ن لیگ، پیپلز پارٹی اور اتحادی نورا کشتی کی روایت دہرا رہے ہیں، قانون سازی کو بلڈوز کر کے تمام آئینی و اخلاقی تقاضے پامال کئے جا رہے ہیں
اپوزیشن کو پس پردہ رکھ کر پارلیمانی اصولوں سے انحراف کیا جا رہا ہے، ترمیم کے تحت بنیادی انسانی حقوق مزید متاثر ہوں گے:اجلاس کا اعلامیہ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ مشکوک قرار دے کر مسترد کر دیا۔پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر کی زیر صدرات پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹرعلامہ ناصر عباس،نورالحق قادری،فلک ناز،ڈاکٹر ہمایوں مہمند و دیگر شریک ہوئے۔پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سینیٹ سیشن سے متعلق حکمت عملی مرتب کی گئی، سینیٹ سیشن میں بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کے کیسز اعلیٰ عدلیہ میں نہ لگانے سے متعلق احتجاج کیاجائیگا۔پارلیمانی پارٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور اتحادی نورا کشتی کی روایت دہرا رہے ہیں، قانون سازی کو بلڈوز کر کے تمام آئینی و اخلاقی تقاضے پامال کیے جا رہے ہیں۔ پارلیمانی پارٹی کے مطابق اپوزیشن کو پس پردہ رکھ کر پارلیمانی اصولوں سے انحراف کیا جا رہا ہے، ترمیم کے تحت بنیادی انسانی حقوق مزید متاثر ہوں گے، اپوزیشن نے عدلیہ کی آزادی اور اختیار میں کمی کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