صائمہ ممتاز
"آج کا پاکستان" یقینًا یہ جملہ سن کر اکثر لوگوں کے ذہنوں میں مشکلات، بے سکونی، مایوسی، بے روزگاری، ناخواندگی، بدنظمی اور ڈپریشن جیسے مسائل آتے ہیں۔ بدقسمتی سے اتنے سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا وطن پوری طرح سے ترقی اور کامرانی کی راہوں پر گامزن نہیں ہو سکا بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی بقا اور سالمیت کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ ہر محب وطن پاکستانی کی دلی خواہش ہے کہ پاکستان ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو خاص طور پر ان لوگوں کا دکھ دوگنا ہو جاتا ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت اپنے پیاروں کو جان و مال اور عصمتوں کی قربانی دیتے دیکھا۔۔ مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کی اس ہفتہ وار نشست کے مقرر جناب سمیع اللہ ملک بھی ایک ایسے ہی پاکستانی ہیں جنہوں نے اپنی گفتگو میں زہر اور طنز سے ڈوبے ہوئے الفاظ کے تیر برسانے کی بجائے بڑے ہی خوبصورت انداز میں پاکستانی بہن بھائیوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ یہ وطن جو ہمارا اپنا گھر ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے کون کون سے پاپڑ بیلے ہیں؟ قیام پاکستان کے وقت جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے سبھی جانتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے بہت قربانیاں دے کر اس وطن عزیز کو حاصل کیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے پاکستانی کو اپنے ہی پاکستان میں جو مسائل یا مشکلات کا سامنا ہے ان کی فہرست بنا کر ایک ایک کر کے پیش کرنے، ان مسائل پر گھنٹوں گفتگو کرنے، ایک دوسرے کو الزام دینے اور سسٹم کی خرابی کے رونے رونے سے ہمیں کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ سوائے اس کے کہ مایوسیوں کے بادل اور گہرے ہوتے جائیں گے۔ مقرر سمیع اللہ ملک نے پاکستانیوں کو دل گرفتہ اور شرمندہ کرنے کی بجائے انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی وطن ہے جس کی بنیادوں کوپانی سے نہیں بلکہ خون سے سینچا گیا ہے اس کی قدر و منزلت اور اہمیت کا احساس اس طرح دلانے کی کوشش کی کہ فرض کریں اگر ہم بڑے پرسکون انداز میں اپنے بیڈ رومز میں اپنے بچوں اور خاندان والوں کے ساتھ آرام کر رہے ہیں اور ایسے میں میزائل گرنے سے ہر طرف ایک ہنگامہ برپا ہو جائے تو ایسے میں ہم پر کیا گزرے گی؟ تقسیم پاکستان کے وقت ہماری بچیوں نے کس طرح کی تکالیف برداشت کیں؟ جس وقت تقریبًا ساڑھے سات ہزار کنویں مسلمان بچیوں کی لاشوں سے بھرے ہوئے دیکھے گئے اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان لاشوں کو نکالنے کی بجائے مٹی ڈال کر وہیں بند کر دیا گیا۔ ذرا سوچیں کہ یہ وہی بچیاں تھیں جن کے والدین کبھی ان کو کسی تکلیف یا ایسے حال میں دیکھ نہ پاتے ہوں گے اگر قیامت کے دن ان بچیوں نے ہم سے یہ سوال کر لیا کہ آپ سب لوگ جو کبھی ہمارے سر سے دوپٹہ اترنے نہیں دیتے تھے اور آج ہمیں اس حال میں چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تو ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ کیا ہم یہ جواب دے پائیں گے کہ ستائیس رمضان کو جو معجزاتی ریاست اللہ نے ہمیں عطا کی تھی اور ہم نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگائے تھے کیا ہم اس پر پورے اترے ہیں؟ ہم نے تو یہ وعدہ کیا تھا کہ اے اللہ ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات د لا کر تیری غلامی میں دیں گے تو کیا ہم یہ کر پائے ہیں؟ یہ سرزمین جس کا مقدمہ قائد اعظم جیسے وکیل نے لڑا اور جن کے ساتھ علامہ اقبال، سر سید احمد خان، لیاقت علی، مولانا ظفر علی خان اور بہت سے عظیم لیڈر شامل رہے تو پھر آج کے پاکستان میں کہاں پر خرابی ہوئی پاکستان لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہوا لیکن کیا وجہ ہے کہ یہاں اسلامی قانون نافذ نہیں ہو سکا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت کو مغربی ممالک میں پیروی کر کے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ مقرر نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا :-
"تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے"۔
ہر نئی آنے والی حکومت نعرے اس طرح لگاتی ہے کہ جیسے وہ ملک و قوم کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگی لیکن ہر کوئی اپنا ہی سوچتا ہے خواہ بعد میں قدرت کی طرف سے نتائج بھی بھگتنے پڑ جائیں اس سلسلے میں انہوں نے تین سیاستدانوں کا خاص طور پر ذکر کیا جنہوں نے پاکستان کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا ان میں اندرا گاندھی، مجیب الرحمن اور بھٹو خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور پھر سب جانتے ہیں کہ قدرت کس طرح ایسے لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچاتی ہے مقرر نے ایک ایسے ڈاکٹر کی طرح اپنی گفتگو کو جاری رکھا جو صرف بیماری کا سن کر دوائیں تجویز نہیں کرتا بلکہ پہلے وہ اس بیماری کو تشخیص کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اصل مسئلہ کہاں پر ہے اور جب کسی بیماری کی تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج آسان اور یقینی ہو جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر کبھی ہمارے گھر کے نلکوں میں بدبودار پانی آنے لگ جائے تو اگر وہاں ملک کے تمام علماء کو اکٹھا کر کے بٹھا دیا جائے کہ یہاں بیٹھ کر قرآن پڑھنا شروع کر دیں تو کیا وہ پائپ ٹھیک ہو جائیں گے؟ بالکل نہیں، بلکہ سیوریج کی خرابی والی جگہ پر کھدائی کی جاتی ہے اور پھر متاثرہ جگہ پر پائپس کو ٹھیک کیا جاتا ہے یعنی پانی اور گٹر کے پائپ کو الگ الگ کیا جاتا ہے۔۔۔ مقرر نے اپنی گفتگو میں اپنی زندگی کے بہت سے واقعات شیئر کیے اور کہا کہ جو لوگ یورپی ممالک میں مقیم ہیں وہ بالکل ان بیٹیوں کی مانند ہیں جو اپنے میکے یعنی پاکستان کی مضبوطی اور خوشحالی کی دعائیں اس لیے بھی مانگتے ہیں کہ اگر جس بیٹی کا میکا مضبوط ہوتا ہے اس بیٹی کو سسرال میں زیادہ باتیں نہیں سننی پڑتی بلکہ اس کی عزت ہی ہوتی ہے اور جو کمزور ہوتے ہیں ان کی بیٹی میں خواہ کتنے ہی گن کیوں نہ ہوں اسے تنگ ہی کیا جاتا ہے۔۔ لہذا خدارا پاکستان کو اتنا مضبوط اور خوشحال بنا دیں کہ پاکستانیوں کو دوسرے ممالک میں بھی اب ایک خاص عزت مقام اور مرتبہ مل جائے۔