سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخِ اقوام میں بعض معاہدے محض کاغذپرثبت ہونے والی سطریں نہیں ہوتے،بلکہ وہ آنے والے زمانوں کے سیاسی تیور،عسکری ترجیحات اورتہذیبی خوداعتمادی کے رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔طاقت کی بساط پرریاستیں صرف توپ وتفنگ،زروزراداور لشکر واسلحہ ہی سے نہیں پہچانی جاتیں؛ان کی اصل قوت اس وقت سامنے آتی ہے جب جغرافیہ، معیشت،ٹیکنالوجی،عسکری تجربہ اور سیاسی ارادہ ایک دوسرے کے دست وبازوبن جائیں۔
مکہ معاہدہ پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے باہمی دفاعی اشتراک کودنیاکس وسیع تناظرمیں دیکھتی ہے۔اس مثلث کے ایک سرے پرپاکستان کی جوہری قوت اورجنگی تجربہ، دوسرے پر سعودی عرب کی مالی وتوانائیاتی طاقت،اورتیسرے پرترکی کی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت اورنیٹوسے وابستگی موجودہے۔یوں یہ اتحاد محض تین ریاستوں کااجتماع نہیں بلکہ تین مختلف نوعیت کی قوتوں کے باہمی اتصال کاتصورپیش کرتاہے۔پاکستان،ترکی اورسعودی عرب مسلم دنیاکے عسکری منظرنامے میں تین جداگانہ مگراہم ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔پاکستان کی شناخت بڑی بری فوج،جنگی تجربے اورجوہری بازدارقوت سے ہے؛ترکی اپنی جدید دفاعی صنعت،ڈرون ٹیکنالوجی،بحری استعداداور نیٹو سے تعلق کے باعث ممتازہے؛جبکہ سعودی عرب وسیع مالی وسائل،جدید مغربی اسلحے اور خطے کی اہم فضائی قوت کے سبب نمایاں مقام رکھتاہے۔ان تینوں کااجتماع ایک ایسی تزویراتی تکمیل کاامکان پیداکرتاہے جس میں ایک کی کمی دوسرے کی قوت سے پوری ہوسکتی ہے۔
پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت ایک مشترکہ دفاعی بندوبست وجودمیں آیا،جس کی بنیادی روح یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی ایک دستخط کنندہ ملک پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصورکیاجائے گا۔اسے نیٹوکے آرٹیکل5سے مماثل اصول قراردیاگیاہے۔یہ تصوراگرعملی قالب اختیارکرے توگویا تین مختلف جغرافیائی خطوںجنوبی ایشیا ،جزیرہ نمائے عرب اوراناطولیہ کے دفاعی مفادات ایک ہی زنجیر کی کڑیوں میں بندھ جاتے ہیں۔معاہدے کے مفہوم کی ایک تعبیریہ ہے کہ جنوبی ایشیامیں پاکستان کسی بڑے تصادم کاسامنا کرے توسعودی عرب اورترکی اس کے دفاع میں معاون ہوں،جبکہ شام یامشرقی بحیرہ روم میں ترکی کسی جنگی بحران میں مبتلاہوتوپاکستان اورسعودی عرب بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔تاہم معاہدہ ایک دوسری تعبیر بھی ہے کہ عسکری شرکت براہِ راست میدانِ جنگ میں اترنے کے بجائے اسلحہ،انٹیلی جنس اورسفارتی حمایت تک محدود رہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنزسے تجزیے کے مطابق معاہدے کے صرف اڑتالیس گھنٹے بعدسعودی شہرجازان میں آرامکوکی ایک آئل ریفائنری پرحوثی حملے نے گویااس کے عملی مفہوم کوپہلی آزمائش کے سامنے لاکھڑاکیامگرسعودی قیادت نے اپنے نئے شراکت داروں سے فوری عسکری مدد طلب نہیں کی۔اس واقعے کومشرقِ وسطی کے اس بدلتے ہوئے سیاسی نظام کی علامت سمجھاگیاجس میں امریکا کے کئی دہائیوں پرمحیط قائدانہ کردارمیں کمی کےآثا دکھائی دے رہے ہیں۔
