لا ِلہ ِلا اللہ کا قلعہ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویمی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ ان کے وجودکی اساس اوران کے شعورکی جڑیں بن جاتے ہیں بلکہ قوم کی روح میں ابدی چراغ کی طرح روشن ہو جاتے ہیں۔پاکستان کاقیام1947میں محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھابلکہ یہ ایک روحانی اورتہذیبی انقلاب تھا۔برصغیرکی تقسیم کے نتیجے میں کلمے کی بنیادپرقائم ہونے والی اس معجزاتی ریاست نہ صرف جغرافیے کی لکیروں کوبدلابلکہ دلوں کے دھڑکنے کااندازبھی بدل دیا۔یہ ریاست’’لاالہ الااللہ‘‘کے پرچم تلے وجودمیں آئی اوراسی کلمے نے اس کی بنیادوں کووہ استحکام بخشاجودنیاکی کسی اورتحریک کے نصیب میں نہ آیا۔
’’لاالہ الااللہ‘‘کی بنیادپروجودمیں آنے والی یہ ریاست اس عہدکی علامت تھی کہ مسلمان اپنی جداگانہ تہذیب،دینی تشخص اور نظریاتی اساس کے بغیردنیامیں زندہ نہیں رہ سکتے۔ پاکستان کاقیام1947میں محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھابلکہ یہ ایک روحانی اورتہذیبی انقلاب تھا۔یہ ریاست’’لاالہ الااللہ‘‘کے پرچم تلے وجودمیں آئی اوراسی کلمے نے اس کی بنیادوں کووہ استحکام بخشاجودنیا کی کسی اورتحریک کے نصیب میں نہ آیا۔ 
لیکن جس دن یہ مملکت خدادادمعرض وجود میں آئی،اسی دن سے اس کے دشمنوں نے اس کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع کردیے۔بھارت کے ہندوزعمانے اس حقیقت کوکبھی تسلیم نہ کیا۔ان کے نزدیک تقسیم ہندایک عارضی واقعہ تھااورپاکستان ایک’’حادثہ‘‘جسے جلدیابدیرمٹادیناہے۔بھارت،جس کے سینے پرپاکستان کاوجودایک ناسورکی طرح تھا،نے ہرموڑپرپاکستان کو مٹانے کی کوشش کی۔کبھی براہِ راست جنگ کے ذریعے،کبھی پراکسیزاوردہشتگردی کے ذریعے،اورکبھی فطرت کے وسائل کو ہتھیاربناکر۔کانگریس کے بڑے رہنمابارہاکہتے رہے کہ’’پاکستان تاریخ کی ایک غلطی ہے‘‘۔اسی سوچ سے آگے چل کر’’اکھنڈبھارت‘‘کاخواب پروان چڑھا۔اس خواب کی وحشت یہ ہے کہ وہ صرف پاکستان ہی کونہیں بلکہ نیپال،بھوٹان،سری لنکا، بنگلہ دیش اوریہاں تک کہ بحرہندکے پانی سے جڑے ہرملک کو’’اکھنڈبھارت‘‘کاحصہ قراردیتے ہیں۔گویاخطے کے تمام ممالک کو اپنی توسیع پسندانہ ہوس کی بھینٹ چڑھانے کاارادہ رکھتے ہیں۔
قرآن نے ایسے ہی فتنہ پرورگروہوں کے بارے میں فرمایا:وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے تاکہ اگروہ طاقت پاجائیں توتمہیں تمہارے دین سے پھیردیں۔(البقرہ:217)
پاکستان کے خلاف بھارت کی سازشیں اسی آیت کی عملی تصویرہیں لیکن تاریخ کافیصلہ ہے کہ جب قومیں اپنے ایمان پرقائم رہیں، توکوئی باطل قوت انہیں مغلوب نہیں کرسکتی۔یہ
 داستان محض جنگوں کی روداد نہیں بلکہ ایمان اورکفر،ظلم اورعدل،طاقت اورعقیدے کی کشمکش کی کہانی ہے۔یہ وہ تاریخ ہے جس میں بدروحنین کی صدائیں سنائی دیتی ہیں،جس میں کربلاکااستقامت بھراسبق جھلکتاہے،اورجس میں اقبال کی دعااورقائداعظم کاعزم گونجتاہے۔اس رودادمیں پاکستان باربارلہومیں نہایا،لیکن ہربارایک نئے حوصلے کے ساتھ ابھرا۔
