حافظ محمد اقبال
حکومتِ پاکستان نے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 1126 ارب روپے مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے اختتام سے قبل ہی یہ واضح ہو چکا ہے کہ حکومت کو ٹیکس وصولیوں کے محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نہ صرف اپنے ماہانہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے بلکہ مجموعی طور پر ٹیکس شارٹ فال بھی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مالی سال 2026-27ء کے پہلے گیارہ ماہ میں ٹیکس خسارہ 860 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لئے تشویش ناک اشارہ ہے۔مئی 2026ء کے دوران ایف بی آر کو 1150 ارب روپے اکٹھے کرنے تھے مگر اب تک صرف 965 ارب روپے ہی جمع کیے جا سکے، یوں تقریباً 190 ارب روپے کی کمی سامنے آئی۔ پہلے ہی ابتدائی دس ماہ میں 683 ارب روپے کا شارٹ فال موجود تھا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مالی نظم و ضبط کس حد تک دباؤ میں ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی مشاورت سے سالانہ ٹیکس ہدف کم کر کے 13 ہزار 989 ارب روپے کیا، مگر اس کے باوجود مطلوبہ محاصل حاصل نہ ہو سکے۔اب جبکہ نئے مالی سال کے لئے 15 ہزار 267 ارب روپے کا نیا ہدف تجویز کیا جا رہا ہے، حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے محصولات بڑھانے کے لئے جنرل سیلز ٹیکس 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ حکومت کو اضافی 300 ارب روپے حاصل ہو سکیں۔ تاہم حکومت کو خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے سولر پینل، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجاویز خاص طور پر تشویش کا باعث ہیں۔ اگر ان تجاویز پر عمل ہوا تو ماحول دوست ٹیکنالوجی عوام کی پہنچ سے مزید دور ہو جائے گی۔ ایک طرف حکومت متبادل توانائی کے فروغ کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب انہی شعبوں پر بھاری ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو پالیسی تضاد کی واضح مثال ہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اس وقت بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی، توانائی کی بڑھتی قیمتیں، پیداواری لاگت میں اضافہ اور کاروباری سست روی نے معیشت کو متاثر کیا ہے۔ انہی عوامل کے باعث ٹیکس وصولیوں میں کمی آئی اور کاروباری سرگرمیاں محدود ہوئیں۔حکومتِ پاکستان نے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 1126 ارب روپے مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بظاہر یہ رقم بڑی محسوس ہوتی ہے مگر زمینی حقائق اور ملک کی مجموعی ترقیاتی ضروریات کو دیکھا جائے تو یہ وسائل اب بھی ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔ سالانہ پلان کوا?رڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آنے والی تفصیلات نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کو اس وقت معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی جمود کے خاتمے کا بھی بڑا چیلنج درپیش ہے۔پلاننگ کمیشن کی دستاویز کے مطابق ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے شعبے کیلئے 408 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ توانائی منصوبوں کیلئے 135 ارب اور آبی وسائل کیلئے 140 ارب روپے رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ سوشل سیکٹر کیلئے 187 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز اس امر کی
عکاس ہے کہ حکومت تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے شعبوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی حالات میں یہ رقوم مطلوبہ نتائج دے سکیں گی؟وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے درست نشاندہی کی کہ ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔ اس حقیقت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وسائل اور ضروریات کے درمیان کتنا بڑا فرق موجود ہے۔ اْن کا یہ کہنا بھی اہم ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار رہا، جس کے باعث متعدد منصوبے تاخیر اور لاگت میں اضافے کا شکار ہوئے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے ترقیاتی بجٹ محض اعدادوشمار نہیں بلکہ معاشی سرگرمی، روزگار، انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر ترقیاتی اخراجات محدود رہیں گے تو معیشت کی رفتار بھی سست رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چار فیصد مقرر کیا جا رہا ہے، مگر اس ہدف کے حصول کیلئے صرف اعلانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ بیانات میں معاشی خود انحصاری کو حکومت کی اگلی منزل قرار دیا ہے اور چین کے تعاون کو اہم قرار دیا ہے، مگر معاشی استحکام صرف بیانات سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ایسی پالیسیاں درکار ہیں جو ایک طرف ریاستی آمدن بڑھائیں اور دوسری طرف عوام پر اضافی بوجھ بھی نہ ڈالیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان معاشی حوالے سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے کے لئے پْرعزم ہے اور اِس میں سی پیک کا کردار اہم ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران جنگ کے اثرات کی زَد میں آیا، عوام کی مشکل کا احساس ہے اِس لئے اْنہیں ریلیف دینا حکومت کی ترجیح ہے۔ دوسری طرف رواں مالی سال ٹیکس شارٹ فال تین ارب ڈالر سے تجاوز کرتا نظر آ رہا ہے جس کی دیگر وجوہات میں سے ایک امریکہ ایران جنگ بھی ہے، توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی کے علاوہ زیادہ پیداواری لاگت جیسے مسائل پیدا کیے، اِس سے کاروبار بھی متاثر ہوئے جس کی وجہ سے ٹیکس شارٹ فال میں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف آئندہ مالی سال کے لئے سیلز ٹیکس میں اضافہ کر کے شارٹ فال میں کمی کرنے کا مشورہ تو دے رہا ہے تاہم اگر سیلز ٹیکس میں اضافہ ہوا تو اِس سے مہنگائی میں بھی یقینی طور پر اضافہ ہو گا۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی قریباً 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی نعروں کے بجائے قومی معیشت کی ضرورت سمجھ کر ترجیح دی جائے۔ غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں، منصوبوں میں شفافیت لائی جائے اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ محدود سرمایہ بھی مؤثر نتائج دے سکے۔ بصورت دیگر ترقیاتی بجٹ کے اعلانات صرف کاغذی اعدادوشمار بن کر رہ جائیں گے اور عوام حقیقی ترقی کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔اگر حکومت نے محض ٹیکس شرح بڑھانے کو ہی واحد حل سمجھا تو مہنگائی مزید بڑھے گی، عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، غیر دستاویزی معیشت کو نظام میں لایا جائے اور اخراجات میں کفایت شعاری اختیار کی جائے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