وفاقی بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح پر ترقیوں کا عمل طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے، جہاں گریڈ 21 سے 22 میں ترقیوں کے لیے ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس تاحال منعقد نہیں ہو سکا۔
اجلاس میں تاخیر کے باعث سینئر بیوروکریسی میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ متعدد افسران گریڈ 22 میں ترقی کی امید لیے ریٹائر ہو چکے ہیں اور بعض افسران ترقی پانے سے قبل ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ذرائع کے مطابق ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا آخری اجلاس مارچ 2025 میں منعقد ہوا تھا، جس کے بعد سے اب تک تقریباً ایک سال آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے جلد انعقاد کا بھی فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا، جس کے باعث ترقی کے منتظر افسران میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔ذرائع اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق اجلاس کے انعقاد کے لیے تمام انتظامی تیاریاں مکمل ہیں، تاہم وزیراعظم آفس کی جانب سے اجلاس طلب کرنے کے لیے گرین سگنل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم یا نائب وزیراعظم کریں گے، جبکہ سندھ سے بلاول بھٹو زرداری اور پنجاب سے اسحاق ڈار اجلاس میں شریک ہوں گے۔
اجلاس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 8 افسران کی گریڈ 22 میں ترقی کے معاملات زیر غور آئیں گے، جبکہ پولیس سروس کے 6 افسران کی ترقی پر بھی غور کیا جائے گا۔ ترقی کے لیے زیر غور افسران میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید بھی شامل ہیں۔اسی طرح سیکرٹریٹ گروپ کے 4 افسران، ان لینڈ ریونیو سروس اور انفارمیشن گروپ کے ایک ایک افسر کی ترقی کے معاملات بھی بورڈ کے ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔ مجموعی طور پر مختلف سروسز اور گروپس کے 25 سے زائد افسران کی گریڈ 22 میں ترقی متوقع ہے۔