6ستمبر1965کی رات تاریخ کے اوراق پروہ سیاہ لمحہ ہے جب برصغیرکی سرزمین پرظلم کی سیاہ آندھی نے پاکستان کے ننھے چراغ کوبجھانے کاخواب دیکھا۔ جب بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پربزدلانہ یلغارکی،دراصل کفراورایمان کاایک اورمعرکہ تھا۔بھارت،جواپنے حجم،وسائل اورعسکری طاقت میں چھ گنابڑاتھا، لاہورکی سرحدوں پرجب دشمن نے اپنی زبردست فوجی طاقت سے قدم بڑھایاتواس کایہ گھمنڈ،تکبراورگمان تھاکہ اگلے چندگھنٹوں میں لاہورجمناپار کے جھنڈوں کے نیچے ہوگا۔لاہورکونشانہ بناتے ہوئے یہ سوچاکہ صبح کاسورج طلوع ہونے سے پہلے وہ اس شہرکوروندڈالے گا۔اس کے خیال میں شایدیہ مٹی کاگھرہے جو ایک آندھی کے جھونکے سے بکھرجائے گالیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ یہ سرزمین بدرواحدکے وارثین کی ہے۔پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں کوڈھال بنایابلکہ پاک فوج کے جوان ٹینکوں کے سامنے اس 
طرح ڈٹ گئے جیسے حضرت خالدؓ بن ولید یرموک کے معرکے میں روم کی فوجوں کے سامنے ڈٹے تھے۔ 
لیکن وہ دن کی روشنی تک نہ جان پایاکہ یہ شہرمحض اینٹ اورپتھرکامجموعہ نہیں،یہ عاشقانِ رسولﷺکے قلوب کاحصارہے،یہ مومن کے ایمان کی قلعہ بندی ہے۔جہاں کے کوچہ و بازاراقبال کی صداں اورمجاہدین کے خوابوں سے معمورہیں۔ یہاں کے جوانوں نے ٹینکوں کے سامنے سینے بچھادیے،یہاں کے سپاہیوں نے’’اللہ اکبر‘‘کی صداؤں سے دشمن کے دل دہلادیے۔یہی وہ دن تھاجب اقبال کاخواب اورقائدکاپیغام حقیقت کے لہومیں نہایااورنئی زندگی کااعلان ہوا۔
ہندوبنیایہ بھول گیاکہ لاہورمحض سرسبزباغات کامجموعہ نہیں بلکہ یہ ان مخلص عاشقوں کاشہرہے جووطن پرجان نچھاورکرنا ایک اعزازسمجھتے ہیں۔پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں کوڈھال بنایابلکہ اس جنگ میں عوام نے بھی حیرت انگیزکرداراداکیا۔اس وقت پاکستان کے گلی کوچے’’اللہ اکبر‘‘کی صداؤں سے گونج اٹھے۔ گھروں کی عورتوں نے اپنے زیوربیچ کرمحاذ کیلئے چندہ دیا،بچے فوجیوں کوپانی اورکھانے پہنچاتے رہے،اورپوری قوم’’پاکستان زندہ باد‘‘کے نعرے میں ایک آوازہوگئی اوراس بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پوری قوم ایک صف میں کھڑی تھی۔مکاربرہمن نہیں جانتاتھاکہ یہ سرزمین ایک نظریے پرقائم ،ایک کلمے کی بنیادپراستوارہے،اوراس کے سپوت وہی ہیں جن کی رگوں میں بدروحنین کے شہسواروں کا خون گردش کرتاہے۔
وہ سترہ دن کی جنگ،جس میں دشمن نے بارباریلغارکی،پاکستان کے جوانوں نے بڑھ چڑھ کرہروارکوسینے پرروکا۔دشمن کی شکست ایسی تھی کہ آج تک اس کی پیٹھ اورمنہ پرزخم ہرا ہے۔سترہ دن کی جنگ کے بعددنیانیپاکستان کاپرچم پہلے سے زیادہ سر بلنددیکھااوردشمن کے عزائم خاک میں مل گئے۔اس دن بھارت کویہ سمجھ آگئی کہ پاکستان محض جغرافیہ نہیں، یہ ایمان کاقلعہ ہے۔ لیکن زخم خوردہ کمینہ ومکاربرہمن دشمن آج تک اس شکست فاش کوفراموش نہ کرسکااورہرنئے مکروہ حربے کے ساتھ پاکستان کے وجودکومٹانے کے درپے رہا۔
