بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل

بلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل

کوئٹہ: سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان اور یہاں کے وکلا کے ساتھ ان کا تعلق ہمیشہ قائم رہے گا، تاہم صوبے کے موجودہ حالات دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے تمام متعلقہ حلقوں کو مل بیٹھ کر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔کوئٹہ میں بلوچستان بار کونسل کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ الوداعی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ بطور جج انصاف کی فراہمی ان کی آئینی ذمہ داری اور فرض تھا، جسے انہوں نے پوری کوشش کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ بدقسمتی سے صوبے میں ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے اور ان کے اسباب کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں امن قائم ہوگا تو کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی، معاشی حالات بہتر ہوں گے اور شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں سے رجوع کرسکیں گے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر بنائے بغیر صوبے میں معمولاتِ زندگی اور ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی مشکل ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ماضی کا پرامن ماحول واپس لانے کے لیے تمام متعلقہ حلقوں کو ایک جگہ بیٹھ کر سنجیدگی سے سوچنا اور مؤثر اقدامات کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