سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
بھارت کی پراکسیزنے پاکستان کوکمزورکرنے کی کوشش کی،لیکن قوم نے ان اندھیروں میں بھی امیدکاچراغ جلائے رکھا۔فوج، عوام اورریاستی ادارے مل کراس فتنے کے مقابلے پرڈٹ گئے اورتاریخ نے پھرایک بارگواہی دی کہ ایمان کی بنیادپرقائم قوم کو دہشتگردی کی دھول میں چھپایانہیں جاسکتا۔
مئی2025ایک اورمعرکہ بھی گواہی دے گااورتاریخ میں سنہری حروف سے لکھاجائے گا۔دشمن نے ایک بارپھرپاکستان کوکمزور کرنے کاخواب دیکھا۔بھارت نے بڑے زورو شور سے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑکرکے پاکستان کوایک بارپھرکچلنے اورگھٹنے ٹیکنے پرمجبورکرنے کامکمل منصوبہ بنایا۔اس نے جدیداسلحے اورٹیکنالوجی پربھروسہ کیالیکن یہ بھول گیاکہ اصل طاقت ایمان ہے،نہ کہ توپ اورٹینک لیکن قدرت کوکچھ اورہی منظورتھااورنتائج اس کے گمان کے برعکس نکلے۔
اسرائیل کے ساتھ مل کراس نے پاکستان پریلغارکی فاش غلطی توکرلی،اپنے جدیدترین اسلحے اوراسرائیلی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مربیوں کوبھی بڑے تکبرسے اطلاع دی کہ اگلے چندگھنٹوں میں پاکستان گھٹنوں اورمنہ کے بل گرکر معافی کا طلب گارہوکرغلامی اختیارکرلے گالیکن جب پاک فوج کے جوان’’اللہ اکبر‘‘کے نعروں کے ساتھ میدان میں اترے تودشمن کے ٹینک اورطیارے سب خاک چاٹنے لگے۔اسرائیلی اسلحہ،جدیدٹیکنالوجی،اورپراپیگنڈے کے طوفان بھی پاکستانی جوان کے عزم کے آگے ریزہ ریزہ ہو گئے ۔پاکستانی جوانوں نے اس معرکے میں جس جرات کامظاہرہ کیا،وہ ہمیں یرموک اورقادسیہ کی یاددلاتا ہے۔حضرت سعد ؓبن ابی وقاص کے وہ الفاظ زندہ ہوگئے کہ اللہ کے سپاہی جب اللہ پربھروسہ کرتے ہیں تودنیاکی کوئی فوج ان کاراستہ نہیں روک سکتی۔تاریخ نے خودگواہی دی کہ جس سرزمین کے پشت پرایمان کی ڈھال ہو،اس پرباطل کاوارکبھی کامیاب
نہیں ہوتا۔
دنیانے حیرت کے ساتھ دیکھاکہ اسرائیلی حمایت کے باوجودبھارت کومنہ کی کھانی پڑی۔بالآخراس کی قیادت کوامریکی صدرٹرمپ سے سیزفائرکی بھیک کرنی پڑی۔یہ لمحہ بھارت کی تاریخ کاسب سے بڑاداغ ہے،جب اس کی فوجی طاقت اورعالمی حمایت کے باوجودوہ پاکستان کے سامنے سرنگوں ہوگیا۔یہ لمحہ بھارت کی تاریخ کاسیاہ ترین لمحہ تھا۔اسرائیلی مددکے باوجودیہ رسوائی اس بات کااعلان تھی کہ پاکستان کے خلاف ہراتحادناکام ہوگا۔تاریخ کے صفحات پریہ لمحہ اس کیلئے قیامت صغری ہے،اورپاکستان کیلئے ایک اورغازیانہ فتح کاعنوان۔
جب دشمن عسکری اوردہشتگردی کے محاذ پرناکام ہواتواس نے فطرت کے سب سے قیمتی تحفے،یعنی پانی کوہتھیاربنانے کی کوشش کی۔آبی دہشتگردی کاایک نیاباب کھلا۔بھارت نے اپنے ڈیموں کے پانی کارخ موڑکرپاکستان کوسیلابوں میں ڈبونے کی سازش کی۔ڈیمزکے پانی کوروک کراورپھربارشوں کے موسم میں رخ بدل کرپاکستان کوسیلابوں میں غرق کرنے کی سازش کی گئی۔ گرمیوں میں پانی روک لیاگیاتاکہ پاکستان کے کھیت پیاس سے مرجائیں،اوربارشوں میں یکدم پانی چھوڑکربستیاں ڈبودی گئیں۔یہ آبی دہشتگردی محض پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف بھی تھی۔دنیاکے مہذب معاشرے پانی کوزندگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں،لیکن بھارت نے اسے موت کاہتھیاربنادیا۔لیکن پاکستان کے عوام نے ان آفات کوبھی صبراورحوصلے سے سہہ لیا۔بھارت نے دنیاکے سامنے اسے’’قدرتی آفت‘‘کانام دیالیکن ہرصاحبِ بصیرت نے جان لیاکہ یہ دراصل دشمن کی نئی سازش ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھاہے کہ قدرتی آفات کابہانہ بناکراپنی سازش چھپالے گا،لیکن حقیقت آخرکارسامنے آہی گئی۔وہ اپنے تئیں مکاری کے اس سراب میں بیٹھا سوچ رہا تھاکہ پانی کے سیلاب سے ایک نظریہ کوبہالے جائے گامگروہ نہیں جانتا کہ کلمہ حق کی بنیادکوکوئی طوفان مٹانہیں سکتا۔یہ وہی پراناحربہ ہے جوفرعون نے نیل کے پانی پرقبضے کاخواب دیکھاتھالیکن بالآخراسی نیل نے اسے غرق کیا۔بھارت کی آبی دہشتگردی بھی اسی فرعونی روش کی یاددلاتی ہے۔قرآن نے فرعون کے انجام کے بارے میں فرمایا:
