دفاعی مثلث

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب تینوں بغیرپائلٹ فضائی نظاموں میں سرمایہ کاری بڑھارہے ہیں۔پاکستان اورسعودی عرب نے ترک ڈرونزکے حصول کی جانب بھی قدم بڑھایا، جبکہ پاکستان نے براق،شاہپراورشاہپرٹوجیسے نظام مقامی طورپرتیارکیے ہیں۔شاہپرٹوطویل فاصلے کی نگرانی اوراسلحہ برداری جبکہ براق مسلح کارروائیوں کیلئے استعمال ہوتاہے۔
پاکستان نے چین کے ساتھ دفاعی تعاون کے ذریعے اپنی نگرانی،انٹیلی جنس اورڈرون صلاحیتوں کومزیدوسعت دی۔مئی2025کے بعد بھارت نے پاکستان پرترک ساختہ ڈرون استعمال کرنے کادعویٰ کیا۔دوسری طرف ترکی کودنیاکے نمایاں فوجی ڈرون سازممالک میں شمارکیاگیاہے۔
بیریکٹارٹی بی2 مختلف جنگی اورنگرانی مشنوں میں استعمال ہوچکاہے؛اکنسی زیادہ وزن کے ہتھیاراورجدیدسینسرلے جانے کی،جبکہ انکااوراکسنگورطویل دورانیے کے انٹیلی جنس، نگرانی اورریکی مشنوں کیلئے موزوں ہیں۔یوں ترکی نے ڈرون کومحض ایک ہتھیار نہیں بلکہ اپنی دفاعی صنعت کی عالمی شناخت بنادیاہے۔ترکی کی مقامی دفاعی صنعت کی وسعت کاثبوت یہ ہے کہ وہ بغیرپائلٹ نظام صرف اپنی فوج کیلئے نہیں بناتابلکہ متعدد ممالک کوبرآمد بھی کرتاہے۔اس اعتبارسے ممکنہ سہ فریقی تعاون میں ترکی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کلیدی قوت بن سکتاہے۔
سعودی عرب بھی نگرانی اورحملہ آوردونوں مقاصدکیلئے ڈرون استعمال کرتاہے،جن میں چینی سی فور،اورونگ لونگ سیریزشامل ہیں۔ وژن2030کے تحت ریاض مقامی ڈرون صنعت کوفروغ دیناچاہتاہے تاکہ درآمدی انحصارکم ہو۔یہ نظام سرحدی نگرانی،اہم تنصیبات کے تحفظ،انٹیلی جنس اورعسکری کارروائیوں میں استعمال کیے جارہے ہیں۔
اگران تینون ملکوں کی بحری قوت کاعددی موازنہ کیاجائے توبحری میدان میں ترکی کوواضح عددی برتری حاصل ہے۔دستاویزکے مطابق ترکی کے پاس192بحری اثاثے اور تقریباایک لاکھ بحری اہلکارہیں؛پاکستان کے پاس120 اثاثے اور57,500اہلکار،جبکہ سعودی عرب کے پاس32بحری اثاثے اور13,500اہلکارہیں۔ترک بحریہ مشرقی بحیرہ روم،بحیرہ اسوداوربحیرہ ایجیئن میں سرگرم ایک بڑی علاقائی قوت ہے۔اس کے بیڑے میں13آبدوزیں،17 فریگیٹس،  کورویٹس اورمتعدد میزائل برداروگشتی جہازشامل ہیں۔رئیزکلاس آبدوزیں اے آئی پی ٹیکنالوجی سے مزین ہیں جبکہ ٹی سی جی اناڈولو اسے ایک نمایاں ایمفیبیئس صلاحیت فراہم کرتاہے۔ مقامی ملجم پروگرام کے ذریعے اے ڈی اے کورویٹس اوراسٹف کلاس فریگیٹس تیارکیے گئے ہیں۔
پاکستانی بحریہ کے پاس آٹھ آبدوزیں اوربارہ فریگیٹس بیان کیے گئے ہیں۔جون2026میں پہلی ہنگورکلاس آبدوزکی کراچی آمدکو پاکستان ۔چین دفاعی تعاون کاایک اہم سنگِ میل قراردیا گیا۔یہ جدیدسینسرز،اے آئی پی ٹیکنالوجی اوربہتر اسٹیلتھ خصوصیات سے آراستہ ہے۔ پاکستان کے پاس اگوسٹا کلاس آبدوزیں بھی ہیں،جبکہ آبدوزی قوت کوملکی بحری دفاع اورمستقبل کی جوہری بازدارمنصوبہ بندی میں مرکزی مقام حاصل ہے۔اس کی فریگیٹس میں چینی ساختہ ایف22پی سورڈ،ترک ڈیزائن پرمبنی طغرل اوربابرکلاس بھی شامل ہیں۔
