بلدیاتی انتخابات: امیدواروں نے لنگوٹ کس لئے

 پنجاب میں پہلے مرحلے میں 7 فروری کو پولنگ ہوگی ، امیدوار سرگرم ، ووٹرز سے ملاقاتیں ، جوڑ توڑ شروع
لاہور،اسلام آباد (خصوصی رپورٹ،بیورو رپورٹ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں پولنگ کے لیے 7 فروری 2027ء￿  کی تاریخ مقرر کردی ہے، جس کے بعد پنجاب بھر میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدواروں نے بھی اپنی انتخابی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ مختلف علاقوں میں متوقع امیدواروں نے سیاسی و سماجی رابطوں کا آغاز کرتے ہوئے ووٹرز سے ملاقاتیں اور انتخابی مہم کے لیے مشاورت شروع کردی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مختصر حکمنامہ جاری کیا۔ حکمنامے کے مطابق چیف سیکریٹری پنجاب نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی کمیٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان باہمی مشاورت سے طے پایا تھا کہ انتخابات دسمبر سے جنوری کے دوران کرائے جائیں گے۔ چیف سیکریٹری نے استدعا کی تھی کہ انتخابات کی تاریخ ترجیحاً 20 جنوری 2027ء￿  کے بعد مقرر کی جائے۔ انہوں نے موسم اور انتظامی سہولت کے پیش نظر انتخابات مرحلہ وار کرانے کی درخواست بھی کی۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ انتخابات شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق کرانا اور تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ حکمنامے میں کہا گیا کہ چیف سیکریٹری پنجاب کی استدعا مفادِ انصاف میں قبول کرلی گئی ہے اور پہلے مرحلے کے انتخابات 7 فروری 2027ء￿  کو ہوں گے۔ اس سلسلے میں سیکریٹریٹ کو مزید کارروائی کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔ قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی، جس میں وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق، چیف سیکریٹری پنجاب اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب کابینہ کی کمیٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان اجلاس ہوا تھا، جس میں پنجاب حکومت نے 15 دسمبر سے 15 جنوری کے دوران انتخابات کرانے کی تجویز دی تھی۔ چیف سیکریٹری پنجاب نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری مکمل ہے، تاہم درخواست ہے کہ پولنگ کے لیے 20 جنوری کے بعد کی تاریخ مقرر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کی تیاریوں کے لیے دو ماہ درکار ہیں، جبکہ دسمبر میں پنجاب اور لاہور میں شدید دھند ہوتی ہے۔ 20 جنوری کے بعد موسم بہتر ہوجاتا ہے، جبکہ دسمبر میں انتخابی عملے کے لیے انتظامات کرنا مشکل ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے استفسار کیا کہ حکومت پہلے اپریل میں انتخابات کرانے کی تجویز دے رہی تھی۔ اس پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت نے دوبارہ غور کیا ہے اور اب جنوری یا فروری میں انتخابات کرانے پر اعتراض نہیں۔ اپریل میں انتخابات کرانا حکومت کے لیے زیادہ موزوں تھا، کیونکہ اس دوران اسکولوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں، دن طویل ہوتا ہے اور ووٹرز کو پولنگ کے لیے زیادہ وقت ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں دن چھوٹا ہونے کے باعث ووٹرز کی شرکت متاثر ہوسکتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 20 جنوری کے بعد انتخابات کرانے کی درخواست پر غور کیا جائے گا، جس کے بعد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ بعدازاں پنجاب حکومت کی جانب سے 20 جنوری کے بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کا اعلان اب کردیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ہے۔