چلڈرن ہسپتال کی پارکنگ میں ڈاکٹر احمد لطیف کی لاش ملنے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق جسم پر کسی قسم کے تشدد یا زخم کے آثار نہیں پائے گئے۔
پولیس کے مطابق لاش کو فوراً تحویل میں لے کر پوسٹمارٹم کے لیے منتقل کیا گیا اور بعد ازاں ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی حقیقی وجہ کا تعین حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاش تقریباً 3 سے 4 روز پرانی تھی، جس کی بنیاد پر وقوعے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔پولیس نے تمام ممکنہ پہلوؤں پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ڈاکٹر احمد لطیف کی موت حادثاتی تھی یا کسی اور وجہ سے ہوئی۔ ہسپتال انتظامیہ بھی واقعے سے متعلق پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔اس ضمن میں ابتدائی معلومات کے مطابق قتل یا چوٹ کے آثار نہ ہونا، موت کے دیگر ممکنہ اسباب جیسے طبی مسائل یا خودکشی کے پہلوؤں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