لبنان کے صدر جوزف عون نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سرزمین اور عوام پر خودمختاری کا مکمل حق صرف لبنانی ریاست کو حاصل ہے اور اس معاملے میں کسی دوسرے فریق کی شراکت یا بالادستی قبول نہیں کی جائے گی۔
صدر جوزف عون کا یہ بیان اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے معاہدے کو لبنان کی مکمل خودمختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس وقت تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی جب تک ملک کی تمام سرزمین پر ریاستی اختیار بحال نہیں ہو جاتا۔لبنانی صدر کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد شہریوں کو ان علاقوں میں واپس جانے کا موقع فراہم کرنا ہے جہاں سے وہ بے گھر ہوئے تھے، تاکہ وہ اپنے گھروں میں دوبارہ آباد ہو سکیں اور تعمیرِ نو کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
جوزف عون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لبنان مزید قبضے، قیدیوں کے مسئلے، بیرونی سرپرستی اور محکومیت کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی خودمختاری اور قومی اختیار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بھی معاہدے کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی ہدف لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کا انخلا، ملک کی خودمختاری کی بحالی اور بے گھر ہونے والے شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی یقینی بنانا ہے۔