سعودی عرب پر حملے روکنے کیلئے ہماری حکومت تسلیم کریں‘51ارب ڈالر دیں حوثیوں کی شرائط

 51 ارب ڈالر کا مطالبہ سعودی عرب کی جانب سے  فضائی حملوں اور طویل ناکہ بندی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لئے ہے‘ سعودی عرب کو دسیوں ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے
سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی  حملے روکنے کے لئے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہوسکتا ہے‘حوثی عدن کے قریب پہنچ گئے:وال سٹریٹ جنرل
صنعا(مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کو پیشکش کی ہے  اگر ریاض حملے روکنے کا معاہدہ چاہتا ہے تو اسے 51 ارب ڈالر ادا کرنے کے ساتھ حوثیوں کو یمن کی حکمران قوت کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنا ہوگا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے مذاکرات سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے  سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی  حملے روکنے کے لیے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہوسکتا ہے۔یہ رابطہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حملوں اور باب المندب آبنائے کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کے بعد کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حوثیوں کا کہنا تھا کہ 51 ارب ڈالر کا مطالبہ سعودی فضائی حملوں اور طویل ناکہ بندی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے ہے۔ بعد میں مختلف مالی مطالبات بھی سامنے آئے، تاہم حوثیوں کا بنیادی پیغام یہ تھا  تنازع سے نکلنے کے لیے سعودی عرب کو دسیوں ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔حوثی اب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکز عدن سے تقریباً 50 میل کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ 2015 کے بعد ان کی عدن کے قریب ترین پیش قدمی بتائی گئی ہے۔ادھر یمن کے صوبے شبوا میں حوثیوں کے ایک حملے میں کم از کم 75 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں والا واقعہ تھا۔دوسری جانب یمن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 5 اکتوبر کو شروع ہونے والی ’’ڈان آف یمن‘‘ کارروائی کے بعد سے حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف 1,322 آپریشن کیے ہیں۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں تقریباً 340 حوثی جنگجو ہلاک یا غیر مؤثر ہوئے جبکہ 114 گاڑیاں اور فوجی سازوسامان تباہ یا نقصان زدہ ہوا۔