فرخ ریاض بٹ
ٹی سی گروپ کو خبر شائع کرنے سے پہلے اور ٹی وی پر خبر چلانے سے پہلے خود بازاروں مارکیٹوں کا دورہ کر لینا چاہیے یہ لوگ حکومتی تعریف میں خوشامد میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ سچ جھوٹ ملاوٹ اصلی اور نقلی میں فرق محسوس کرنا بھول جاتے ہیں۔ اخبارات میں آرہا ہے کہ ملک میں مہنگائی فیصد کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے میں عرصہ دراز سے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازشریف سے کہہ چکا ہوں اگر آپ نے ملک خاص کر پنجاب سے مہنگائی کا جن قابو کرتا ہے تو خدارا آپ دکانوں، مارکیٹوں ، منڈیوں میں چھاپہ سسٹم اور چھترول پروگرام شروع کریں جب تک زائد منافع خوروں، ذخیرہ خوروں، زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ چھاپہ مار ٹیمیں چیک نہیں کریں گی مہنگائی عروج پر رہے گی۔ اور غریب مزدور کسان محنت کش اور نچلے درجے کے ملازمین ان کو ایک کوڑی کا فائدہ نہیں ہوگا جیسا کہ نہیں ہو رہا محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف صاحبہ آپ کی چھاپہ مار ٹیمیں آتی بھی ہیں اور اپنے اپنے بھتے وصول کر کے چلے جاتے ہیں اور مہنگائی وہیں پر جمی رہ جاتی ہے گلوکوز ڈی کا ڈبہ 15روپے سے بڑھ کر 250 روپے ہوگیا اب آپ نے کہا 55ہزار گلیاں پکی کر دی گئیں اب جو مضبوط گلیاں تھیں انہیں توڑ کر کھنڈرات میں بدل دیا گیا گٹروں سے گندا غلیظ پانی اگلنے لگا اور یہی غلیظ پانی پینے کے نلکوں میں آرہا ہے۔ ابھی ابھی پہلی ہلکی بارش نے آپ کے پروگرام تعمیر برائے لاہور کے پول دیئے کھول۔ پہلے گلیوں میں ریت بچھائی جاتی ہے پھر عجیب قسم کی نئی ٹائلیں اوپر بچھا کے ان کے اوپر ریت اور کم سیمنٹ ملا کر پانی میں گھول کر ان ٹائلوں پر پھینک دیا جاتا ہے ابھی پہلی ہلکی بارش سے بنی بنائی گلیاں پھر ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اینٹیں باہر نکل آئی ہیں یعنی قوم کا اربوں روپیہ پہلی بارش کے پانی میں بہہ گیا۔
اخبارات نجی ٹی وی پھر دیکھایا جاتا ہے پینے کا صاف پانی۔ مگر کہاں یہ آپ کے بڑوں کے دور میں شروع ہوا یعنی پانی کا کاروبار پہلے لاہو ربلکہ پنجاب بھر میں سرکاری نلکوں میں بڑے پیمانے پر جراثیم کش ادویات حکومت کی جانب سے ڈالی جاتی تھیں اور صاف شفاف پینے کا پانی میسر تھا پھر کسی بڑے نے سوچا کیوں نہ پینے کا پانی فروخت کیا جائے اب آگئیں منرل واٹر کی پلاسٹک کی بوتلیںاور جو سرکاری نلکے تھے ان میں آنے لگا اچانک لال مٹی والا پانی اور گٹروں کا گندا غلیظ بدبو دار پانی اور بات ہوگئی آنی جانی۔ پہلے ہینڈ پمپ تھے کہ جن سے قدرتی منرل واٹر ملتا تھا افسوس ہم لوگ ثقافتی روایات کی بات تو کرتے ہیں مگر ہینڈ پمپ بندکروا دیتے ہیں تازے میٹھے صاف پانی کے کنویں بند کروا دیئے اور سرکاری نلکے آگئے اب یہ بھی گئے آگیا منرل ، سرکاری قیمت پر پانی یعنی موقع پرستوں نے منرل واٹر سے اربوں روپے کمالیے اور مسلسل کما رہے ہیں، ہمارے لاہور کا یہ حال ہے جب چھلے کا بچہ چھینک مارتا ہے تو تمام لاہور بھر کی بجلی کی تاریں جڑ جاتی ہیں ٹرانسفارمر کی ڈی سسٹم گر جاتا ہے اور یوں 10سے 12گھنٹوں تک بجلی غائب ہو جاتی ہے اور جب چڑیا کا بوٹ یعنی انڈے سے ابھی ابھی نکلنے والا بچہ پیشاب کا قطرہ نکالتا ہے تو لاہور وینس بن جاتا ہے جگہ جگہ بارش کے ہلکے چھینٹے سے نہریں نمودار ہونے لگتی ہیں۔ اب آئیے پنجاب کی مہنگائی، شلوار قمیض ، درزیوں نے بیٹھے بٹھائے شلوار قمیض کی قیمت فی سوٹ 2000روپے کر دی۔ اور چنگ چی کرائے پٹرول کم ہوا لیکن کرائے آسمان پر سربیکس زیڈ کیلشیم کی گولیوں کی ڈبی جو 150روپے تھے آج ساڑھے چار سو روپے میں مل رہی ہے۔
پیناڈول سادہ پتہ 10گولیاں قیمت60روپے ایکسٹراقیمت 70روپے پوری حلوہ پوری جو 20روپے تھی آج 70روپے ہے روٹی 15روپے نان 30روپے مرغی کا گوشت خدا خدا کر کے 500روپے تک آیا اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ بیف900روپے کلومٹن ڈھائی ہزار روپے کلو بیکری کی ہر چیز کی قیمت آسمان سے اوپر ڈبل روٹی جو کبھی 25روپے سے 30روپے میں تھی آج اڑھائی سو روپے ہے۔ خلیفہ بادام کھتائی لے گیا اسے حاتم تائی اب یہ کسی کے ہاتھ نہ آئی دوہائی ہے بابا دوہائی۔ معاف کرنا ٹْٹے چھتر ورگاں ہر چیز دی قیمت وددی جارئی اے، کوئی پچھن والا نہیں؟۔بجلی کے بل گیس کے بل فون بل پانی بل پہلے سے بڑھ کے شروع ہوگئی کِل کِل اب بجلی کے بلوں کے ساتھ خواہ مخواہ بقایا جات لگ رہے ہیں؟معاف کرنا مریم بی بی وزیراعلی پنجاب مہنگائی صرف بیانات اخبارات ٹی وی پر خبریں دینے سے کم نہ ہو گی بلکہ آپ ذرا قدم بڑھائیں ناجائز منافع خوروں زائد قیمتیں وصول کرنے والوں درزیوں قصاب جو بن چکے ہیں عذاب ان کے خلاف فوری ایکشن کی ضرورت ہے صرف ایک دن نہیں ایک ہفتہ نہیں بلکہ ہر ہفتے ہر مہینے ان کی مرمت کی اشد ضرورت ہے۔ اب حکومت نے پٹرول سستا کیا کیا ہوا؟کچھ بنی نہیں مسلسل مہنگائی عروج پر ہے میڈیکل اسٹورز سبزیاں انڈے دالیں چاول آٹا گھی سرسوں کا تیل مٹی کا تیل کرائے ان میں کچھ فرق نہیں پڑا۔ علاج ان سب کے خلاف چھترول ڈنڈا پریڈ شروع کی جائے بھاری جرمانے سزائیں مقرر کریں تب مہنگائی ملاوٹ کرپشن سب دو اور درزی بھی ریٹ کم کرنے پر مجبور ورنہ غریب سچی خوشیوں سے بہت دور۔