جمہوریت کہاں رہتی ہے؟

سردار حیدر احمد علی
کچھ دن پہلے ایک چھوٹے سے قصبے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ گلی کے نکڑ پر چند بزرگ بیٹھے تھے۔ سیاست پر گفتگو جاری تھی۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسی محفل ہو جہاں سیاست کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ میں بھی کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ گیا۔میں نے ایک بزرگ سے پوچھا، ‘‘بابا جی! الیکشن میں ووٹ ڈالتے ہیں؟’’وہ مسکرائے۔ ان کی آنکھوں میں برسوں کے تجربے کی تھکن تھی۔ بولے، ‘‘بیٹا! ووٹ تو ہمیشہ ڈالتے ہیں، لیکن ہمارا محلہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔’’یہ ایک مختصر جواب تھا، مگر اس کے اندر پاکستان کی جمہوریت کی پوری داستان چھپی ہوئی تھی۔ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں جمہوریت کا بہت ذکر ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر ووٹ مانگتی ہیں، حکومتیں جمہوریت کے نام پر اپنی مدت پوری کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں اور اپوزیشن جمہوریت کے نام پر احتجاج کرتی ہے۔ لیکن اگر ایک عام شہری سے پوچھا جائے کہ جمہوریت اس کی زندگی میں کہاں موجود ہے تو شاید اس کے پاس کوئی واضح جواب نہ ہو۔

آخر جمہوریت ہوتی کیا ہے؟

کیا جمہوریت صرف انتخابات کا نام ہے؟ کیا یہ صرف پارلیمنٹ کی عمارتوں، اسمبلیوں کی تقاریر اور ٹی وی ٹاک شوز تک محدود ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو شاید پاکستان دنیا کی کامیاب ترین جمہوریتوں میں شمار ہوتا کیونکہ یہاں تقریروں، جلسوں اور سیاسی نعروں کی کوئی کمی نہیں۔اصل جمہوریت تو وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک شہری کی روزمرہ زندگی شروع ہوتی ہے۔اس گلی سے جہاں گٹر ابل رہا ہو۔اس سڑک سے جہاں بارش کے بعد پانی کھڑا ہو جاتا ہو۔اس محلے سے جہاں پینے کا صاف پانی نایاب ہو۔اس بازار سے جہاں تجاوزات اور ٹریفک نے زندگی اجیرن کر رکھی ہو۔اگر ریاست ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کر سکتی تو پھر جمہوریت کے بڑے بڑے دعوے عام آدمی کے لیے محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے۔ یہاں جمہوریت کے بارے میں بہت بات کی گئی مگر جمہوریت کی بنیادوں کو ہمیشہ کمزور رکھا گیا۔ ان بنیادوں کا نام مقامی حکومتیں ہیں۔دنیا کی ہر مضبوط جمہوریت میں مقامی حکومتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں شہریوں کے روزمرہ مسائل مقامی ادارے حل کرتے ہیں۔ وہاں ایک شہری کو سڑک بنوانے یا اسٹریٹ لائٹ لگوانے کے لیے کسی وزیر یا رکن اسمبلی کے دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔لیکن پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔یہاں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اکثر انہی کاموں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں جو دراصل بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ کہیں سڑک کا افتتاح ہو رہا ہے، کہیں نالی کی تعمیر کا اعلان ہو رہا ہے اور کہیں پانی کی اسکیم کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا نظام اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر چل رہا ہو۔ایک رکن اسمبلی کا کام قانون سازی ہے، پالیسی سازی ہے، ریاستی امور پر نگرانی رکھنا ہے۔ لیکن جب وہ نالیاں صاف کروانے اور گلیاں پکی کروانے میں مصروف ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں نظام میں بنیادی خرابی موجود ہے۔یہ خرابی صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔پاکستان میں تقریباً ہر سیاسی جماعت اپوزیشن میں رہتے ہوئے مقامی حکومتوں کی حمایت کرتی ہے۔ وہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بات کرتی ہے، عوامی شرکت کا نعرہ لگاتی ہے اور بلدیاتی انتخابات کے حق میں دلائل دیتی ہے۔مگر اقتدار میں آتے ہی یہی جماعتیں بدل جاتی ہیں۔اچانک انہیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ مقامی حکومتیں ان کی طاقت کم کر دیں گی۔ وسائل تقسیم ہو جائیں گے، فیصلے عوام کے قریب چلے جائیں گے اور مرکزیت کمزور پڑ جائے گی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کبھی مستقل بنیادوں پر مستحکم نہیں ہو سکا۔کبھی انتخابات ملتوی ہو جاتے ہیں۔کبھی اختیارات واپس لے لیے جاتے ہیں۔کبھی مالی وسائل روک دیے جاتے ہیں۔اور کبھی اداروں کو اتنا کمزور کر دیا جاتا ہے کہ ان کا وجود صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتا ہے۔یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں آئین عوامی نمائندگی اور جمہوری شرکت کی بات کرتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ ہم مقامی حکومتوں سے خوفزدہ کیوں ہیں؟کیا ہمیں اپنے ہی شہریوں پر اعتماد نہیں؟کیا ہمیں یہ خدشہ ہے کہ اگر عوام کو حقیقی اختیار مل گیا تو روایتی سیاسی ڈھانچے تبدیل ہو جائیں گے؟اگر ایسا ہے تو پھر مسئلہ صرف نظام کا نہیں، سوچ کا بھی ہے۔طاقت کو اپنے پاس رکھنا آسان ہوتا ہے۔طاقت کو تقسیم کرنا مشکل ہوتا ہے۔مگر جمہوریت کا حسن ہی طاقت کی تقسیم میں ہے۔
جمہوریت وہاں زندہ رہتی ہے جہاں فیصلے عوام کے قریب ہوں، جہاں منتخب نمائندے جوابدہ ہوں اور جہاں شہری خود کو ریاست کا حصہ محسوس کرے۔بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر ایک عام آدمی خود کو فیصلوں کے مرکز سے بہت دور محسوس کرتا ہے۔وہ ووٹ تو دیتا ہے مگر اس کے بعد اس کی آواز کہیں کھو جاتی ہے۔وہ مسائل تو بیان کرتا ہے مگر ان کا حل کسی فائل، کسی دفتر یا کسی سیاسی مصلحت میں گم ہو جاتا ہے۔اسی لیے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔یہ فاصلہ صرف سڑکوں اور عمارتوں سے کم نہیں ہوگا۔یہ فاصلہ صرف ترقیاتی منصوبوں سے بھی کم نہیں ہوگا۔یہ فاصلہ تب کم ہوگا جب شہری محسوس کرے گا کہ اس کی رائے اہم ہے، اس کا نمائندہ اس کے قریب ہے اور اس کے مسائل کا حل اسی کے شہر اور اسی کے محلے میں موجود ہے۔آج پاکستان معاشی مشکلات، گورننس کے بحران اور انتظامی کمزوریوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان میں سے بہت سے مسائل کا حل کسی بڑے سیاسی نعرے میں نہیں بلکہ ایک مؤثر، خودمختار اور بااختیار بلدیاتی نظام میں پوشیدہ ہے۔جمہوریت کا سفر پارلیمنٹ سے شروع نہیں ہوتا۔یہ ایک گلی سے شروع ہوتا ہے۔ایک محلے سے شروع ہوتا ہے۔ایک یونین کونسل سے شروع ہوتا ہے۔اور جب تک اس گلی میں رہنے والا شہری خود کو بااختیار محسوس نہیں کرے گا، تب تک جمہوریت صرف تقریروں میں زندہ رہے گی، عوام کی زندگیوں میں نہیں۔شاید اسی لیے آج بھی وہ بزرگ یاد آتے ہیں جو گلی کے نکڑ پر بیٹھے تھے۔انہوں نے کوئی سیاسی فلسفہ بیان نہیں کیا تھا۔انہوں نے کوئی آئینی بحث نہیں چھیڑی تھی۔انہوں نے صرف ایک جملہ کہا تھا:’’بیٹا! ووٹ تو ہم ہمیشہ ڈالتے ہیں، مگر ہمارا محلہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔‘‘
شاید پاکستان کی جمہوریت کا سب سے بڑا سوال آج بھی یہی ہے کہ کیا ہم واقعی عوام تک جمہوریت پہنچانا چاہتے ہیں، یا پھر ہم اسے ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں تک محدود رکھنا چاہتے ہی