رائل سعودی نیوی ترکی اورپاکستان سے نسبتاچھوٹی ہونے کے باوجودخلیج اوربحیرہ احمرکے دفاع میں اہم کرداررکھتی ہے۔اس کے پاس بارہ جدید فریگیٹس بتائے گئے ہیں جن میں الریاض،المدینہ اورالجبیل کلاس شامل ہیں۔سعودی بحری حکمت عملی آبدوزوں کے بجائیجدیدسطحی جنگی جہازوں،ساحلی دفاع اورفضائی ومیزائل تحفظ پرمرتکزہے۔
ان تینوں ممالک میں صرف پاکستان واضح طورپرجوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے۔ترکی نیٹوکے جوہری شراکتی نظام کاحصہ ہے، جبکہ سعودی عرب کاذکر سویلین جوہری پروگرام کے تناظرمیں کیاگیاہے۔یہی تفاوت سہ فریقی دفاعی تصورکوایک خاص تزویراتی ابہام بھی عطا کرتا ہے۔پاکستان کے جوہری ذخیرے کااندازہ تقریبا ً170 وار ہیڈ ز بتایا گیاہے۔پاکستان زمینی،فضائی اوربحری اجزاپرمشتمل نیوکلیئرٹرائیڈکووسعت دے رہاہے۔زمینی اورفضائی صلاحیتیں نسبتاپختہ ہیں،جبکہ سمندرسے جوہری حملے کی صلاحیت اب بھی ترقی کے مراحل میں ہے۔پاکستان کے اہم جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں میں شاہین1، شاہین2،غوری،غزنوی،نصراوربابرکروزمیزائل شامل کیے گئے ہیں۔ ابابیل کوایم آئی آروی صلاحیت کیلئے تیارکیاجارہاہے،تاہم جنوری2026 تک اس کی عملی تعیناتی کے شواہد موجود نہ ہونے کاذکرہے۔ 
ایم  آئی آروی دراصل جدید بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی ایک ایسی صلاحیت ہے جس میں ایک روایتی بیلسٹک میزائل عموماایک ہی وارہیڈکوایک مقررہ ہدف تک پہنچاتاہے اوران وارہیڈزکوالگ الگ اہداف کی طرف روانہ کیاجاسکتاہے لیکن ایم  آئی آروی نظام میں میزائل فضا کی بلند سطح تک پہنچنے کے بعدمتعددری انٹری وہیکلزکوجداکرتاہے،جوبعدازاں مختلف سمتوں میں اپنے اپنے اہداف کی جانب بڑھتے ہیں۔اسی خصوصیت کی وجہ سے ایم  آئی آروی کسی بھی میزائل دفاعی نظام کے کیلئے نسبتاًزیادہ پیچیدہ چیلنج بن جاتاہے،کیونکہ ایک ہی میزائل سے بیک وقت کئی وارہیڈ نمودار ہوسکتے ہیں۔
بابر3کے ذریعے سمندرسے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش بھی جاری بتائی گئی ہے۔ترکی کے پاس اپنا قومی جوہری ذخیرہ نہیں،لیکن وہ نیٹوکے جوہری شراکتی نظام میں شامل ہے۔امریکی بی61/ -12جوہری بم یورپ کے مختلف نیٹواڈوں،بشمول ترکی،میں تعینات ہیں تاہم ان کی ملکیت اورتحویل امریکاکے پاس رہتی ہے۔ترکی خودکسی قومی جوہری وارہیڈیاجوہری میزائل کامالک نہیں۔
ستمبر2025کے پاکستان۔سعودی سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے حوالے سے مکہ معاہدہ میں پاکستان کی جوہری صلاحیت کوسعودی عرب تک باضابطہ طورپرتوسیع دینے کی صریح تصدیق موجودنہیں۔بعض پاکستانی بیانات نیاس امکان پربحث ضرورپیداکی،لیکن رپورٹ کے مطابق واضح ثبوت دستیاب نہیں۔یہی ابہام شایدجدیدبازدارحکمت عملی کی وہ دھندہے جس میں بعض اوقات غیریقینی خودایک سیاسی ہتھیاربن جاتی ہے۔سعودی عرب کے پاس روایتی بیلسٹک میزائل قوت موجود ہے۔ سعودی عرب نے ماضی میں چینی ڈی ایف3میزائل حاصل کیے جبکہ ڈی ایف21کی موجودگی سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔تاہم اس میزائل قوت کوروایتی دفاعی صلاحیت کاحصہ سمجھاجاتا ہے، جوہری ہتھیاروں کانہیں۔