اعدا وشمارطاقت کی پوری داستان نہیں کہتے،مگرعسکری وزن کاایک پیمانہ ضرورفراہم کرتے ہیں۔پاکستان کی فعال مسلح افواج تقریبا 660,000،ترکی کی481,000اورسعودی عرب کی247,000اہلکاروں پرمشتمل ہیں۔دفاعی اخراجات میں سعودی عرب سب سے آگے ہے:2025میں تقریبا83ارب ڈالر،اسی سال ترکی کے دفاعی اخراجات30 ارب ڈالراورپاکستان کے11.9ارب ڈالربتائے گئے ہیں۔یوں عدد کی کثرت پاکستان کے پاس،مالی وسعت سعودی عرب کے پاس اورصنعتی پھیلاؤترکی کے پاس دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کی بری فوج اپنی تعداد،عسکری تنظیم اورسازوسامان کے لحاظ سے دنیا کی بڑی افواج میں شمارکی جاتی ہے۔دستاویزکے مطابق اس کے پاس2,570سے زیادہ مین بیٹل ٹینکس اور4,600سے زائد توپ خانے کے نظام موجودہیں۔الخالد،الخالد ون،الضراراور ٹی80یوڈی اس کے بکتر بند دستوں کے نمایاں ستون ہیں۔یہاں خاص اہمیت اس امرکی ہے کہ الخالد اورالخالد ون مقامی دفاعی صنعت کی اس صلاحیت کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے پاکستان کومکمل درآمدی انحصار سے کسی حدتک باہر نکالا۔
پاکستانی بری فوج کے ساتھ اس کی فضائیہ بھی دفاعی توازن میں بنیادی کرداررکھتی ہے۔مختلف ذرائع فضائیہ کے جنگی طیاروں کی تعداد331سے465کے درمیان بتاتے ہیں۔ اس کے نمایاں طیاروں میں ایف16،پاکستان اورچین کامشترکہ جے ایف17تھنڈر،چینی جے10 سی،اورمیراج تھری وفائیوشامل ہیں۔جے ایف17بلاک3 اور جے10 سی کی شمولیت کوطویل فاصلے پرمؤثرکارروائی اورجدید فضائی جنگ کی صلاحیت میں اضافے کاذریعہ قراردیاگیاہے۔
یادرہے کہ مئی2025کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے جے10سی لڑاکا طیاروں سے بھارت کے متعدد جنگی طیارے مارگرائے، اوربعض عالمی ذرائع سے بھی اس دعوے کی تائیدکاذکرکیاگیاہے۔خودامریکی صدرنیعالمی میڈیامیں اس کودرجنوں مرتبہ دہرایاہے۔اس واقعیسے پاکستان کی فضائی قوت کے عملی استعمال اورچینی ساختہ جدیدنظاموں کی اہمیت کے تناظرمیں پاکستان کی فضائی قوت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
