ریونیو میں اضافہ ضروری ہے، سرحدوں اور داخلی صورتحال میں مسلح افواج کو سپورٹ کرنے کیلئے سرکاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے ‘ آئندہ سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا
مصنوعی ذہانت سے کرپشن کو روکا جا سکتا ہے‘اجناس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے، چینی اور گندم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا:کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب
کراچی (آئی این پی) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے وفاقی حکومت میں رائٹ سائزنگ کرکے 39 وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے، 24 سرکاری ادارے بیچنے کا فیصلہ کر لیا، پی آئی اے کی نجکاری سال ختم ہونے سے پہلے مکمل ہو جائے گی۔دونوں سرحدوں اور داخلی صورتحال میں مسلح افواج کو سپورٹ کرنے کیلئے سرکاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے ، پیسہ بچا کر ہم اپنے آرمڈ فورسز کی مدد کرنا چاہتے ہیں‘ آئندہ سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں ، ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا‘اجناس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے، چینی اور گندم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا۔ کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک چلانے کیلئے ریونیو میں اضافہ ضروری ہے۔ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے، کوشش ہے کہ حکومت کی بینکوں سے قرضوں کا حصول کم ہو۔ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کو دیئے جانے والے قرضے کم کیوں ہو رہے ہیں یہ تشویشناک بات ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں سے پبلک پرائیویٹ قرضوں کی سست فراہمی پر جواب طلب کریں گے۔حکومت بینکوں سے قرض لینے کے لئے مجبور نہیں ، قرضوں کا سود کو کم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال کا
بجٹ ایف بی آر نہیں ، ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا، آئی ایم ایف کی وجہ سے کوئی بھی متعلقہ وزارت مثبت جواب نہیں دیتی ، پائیدار معاشی استحکام کیلئے کام کر رہے ہیں، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول ایگریمنٹ ہو گیا ہے جلد قسط مل جائے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا میں گھی اور چائے کی فیکٹریوں کو ملنے والے سبسڈی معیشت کیلئے خطرہ ہے ۔ اجناس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے، چینی اور گندم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا