اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کی لپیٹ، دالیں اور گھی سرکاری نرخوں سے کئی گنا مہنگے

اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کی لپیٹ، دالیں اور گھی سرکاری نرخوں سے کئی گنا مہنگے

شہر کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا طوفان بدستور جاری ہے، جہاں سپر اسٹورز پر دالیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ بیچی جا رہی ہیں۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور لوگ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے شدید پریشان ہیں۔ذرائع کے مطابق چھوٹے جنرل سٹورز اور بڑے سپر اسٹورز میں دالیں کئی گنا مہنگی بیچی جا رہی ہیں، اور دالوں پر 50 سے 300 روپے تک اضافی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔اسی طرح گھی کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جہاں درجہ اول کا گھی 590 سے 610 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ درجہ دوم کا گھی اور آئل 520 سے 540 روپے فی کلو میں دستیاب ہیں۔ماہرین کے مطابق بڑھتی مہنگائی کی بڑی وجوہات میں عالمی سطح پر اشیائے خوراک اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ملکی مارکیٹ میں سپلائی کی کمی شامل ہے، جس کے اثرات عام صارفین پر نمایاں ہیں۔

شہریوں کے مطابق مختلف اقسام کی دالیں تقریباً دوگنی قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں، جس سے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز کی رپورٹ کے مطابق دال ماش دھلی کی سرکاری قیمت 410 روپے فی کلو ہے، تاہم سپر اسٹورز پر یہی دال 710 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ دال چنا کی سرکاری قیمت 220 سے 250 روپے فی کلو ہے، جبکہ سپر اسٹورز پر اسے 300 سے 320 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

عوام نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