مقامی حکومتوں کے آئینی تحفظ کیلئے پنجاب اسمبلی سے منظور کی گئی قرارداد کو 27ویں آئینی ترمیم میں شامل ہونا چاہیے‘ مجوزہ ترمیم سے عدلیہ کی خود مختاری متاثر نہیں ہونی چاہیے
وفاق معاشی اعتبار سے خود پر بوجھ محسوس کرتا ہے تو اس سلسلہ میں کوئی نہ کوئی فارمولہ طے ہونا چاہیے، نیب کے کالے قانون کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے:سپیکر پنجاب اسمبلی کا خطاب
لاہور( یواین پی)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے مقامی حکومتوں کے آئینی تحفظ کے لئے پنجاب اسمبلی سے منظور کی گئی قرارداد کو 27ویں آئینی ترمیم میں شامل ہونا چاہیے ،اگر وفاق معاشی اعتبار سے خود پر بوجھ محسوس کرتا ہے تو اس سلسلہ میں کوئی نہ کوئی فارمولہ طے ہونا چاہیے، نیب کے کالے قانون کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے ، مجوزہ ترمیم سے عدلیہ کی خود مختاری متاثر نہیں ہونی چاہیے ، میں خود صوبائی خود مختاری کا بڑا حامی اور مرکزیت کے ماڈل کا ناقد ہوں،طاقت نچلی سطح پر مقامی حکومتوں کو منتقل ہونی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ گورننس کے عمل میں شامل ہو سکیں، 1500افسران کروڑوں لوگوں کا نظام نہیں چلا سکتے۔ ایک نجی سکول کی تقریب کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا میں صوبائی خودمختاری کا بہت بڑا حامی ہوں،میں مرکزیت کے ماڈل کا ناقد ہوں، ہمیں نچلی سطح پر اختیارات دینے ہوں گے،نچلی سطح تک بہتری آئے گی تو معاملات بہتر ہونا شروع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب نے اپنا حصہ بلوچستان کو دیاتھا ،شہبازشریف اسی جذبہ سے مسئلہ حل کر لیں گے، نئے عمرانی معاہدہ پر بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے خلاف ہوں اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہیے ،یہ کالا قانون بدنما داغ ہے، نیب حکومتوں کو ختم کرتا رہا ۔