ٹیسلا کے بانی اور سی ای او ایلون مسک کو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا کارپوریٹ تنخواہ پیکیج منظور کر لیا گیا ہے۔
یہ منظوری کمپنی کے 75 فیصد شیئر ہولڈرز کے ووٹ سے ہوئی، جس کے بعد ایلون مسک کی تنخواہ تقریبا ایک کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ایلون مسک ٹیسلا کو صرف ایک الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی سے آگے بڑھا کر مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کی عالمی طاقت میں بدلنے کے مشن پر ہیں۔اس تاریخی ووٹ کے دوران، ٹیسلا کے بورڈ نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ پیکیج منظور نہ ہوا تو ممکن ہے کہ ایلون مسک کمپنی چھوڑ دیں۔ بعض سرمایہ کاروں نے اسے غیر ضروری اور مہنگا قرار دیا، مگر زیادہ تر نے اسے کمپنی کی طویل مدتی ترقی کے لیے ضروری سمجھا۔پیکیج کے تحت، ایلون مسک کو آئندہ 10 سال میں 12 فیصد تک ٹیسلا کے شیئرز دیئے جا سکتے ہیں، جن کی مالیت تقریباً 1 کھرب ڈالر بنتی ہے، لیکن عملی طور پر یہ رقم تقریباً 878 ارب ڈالر کے قریب ہوگی کیونکہ اس میں موجودہ شیئر ویلیو کو منہا کیا جائے گا۔ اس پیکیج کا مقصد ایلون مسک کو کمپنی کے اہم اہداف حاصل کرنے پر انعام دینا ہے، جن میں سالانہ 20 ملین گاڑیاں ترسیل کرنا، ایک ملین روبوٹیکسیز کا نیٹ ورک، ایک ملین ہیومنائیڈ روبوٹس، 400 ارب منافع اور کمپنی کی مالیت کو 2 کھرب سے 8.5 کھرب ڈالر تک لے جانا شامل ہے۔
ایلون مسک کو ہر کامیاب ہدف پر کمپنی کے 1 فیصد شیئرز ملیں گے، اور اگر وہ تمام اہداف حاصل کر لیتے ہیں تو یہ مکمل پیکیج ان کے نام ہوگا۔ یہ اہداف میں شامل ہیں: سالانہ 20 ملین گاڑیوں کی ترسیل، روبوٹیکسیز کا نیٹ ورک، ہیومنائیڈ روبوٹس، اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ۔کچھ بڑے سرمایہ کاروں جیسے ناروے کے خودمختار فنڈ اور ایڈوائزری فرمز Glass Lewis و ISS نے اس تنخواہ میں اضافے کی مخالفت کی، لیکن زیادہ تر سرمایہ کاروں نے اسے حمایت دی کیونکہ انہوں نے اسے کمپنی کی طویل مدتی ترقی کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔اس کے علاوہ، ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز نے مسک کی مصنوعی ذہانت کمپنی xAI میں سرمایہ کاری کی منظوری بھی دی، حالانکہ کئی بڑے سرمایہ کار ووٹنگ سے گریز کرتے رہے تاکہ شفافیت اور نگرانی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔اجلاس کے آخر میں، ایلون مسک نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ دیگر کمپنیوں کے اجلاس میں نیند آتی ہے، مگر ہمارا اجلاس زبردست ہے اور سب کچھ بہت شاندار ہے۔