عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیرمتوقع کمی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیرمتوقع کمی

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی اور مذاکراتی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں وقتی سکون دیکھنے میں آ رہا ہے۔

 تازہ کاروباری اعدادوشمار کے مطابق برطانوی برینٹ کروڈ تقریباً 4 فیصد کمی کے بعد 109 سے 110 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی تقریباً 4 فیصد گر کر 102 ڈالر فی بیرل کے قریب فروخت ہو رہا ہے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ یہ تاثر ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات بحال ہوتے ہیں یا آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے تیل کی قیمتیں جنگی خدشات، شپنگ رکاوٹوں اور خلیجی غیر یقینی صورتحال کے باعث اوپر جا رہی تھیں، مگر اب سفارتی رابطوں کی خبروں نے سرمایہ کاروں کو منافع سمیٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کا مربن کروڈ بھی تقریباً 2 فیصد سستا ہو کر 105 ڈالر فی بیرل تک آ گیا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی تقریباً 4 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت مارکیٹ ہر مثبت سفارتی اشارے پر فوری ردعمل دے رہی ہے کیونکہ تاجر اس بات کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ خطے میں معمول کی سپلائی کب بحال ہوگی۔

دوسری جانب تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے دوسرے بڑے پیداواری ملک عراق نے بھی خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے اپنے خام تیل پر غیر معمولی رعایتوں کا اعلان کر کے مارکیٹ میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ بلوم برگ اور بین الاقوامی توانائی ذرائع کے مطابق عراقی سرکاری ادارے اسٹیٹ آرگنائزیشن فار مارکیٹنگ آف آئل (SOMO) نے آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل کیے جانے والے بصرہ میڈیم خام تیل پر 33.40 ڈالر فی بیرل تک رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ 11 سے 31 مئی کے دوران یہی رعایت 26 ڈالر فی بیرل ہوگی۔ اسی طرح بصرہ ہیوی خام تیل بھی تقریباً 30 ڈالر فی بیرل کم قیمت پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ عراق موجودہ غیر یقینی صورتحال میں خریداروں کو رسک لینے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے۔

توانائی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے مبصرین اور آن لائن کموڈیٹی فورمز پر سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت تیل صرف سپلائی نہیں بلکہ "جیوپولیٹیکل نارملائزیشن" کی قیمت بھی لگا رہا ہے، یعنی جیسے ہی جنگی ماحول کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے، قیمتیں فوری نیچے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تاہم بہت سے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کمی مستقل نہیں، کیونکہ ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی آئندہ چند دنوں میں مارکیٹ کا رخ دوبارہ بدل سکتی ہے۔یوں عالمی منڈی میں تیل کی حالیہ گراوٹ نے وقتی ریلیف ضرور دیا ہے، مگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ اس لیے سرمایہ کار، درآمد کنندگان اور توانائی سے جڑی معیشتیں اگلے سفارتی اشارے کی منتظر ہیں، کیونکہ ایک مثبت بیان قیمتیں نیچے لا سکتا ہے اور ایک منفی پیش رفت دوبارہ تیل کو 120 ڈالر کی طرف دھکیل سکتی ہے۔