اس پورے عسکری منظرنامے کاحاصل شاید اسی آخری نکتے میں پوشیدہ ہے۔سعودی عرب کے پاس سرمایہ،جدید عالمی ٹیکنالوجی تک رسائی اورفضائی قوت ہے،لیکن تربیت یافتہ افرادی قوت،طویل جنگی تجربے او ادارہ جاتی مضبوطی کے بعض پہلوں میں کمی بیان کی گئی ہے۔پاکستان افرادی قوت،جنگی تجربہ اورجوہری بازدارصلاحیت رکھتاہے،مگرریاستوں  محدودبجٹ،وسائل کی کمی،جدیدمقامی ٹیکنالوجی میں پابندیاں اورمسلسل علاقائی وداخلی سلامتی کے دباؤاس کے پاؤں کی زنجیرہیں۔ترکی جدیدمقامی ٹیکنالوجی،دفاعی صنعت،نیٹو کی رکنیت اورابھرتی بحری قوت رکھتاہے،مگراگلی نسل کے مغربی لڑاکا طیاروں تک اس کی رسائی میں رکاوٹیں موجود ہیں۔
یہیں آکرتصویرکے منتشررنگ ایک نقش میں ڈھلنے لگتے ہیں۔سعودی سرمایہ،پاکستانی عسکری تجربہ اورجوہری بازدارقوت،اورترک صنعت وٹیکنالوجی ایک دوسرے کی کمزوریوں
کوکسی حدتک پوراکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔خوددستاویزکاحاصل بھی یہی ہے کہ ان تینوں ممالک کی مختلف خصوصیات مل کرایک باہم تکمیلی دفاعی ساخت پیداکرسکتی ہیں۔
ریاستوں کے تعلقات میں دائمی دوستی سے زیادہ دائمی مفادکی حکمرانی ہوتی ہے،مگرتاریخ یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ جب مفادات کے ساتھ تہذیبی قربت،سیاسی اعتماد اورمشترکہ خطرات جمع ہوجائیں تومحض وقتی اتحادکبھی کبھی ایک بڑے تزویراتی نظام کی بنیاد بن جاتا ہے۔پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے اس ممکنہ دفاعی محورکی اصل قوت اس امرمیں نہیں کہ تین جھنڈے ایک تصویرمیں دکھائی دیں، بلکہ اس میں ہے کہ تین مختلف صلاحیتیں پاکستان کاتجربہ اورجوہری بازدارسرمایہ،ترکی کی صنعت وٹیکنالوجی،اور سعودی عرب کی مالی وتوانائی،ایک منظم،قابلِ عمل اوردیرپادفاعی حکمت عملی میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
اگریہ اشتراک صرف اعلامیوں اورتقاریب کی حدتک رہاتوتاریخ کے دفترمیں ایک مختصرحاشیہ بن کررہ جائے گا؛لیکن اگراسے مشترکہ تربیت،دفاعی پیداوار،انٹیلی جنس تعاون، ڈرون ومیزائل ٹیکنالوجی،بحری سلامتی،فضائی دفاع اورصنعتی خودکفالت سے جوڑدیا گیاتویہ مسلم دنیاکے دفاعی تصورمیں ایک نئے باب کاآغازبن سکتاہے۔مگرطاقت کاحسن صرف اس کے حصول میں نہیں،اس کے ضبط میں ہے؛ہتھیار کی عظمت صرف اس کی مارمیں نہیں،اس ذمہ داری میں ہے جس کے تحت اسے نیام میں رکھاجاتاہے۔جنگ کی تیاری اگرامن کی حفاظت کرے توقوت رحمت بن جاتی ہے،اوراگرقوت عقل، عدل اورتدبر سے جداہوجائے تووہی تیغ اپنے حامل کے ہاتھ بھی زخمی کرسکتی ہے۔اسی لیے اس سہ فریقی دفاعی تصورکاسب سے بڑا امتحان میدانِ جنگ نہیں بلکہ سیاسی بصیرت،ادارہ جاتی ہم آہنگی،تکنیکی خودانحصاری اورمشترکہ مفادات کودیرپاحکمت عملی میں ڈھالنے کی صلاحیت ہوگی۔زمانہ اپنی عدالت لگائے گا،تاریخ اپنافیصلہ لکھے گی،اورآنے والی نسلیں دیکھیں گی کہ یہ اتحادمحض حالات کی کوکھ سے جنم لینے والاایک عارضی بندوبست تھایامسلم دنیاکے دفاعی شعورمیں ایک نئے عہدکی پہلی دستک۔