اس شکست نے بھارت کے منہ پرایسی کالک ملی اوردل پرایسازخم لگایا کہ وہ آج تک نہ توچہرے کی سیاہی دورہوئی اورنہ ہی  زخم بھرسکالیکن اسی کے ساتھ دشمن کے اندرایک انتقام کی آگ دہکنے لگی،جوآج تک بجھی نہیں۔یہ وہی جذبہ تھاجس کاذکرقرآن نے کیا:اگرتم اللہ کی مددکروگے تواللہ تمہاری مددکرے گااورتمہارے قدم جمادے گا۔(محمد:7)
سترہ دن کی اس جنگ کے بعددشمن پسپاہوا۔اس کے دل پروہ زخم لگاجوآج تک رس رہاہے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ فیصلہ کرلیاکہ براہِ راست جنگ سے ہٹ کرسازشوں کے نئے دروازے کھولے جائیں گے۔
وقت گزرا،لیکن دشمن کی سازشیں نہ رکیں۔اس نے جان لیاکہ میدانِ جنگ میں پاکستانی شیراس کوروندڈالیں گے،جب براہِ راست میدان میں بھارت کوناکامی ہوئی،تواس نے اندرونی انتشارکوہتھیاربنایا۔جب میدانِ جنگ میں اس کی ایک نہ چلی،تو اس نے مکار بزدلوں کی طرح پاکستان کواندرسے توڑنے کی کوشش کی۔لہذااس نے نئے محاذکھولے۔ دہشتگردی کے اندھیروں کوپاکستان پر مسلط کردیاگیا۔بلوچستان،خیبرپختونخواہ اورملک کے دیگرگوشے خون آلودکردئیے گئے۔بلوچستان،خیبرپختونخواہ کوبالخصوص  ہدف اورملک کے دیگرحصوں کوبالعموم  دہشتگردی کانشانہ بنادیا۔وہاں دہشتگردی کی آگ بھڑکائی گئی۔مساجدکونشانہ بنایاگیا، مدارس کے طلبہ کوشہیدکیاگیا،اورمعصوم پاکستانیوں کے خون سے بازاروں کی گلیاں سرخ کردی گئیں۔یہ دہشتگردمحض بندوق بردارنہ تھے،یہ وہ بھارتی پراکسیزتھیں جنہیں پاکستانی قوم آج ’’فتنہ خوارج‘‘اور’’فتنہ ہند‘‘کے نام سے پہچان چکی ہیں ۔ ان خوارج نے مسلمانوں کے ہی خون کوحلال سمجھا،مسجدوں میں معصوموں کوشہیدکیا،بازاروں میں خون کی ندیاں بہائیں اوردنیا نے دیکھاکہ یہ سب کس کے اشارے پرہورہاتھا ۔دشمن نے سوچاکہ اگربراہِ راست حملہ کامیاب نہیں ہوتاتواندرونی انتشارپیداکیا جائے لیکن وہ یہ بھول گیاکہ جس قوم نے ہجرت کے بعدبھی بدرجیتی،احدکے زخم سہہ کربھی زندہ رہی،اورکربلاکے امتحان میں بھی صبرکاجھنڈابلندرکھا،وہ قوم دہشتگردی کی اس آگ میں بھی اپنی شناخت کھونہ سکے گی۔
یہی وہ وقت تھاجب دنیانے دیکھاکہ’’فتنہ خوارج‘‘ایک بارپھرسراٹھارہاہے۔قرآن نے جس گروہ کو’’شرالدواب‘‘کہاتھا،وہی گروہ مسلمانوں کاخون بہانے میں پیش پیش تھا۔یہ دہشتگرداپنے آپ کواسلام کاداعی کہلاتے تھے،لیکن درحقیقت وہ دشمن کے ایجنڈے کے تحت کام کررہے تھے۔ یہ وہی خوارج تھے جن کے بارے میں حضورﷺنے فرمایا:
آخرزمانے میں ایک قوم نکلے گی جوقرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرشکارسے نکل جاتاہے(صحیح بخاری)۔
یہ دہشتگردانہی خوارج کی عملی شکل تھے۔وہ مسلمانوں کے خون کوحلال سمجھتے،اوردشمن کے اشاروں پرپاکستان کے خلاف جنگ چھیڑتے۔لیکن پاکستان نے صبر،حوصلے اورقربانی کے ساتھ اس فتنے کوبھی ناکام بنایا(جاری ہے)