چودھری فرحان شوکت ہنجرا
سیلاب 2025 گلگت بلتستان کے پی پنجاب سندھ میں تباہی پھیلا کر اپنی داستان اور سیلاب متاثرین میں تلخ یادیں چھوڑ گیا ہے صوبہ پنجاب سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہؤا ہے اور شعبہ زراعت و کسان اس کے بڑے متاثرین ہیں دریائے راوی ستلج چناب کے سیلابی پانی سے لاکھوں ایکڑ پر پھیلی فصلیں ملیا میٹ ہو گئیں لائیو سٹاک اور حویلیاں گھر تباہ ہوگئے سب سے زیادہ چاول کپاس کی فصل متاثر ہوئی ہے ایک جانب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سربراہان و ذمہ داران عوام کو ریلیف دینے اور بالخصوص کاشتکاروں کیلئے خصوصی پیکیج لانے کے اعلانات کر رہے ہیں اور اس حوالے سے سروے شروع کر دیا گیا ہے اللہ کرے شفاف انداز میں سروے ہو تاکہ نقصانات اٹھانے والے متاثرین کو مالی پیکج مل سکے
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے واشگاف الفاظ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ اس سیلاب نے کسانوں کو نڈھال کرکے رکھ دیا ہے پہلے ہی گندم کی صحیح قیمت نہ ملنے سے کسانوں کی کمر ٹوٹ گئی تھی اوپر سے سیلاب نے رہی سہی کسر نکال دی ہے حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی جائے اور کسانوں کو 20ہزار روپے فی ایکڑ مالی پیکج دیا جائے دوسری جانب کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کے ایک نہیں چھ ماہ کیلئے بجلی کے بل معاف کیے جائیں اور ڈی اے پی کھاد زرعی بیج سستے داموں فراہم کرے
دوسری جانب وفاقی حکومت سمیت پنجاب سندھ کی صوبائی حکومتیں جو کسان زراعت دوست پالیسیوں کے ڈھنڈورا پیٹنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں ہمہ وقت مصروف عمل رہتی تھیں روز روشن کی طرح حقیقت جان لیں اور نوشتہ دیوار پر لکھی تحریر پڑھ لیں کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار 2024-25کے سیزن میں ہدف سے 41فیصد کم ہوئی ہے جو کہ متوقع 10.87ملین گانٹھوں کے مقابلے میں صرف 6.42ملین گانٹھوں تک محدود رہی ہے کپاس پاکستان کی دوسری سب سے بڑی نقدآور فصل اور اس سے ٹیکسٹائل صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو ملکی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتی ہے
لیجئے جناب پاکستان کے سب سے بڑے کپاس پیدا کرنے والے صوبہ پنجاب نے اپنا ہدف نصف سے بھی زیادہ کھو دیا ہے جہاں صرف 3.18ملین گانٹھیں پیدا ہوئیں جو ہدف کا 48فیصد ہے۔اس کی بنیادی وجہ کپاس کاشت کے رقبے میں 22 فیصد کمی قرار دیا گیا ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کسانوں نے گندم کی کم قیمت ملنے کے باعث منافع میں کمی کے پیش نظر کاشتکاروں نے بڑی تعداد رقبے پر تل کی کاشت کی طرف رخ اختیار کر لیا۔ہے صوبہ سندھ نے اپنے ہدف کا 72 فیصد حاصل کرتے ہوئے 2.82ملین گانٹھیں پیدا کیی جبکہ بلوچستان کی کارکردگی بہتر رہی جہاں کپاس کا 89 فیصد ہدف حاصل کیا گیا
پنجاب حکومت دن رات کسان کارڈ۔لائیو سٹاک کارڈ۔اور کسانوں میں ایک ہزار ٹریکٹروں کی مفت تقسیم اور کسانوں کیلئے ٹریکٹروں کی خریداری پر سبسڈی اس کے علاؤہ بیش بہا اقدامات کرنے کے دعوے کیے گئے لیکن کپاس کی پیداوار میں کمی نے حکومت پنجاب کی زراعت کسان دوست پالیسیوں کی بیچ چوراہے میں ہنڈیا پھوڑ دی ہے۔گندم کے کاشتکاروں کو گندم کی قیمت کم دینے سے ان کا مالی استحصال کرنے کا نتیجہ سامنے آیا ہے اور سیلاب کے بعد آئندہ گندم کاشت نہ کرنے کیاس سے بھی زیادہ بھیانک نتائج سامنے آنے والے ہیں
وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی نے گندم درآمد کرنے کی شنید سنا دی ہے
زرعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیزن 2025-26 میں گندم کی پیداوار میں واضح کمی متوقع ہے اوپر سے گندم جو کہ ملک کی فوڈ سیکیورٹی کراپ ہے اقوام متحدہ کے اصول وضع کر دیئے ہیں کہ ہر ملک اپنی فوڈ سیکیورٹی پر مبنی فصلوں کی قیمت مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے کسی عالمی مالیاتی اداروں کا مطالبہ کسی ملک کی فوڈ سیکیورٹی آئیٹم کی قیمت پر اثر انداز نہیں ہوسکتا سوال حکمرانوں سے ہے آئی پی پیز کے معاملے میں یہ کہتے تھے کہ ہم بجلی کی قیمت کپیسٹی چارچز سمیت دیگر ٹیکسز ختم نہیں کرسکتے کیونکہ یہ عالمی معاہدے ہیں اور آئی پی پیز مالکان عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ کر دیں گے لیکن یہ حقیقت بھی قوم کے سامنے آشکار ہو چکی جو جماعت اسلامی نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے چلائی گئی عوامی تحریک پر کوئی ائی پی پیز مالکان کسی عدالت میں نہیں گئے بلکہ متعدد آئی پی پیز نے معاہدے پر نظر ثانی کیلئے حکومت کے سامنے سرنڈر کیا لہذا یہ جو حکمران آئی ایم ایف کا بہانہ بنا کر گندم کی قیمت مقرر نہیں کررہے یہ کسان زراعت دشمن کا کردار ادا کر رہے ہیں
چند ماہ قبل ضلع شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی کے مختلف دیہاتوں آہدیاں۔ سیہول،مغل والا تھیمڑہ لاہوریانوالا۔ودیگر دیہاتوں اور ضلع حافظ آباد میں ڑالہ باری سے گندم ،برسیم۔ودیگر فصلیں مکمل طور پر ختم ہوگئی تھیں کسانوں کے نقصان پر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں رکن صوبائی اسمبلی خرم اعجاز چھٹہ صاحب اسی طرح وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی و پیداوار رانا تنویر حسین صاحب اور رکن پنجاب اسمبلی چوہدری حسان ریاض نے پنجاب حکومت اس کے ادارے پی ڈی ایم اے آور محکمہ زراعت کو خطوط لکھے جس میں کاشتکاروں کے نقصان کا ازالہ کرنے کی درخواست کی گئی گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل پنجاب محکمہ زراعت ڈائریکٹر زراعت و دیگر افسران نے نارنگ منڈی کے مختلف دیہاتوں میں ڑالہ باری سے نقصان بارے تفصیلی دورہ کیا ڈائریکٹر جنرل پنجاب زراعت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 38 ہزار ایکٹر رقبے پر گندم برسیم کی فصل مکمل تباہ ہوئی ہے ہم نے اپنی رپورٹ حکومت پنجاب کو بھجوا دی ہے لیکن ابھی تک کاشتکاروں کو کوئی مالی پیکج ریلیف نہیں مل سکا
صوبہ پنجاب میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات کو بہت ہی فعال اندر میں ادا کرنے والی نیک نام خاتون شخصیت کرن خورشید صاحبہ کو حکومت پنجاب نے سیکرٹری فوڈ پنجاب تعین کیا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں کرن خورشید صاحبہ سے عوامی مفاد عامہ میں گزارش ہے کہ وہ عوام کو صہت مند خوراک کے حصول کیلئے جو بھی ان کے دائرہ کار میں اختیارات ہیں اس پر عملدرآمد کروانے میں اپنا کردار ادا کریں ہم ان کیلئے دعا گو ہیں