پاکستان کی ایک اہم قوت محض اسلحے کی تعدادنہیں بلکہ اس کاعملی جنگی تجربہ بھی ہے۔سابق قبائلی علاقوں میں شدت پسندتنظیموں کے خلاف طویل کارروائیوں نے بری وفضائی افواج کوایسامیدانِ عمل فراہم کیاجوکتابی تربیت سے کہیں مختلف ہوتاہے۔یادرہے کہ پاکستان کی روایتی اورجوہری فورسزبڑی حدتک بھارت سے درپیش خطرات کوسامنے رکھ کرتشکیل دی گئی ہیں،جبکہ چین اس کا مرکزی دفاعی شراکت دارہے۔پاکستان کی دفاعی صنعت مکمل خودکفالت کے درجے تک نہیں پہنچی،تاہم اس کے پاس جنگی طیاروں کی دیکھ بھال، مرمت اورمتعدد دفاعی پلیٹ فارمز،ہتھیاروں اورگولہ بارودکی تیاری وبرآمد کی صلاحیت موجود ہے۔یہی صنعتی بنیادکسی بھی طویل مدتی دفاعی اتحاد میں پاکستان کومحض سپاہی فراہم کرنے والی ریاست کے بجائے ایک جزوی صنعتی شراکت داربھی بناتی ہے۔
ترکی نیٹوکے ان ممالک میں شامل ہے جن کی بری افواج غیرمعمولی حجم رکھتی ہیں۔اس کے پاس2300سے زیادہ مین بیٹل ٹینکس اور 2700سے زائدتوپ خانے کے نظام بیان کیے گئے ہیں۔جرمن ساختہ لیپرڈ2ایفور،جدید ایم60ٹی سابرا،اورمقامی ایلٹے ٹینک اس کے زرہی ڈھانچے کے اہم اجزا ہیں۔ایلٹے محض ایک ٹینک نہیں؛ترک دفاعی پالیسی میں خودانحصاری کی بڑھتی ہوئی خواہش کی علامت بھی ہے۔
گذشتہ دودہائیوں میں ترکی نے دفاعی صنعت نے اسے درآمد کنندہ سے بتدریج برآمدکنندہ کی صف میں لا کھڑاکیا۔راکٹسان،ایسلسان اورٹی اے1 جیسی کمپنیاں اس صنعتی ڈھانچے کامرکز ہیں۔ترکی کے پاس 200سے زیادہ جنگی طیارے ہیں، جبکہ ملٹری بیلنس اس کے کامبیٹ کیپیبل طیاروں کی تعداد293بتاتی ہے۔ایف 16 اس کی فضائی قوت کابنیادی ستون ہے،جبکہ کان نامی مقامی پانچویں نسل کے لڑاکاطیارے پربھی کام جاری ہے۔روس سے ایس400خریدنے کے فیصلے کے نتیجے میں ترکی کو امریکی ایف 35 پروگرام سے نکالا،جو اس کی دفاعی خود مختاری اورمغربی اتحادسے تعلق کے درمیان کشمکش کی ایک نمایاں مثال ہے۔عہدِ حاضر کی جنگ میں ڈرون وہ خاموش پرندے ہیں جو آسمان پر کم مگر میدانِ جنگ کا نقشہ بدل دیتے ہیں۔ ترکی نے اس شعبے میں ایکسونگر،بیریکٹارٹی بی2، بیریکٹاراکنسی انکاجیسے نظام نگرانی،جوحملے اورانٹیلی جنس مشنوں میں استعمال ہوتے ہیں،تیارکرکے نمایاں مقام حاصل کیاہے۔
سعودی بری فوج پاکستان اورترکی کے مقابلے میں عددی لحاظ سے چھوٹی مگرجدیدمغربی اسلحے سے آراستہ ہے۔اس کے پاس اندازا840سے1,100مین بیٹل ٹینکس ہیں، جن میں امریکی ایم ون ایٹوابرامز مرکزی حیثیت رکھتاہے۔ہزاروں بکتربند گاڑیاں اورجدید خودکارتوپ خانے بھی اس کے زمینی دفاع کاحصہ ہیں۔سعودی عرب کی عسکری قوت کا سب سے چمکتا ہوا رخ اس کی فضائیہ ہے۔ تقریبا 283 فائٹر طیاروں میں ایف15ایس اے،ایف15سی /ڈی،یوروفائٹرٹائی فون اورترناڈوآئی ڈی ایس شامل ہیں۔فضائی نگرانی،میزائل دفاع اوربغیرپائلٹ نظاموں میں سرمایہ کاری نے اسے مشرقِ وسطی کی نمایاں فضائی طاقتوں میں شامل کیاہے۔تاہم یمن کی جنگ نے جہاں تجربہ دیا،وہیں درست نشانہ لگانے،فضاوزمین کے باہمی رابطے اوررسدکے شعبوں میں کمزوریاں بھی آشکارکیں۔سعودی سرزمین پرکروزمیزائل اورڈرون حملوں نے فضائی ومیزائل دفاع کے بعض خلا نمایاں کیے۔اسی پس منظرمیں وژن2030کے تحت دفاعی اخراجات کا50فیصد مقامی سطح پرمنتقل کرنے کاہدف اہم بن جاتا ہے۔