ٹرمپ کی اپنی سرکاری پینٹنگ پر تنقید، آرٹسٹ کے کاروبار کو خطرہ لاحق

ٹرمپ کی اپنی سرکاری پینٹنگ پر تنقید، آرٹسٹ کے کاروبار کو خطرہ لاحق

لندن: برطانوی آرٹسٹ سارہ بورڈمین، جنہوں نے کولوراڈو اسٹیٹ کیپیٹل میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری پینٹنگ تیار کی تھی، نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حالیہ تنقید نے ان کے 41 سالہ کاروبار کو سنگین خطرات میں ڈال دیا ہے۔

یہ پینٹنگ، جو اسٹیٹ کیپیٹل کے "گیلری آف پریزیڈنٹس" میں چھ سال تک آویزاں رہی، ٹرمپ کی جانب سے جنوری میں "سب سے بدترین" قرار دی گئی تھی۔ ٹرمپ نے بورڈمین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اپنی عمر کے ساتھ اپنی صلاحیتیں کھو دی ہیں اور تصویر کو جان بوجھ کر مسخ کیا گیا ہے۔بورڈمین نے اس تنقید کو اپنے کاروبار اور پیشہ ورانہ شہرت پر منفی اثرات کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ اب ان کے کاروبار کو دوبارہ بحال کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پینٹنگ میں نہ تو کوئی جان بوجھ کر مسخ کیا گیا تھا اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا سیاسی جھکاؤ تھا۔

 انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی کمیشن کے مطابق کولوراڈو اسٹیٹ کیپیٹل ایڈوائزری کمیٹی سے اس تصویر کو بغیر کسی تعصب یا مبالغہ آرائی کے مکمل کیا تھا۔ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کی تصویر کی تعریف کی تھی اور اسے "زبردست" قرار دیا تھا، لیکن اپنے ہی پورٹریٹ پر کوئی ایسی تعریف نہیں کی۔ ان کے تبصروں کے بعد، یہ تصویر عوامی نمائش سے ہٹا لی گئی تھی۔بورڈمین کی اس تصویر پر صدر ٹرمپ کی تنقید نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اس کے پیشہ ورانہ کیریئر پر سنگین اثرات مرتب کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