے میں مشورہ کریں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر آپ کو سانس لینے میں مدد کے لیے کوئی دوا تجویز کر سکتا ہے۔اگر کسی کے سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن، یا کھانسی کی علامات ہیں تو ڈاکٹر سے ملیں، بچوں کو آلودگی کی بلند سطح کے اثرات بڑوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتے ہیں اس لیے بچوں کے لیے حفاظتی اقدامات کرنا بے حد ضروری ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سموگ سے بچاؤ کے لیے اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں، جب تک آلودہ دھوئیں والا موسم ختم نہیں ہو جاتا تب تک کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں، خاص کر سانس کی تکلیف میں مبتلا افراد ایسے موسم میں ہرگز باہر نہ نکلیں، ایسے موسم میں جسمانی ورزش کرنے سے بھی دریغ کیا جائے اور اپنی گاڑیوں کو کھڑے رکھنے کی پوزیشن کے دوران انجن کو چلتا مت چھوڑیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے بچنے کے لیے جہاں حکومت کو آلودگی کے خاتمہ میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں ماحول دوست ایندھن کا استعمال نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ اس بارے میں ضروری ہے کہ حکومت دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرے جو لوگ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چلاتے ہیں ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ہم سے ہر شخص خود بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مرمت کروائے تاکہ فضا میں آلودگی نہ پھیلے۔نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں پنجاب اور خاص کر لاہور میں سموگ عام ہوجاتی ہے۔ حکومت اس سے نمٹنے کے لیے ہر سال پنجاب بھر میں سموگ ایمرجنسی نافذ کردیتی ہے ایک ماہ کے لئے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں طلبا و طالبات کیلئے ماسک لازمی قراردے دیا جاتا ہے یا پھر کچھ دنوں کیلئے سکولوں کالجوں میں چھٹیاں دے دی جاتی ہیں۔کچھ دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر بھی توجہ دلائی جاتی ہے۔ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینے میں سموگ سے بچاؤ کے لیے جتنے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں یہ سب عارضی اقدامات ہیں اصل بات یہ ہے کہ لاہور جو پاکستان کا دل ہے، پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی، تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت ہے اس شہر میں ٹریفک بے ہنگم ہوچکی ہے، لاہور کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، لاہور جو کبھی باغوں کا شہر تھا اب یہ شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔ ہریالی کا فقدان ہے، آبادی کے تناسب سے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گندگی پھیلانے والوں کے خلاف کوئی کروائی نہیں کی جاتی۔اگر چہ پنجاب حکومت ہر سال لاہور کو سموگ زدہ شہر قراردیتی ہے اس مناسبت سے وقتی طور پر کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن اقدامات موقع محل اور ضروریات کی نسبت قطعی ناکافی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اگلے سال سموگ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سموگ کی شدت بڑھتی جارہی ہے لہٰذا اب ضروری ہوچکا ہے کہ انتظامیہ لاہور کی آبادی کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے۔