دریائے سندھ، نہریں اور سیاسی کھینچا تانی

عابد گوندل

کیا پانی بھی سیاسی ہوتا ہے؟ کیا دریا صرف زمین سیراب کرتے ہیں یا اقتدار کی پیاس بھی بجھاتے ہیں؟ پاکستان میں جہاں ہر چیز سیاست کے تابع ہے، وہاں دریاؤں کا پانی بھی پارلیمانی بحث، صوبائی خودمختاری اور وفاقی بالادستی کا میدان بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے معاملے پر وفاق اور سندھ کے درمیان جو ٹھن گئی ہے، وہ محض آبی تقسیم کا جھگڑا نہیں بلکہ ریاستی توازن، عوامی اعتماد اور آئینی اصولوں کا امتحان بھی ہے۔۔پاکستان کی زراعت، معیشت اور روزمرہ زندگی کا دارومدار دریاؤں کے نظام پر ہے، اور ان میں سب سے اہم دریا ئے سندھ  ہے جو ملک کے طول و عرض کو سیراب کرتا ہے۔حال ہی میں دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے معاملے پر وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان اختلافات نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت غیر آئینی اور غیر منصفانہ طور پر دیگر صوبوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ وفاق کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی مفاد میں ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وفاقی حکومت نے دریائے سندھ سے پانی نکال کر نئی نہریں بنانے کے منصوبوں کی منظوری دی جن میں زیادہ تر نہریں جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے لیے تجویز کی گئی تھیں۔ سندھ حکومت نے ان منصوبوں پر فوری طور پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان سے سندھ کو پانی کی مزید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان نہروں کا مقصد غیر آباد اور بنجر علاقوں کو آباد کرنا ہے، اور یہ نہریں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس انداز میں بنائی جائیں گی کہ سندھ کے حصے میں کمی نہ آئے۔ تاہم سندھ حکومت کو اس پر اعتماد نہیں۔
پاکستان کا آئین پانی کے تقسیم کے معاملات پر واضح ہدایات دیتا ہے۔ 1991ء￿  میں چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے انڈس واٹر اکارڈ پر اتفاق ہوا تھاجس کے تحت ہر صوبے کو اس کا مخصوص حصہ دیا گیا۔ سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی نہریں نکال کر وفاق اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔سندھ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ نہری نظام میں کسی بھی قسم کی بڑی تبدیلی یا نئی تعمیر سے پہلے صوبائی مشاورت اور منظوری لازمی ہے جسے وفاق نے نظر انداز کیا۔ آئینی طور پر پانی ایک بین الصوبائی معاملہ ہے جسے مشترکہ مفادات کی کونسل میں طے کیا جانا چاہیے، نہ کہ یکطرفہ فیصلے کے ذریعے۔۔ماہرین کے مطابق دریائے سندھ پہلے ہی اپنی قدرتی گنجائش سے کم پانی لے جا رہا ہے۔ بالخصوص جہاں دریا سمندر سے جا ملتا ہے، وہاں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے اور ہزاروں ایکڑ زمین بنجر ہو چکی ہے۔اگر مزید نہریں نکالی گئیں تو خدشہ ہے کہ دریا کے قدرتی بہاؤ میں مزید کمی آئے گی، جس سے ماحولیاتی توازن بری طرح متاثر ہوگا۔ سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ پہلے ہی اسے اس کے حصے کا پورا پانی نہیں ملتااور نئی نہریں اس صورت حال کو مزید خراب کریں گی۔۔یہ تنازع صرف ایک تکنیکی یا آئینی معاملہ نہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی گہرا اثر رکھتا ہے۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جبکہ وفاق میں 
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادی اقتدار میں ہیں۔ دونوں حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی پہلے ہی موجود ہے اور اس مسئلے نے مزید اعتماد کی کمی کو جنم دیا ہے۔سندھ کے وزراء￿  بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وفاق جان بوجھ کر سندھ کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اور سندھ کی زراعت کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب وفاق ان الزامات کو سیاسی شعبدہ بازی قرار دیتا ہے۔اس تنازعے کے حل کے لیے  ضروری ہے کہ فوری  طور پر مشترکہ مفادات کی کونسل کا کردار بڑھایا جائے تاکہ تمام فیصلے شفاف انداز میں، تمام صوبوں کی مشاورت سے ہوں۔۔ٹیکنیکل رپورٹیں اور ڈیٹا عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ واقعی سندھ کو اس کے حصے کا پانی مل رہا ہے یا نہیں۔نہری نظام کی بہتری پر توجہ دی جائے بجائے اس کے کہ نئی نہریں بنا کر تنازع بڑھایا جائے۔تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر ماحولیاتی ماہرین اور آبی ماہرین کی مشاورت سے پالیسی سازی کی جائے۔وفاق اور سندھ کے درمیان مستقل رابطے اور مذاکرات کا نظام قائم کیا جائے تاکہ اعتماد بحال ہو۔۔۔دریائے سندھ صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی روح ہے۔ اس دریا کے بہاؤ کو روکنا، اس کا پانی تقسیم کرنا یا اس پر سیاسی جنگ لڑنا، دراصل خود اپنے وطن کی بنیادوں کو کمزور کرنا ہے۔ وفاق اور سندھ دونوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پانی کا مسئلہ سیاسی نہیں، قومی مسئلہ ہے، اور اسے دانشمندی، شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر حل کیا جانا ضروری ہے کیونکہ وفاق اور صوبے جب ایک دوسرے کے شراکت دار نہیں بلکہ حریف بن جائیں تو صرف پانی نہیں، اعتماد بھی بہہ جاتا ہے۔