پھراللہ نے اسے دنیااورآخرت دونوں کیلئے عبرت کانشان بنادیا۔(النازعات:25)
یہ آیت اس بات کی ضمانت ہے کہ جوبھی قوم فطرت کے نظام سے کھیلنے کی کوشش کرے گی،وہ خوداس کے عذاب میں گرفتارہوگی۔
مودی نے پاکستان کوکمزورکرنے کی ہرممکن کوشش کی۔مودی نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھاکہ جس امریکاپراس نے تکیہ کیا تھا،وہ اب کھل کراس کی پالیسیوں سے کنارہ کشی کر رہا ہے۔مودی،جوکبھی واشنگٹن کے دروازے پرسررکھتاتھا،آج ٹرمپ کی بے رخی دیکھ کرچین اورروس کی طرف دیکھ رہاہے۔امریکی صدرنے نہ صرف اسے دھتکارابلکہ بھارت میں ہونے والی’’کواڈ"‘‘میٹنگ میں نہ صرف شرکت سے انکارکیابلکہ بھارت کی پالیسیوں پرکھلے لفظوں میں ناپسندیدگی کااظہارکیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب بھارت کیلئے عالمی سیاست کے دروازے بندہونے لگے۔
مودی کیلئے یہ لمحہ شکست وریخت کاتھا۔اب وہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی عزت کوبچانے کیلئے روس اورچین کے درپرجابیٹھاہے۔ ایسے میں روس اورچین کے سامنے ہاتھ پھیلانااس کی مجبوری بن گیالیکن یہ بھی ایک عارضی سہاراہے،کیونکہ روس اورچین کی اپنی ترجیحات ہیں،اوریہ دونوں ممالک بھارت کومحض ایک مہرہ اورآلہ سمجھتے ہیں،نہ کہ کوئی حلیف یا حقیقی شراکت دار۔بھارت کیلئے یہ تبدیلی ایک ایسی ڈوبتی کشتی ہے جس کاسہارابھی غیریقینی ہے۔
ٹرمپ کے اس رویے کے بعدعوامی نفرت اوردباؤنے مودی کے اوسان خطاکردیئے اور’’اکھنڈبھارت‘‘کا خواب پھرسے اس کے لبوں پرآنے لگا۔ بھارت کادعویٰ ہے کہ بحرہندکے ساحل سے جڑے تمام ممالک سری لنکا،نیپال،بھوٹان، مالدیپ،حتی کہ پاکستان تک سب’’اکھنڈبھارت‘‘کاحصہ ہیں۔یہ سوچ دراصل چانکیہ کے اس فلسفے کاتسلسل ہے جس میں طاقت اوردھوکہ ہی سیاست کے ہتھیارہیں لیکن تاریخ اس خواب کی بارہانفی کرچکی ہے۔محمودغزنوی کے حملے ہوں یااحمدشاہ ابدالی کی یلغار، بھارت ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے سامنے کمزورثابت ہوا۔آج بھی اس کا’’اکھنڈبھارت‘‘کامحض سراب بھارت کے جلدٹوٹنے کاآغازبھی ہے جومودی کے ہاتھوں انجام تک پہنچے گا۔
ٹرمپ نے بھارت کی پالیسیوں پرکڑی تنقیداورپاکستان پربھارتی آبی جارحیت کوکھلے الفاظ میں مستردکرتے ہوئے کہاکہ امریکا روس اورچین کے اتحادسے خوفزدہ نہیں۔اس بیان کااصل مخاطب بھارت تھا۔گویابھارت کوواضح پیغام دے دیاکہ اس کی جارحانہ روش ناقابلِ قبول ہے۔وہ دنیاکے سامنے روس اورچین کے صدورکے ساتھ تصویریں بنواکر امریکا کومرعوب کرنے کی کوشش نہ کرے۔مودی کایہ اوچھاعمل درحقیقت وہ ایک تنہا ریاست کاہے،جواپنی ناکامیوں کوچھپانے کیلئے دنیاکے سامنے جھوٹی نمائش کر رہاہے۔ یہ پیغام دراصل بھارت کیلئے ایک تنبیہ تھاکہ حقیقت کوچھپانہیں سکتا۔دنیاکے سامنے بھارت کااصل چہرہ ابھرآیاہے۔اس کے ہتھکنڈے،اس کی پراکسیزاوراس کی آبی دہشتگردی سب بے نقاب ہوچکی ہیں۔پاکستان کے خلاف ہرسازش ناکام ہوئی ہے،اوردنیاکے ضمیرنے بھارت کوایک جارح ملک کے طورپرپہچان لیاہے۔بھارت کی یہ پالیسی خود اس کیلئے وبالِ جان ہے۔امریکانے واضح کردیاکہ وہ بھارت کی جارحانہ روش کاحامی نہیں۔گویاعالمی سیاست میں بھارتی تنہائی اورزوال کاسفرشروع ہوچکاہے۔اورپاکستان،اپنی مشکلات اورآزمائشوں کے باوجود،دنیاکے ضمیرکوجھنجھوڑنے میں کامیاب ہورہاہے۔
پاکستان کی تاریخ ایمان،قربانی اورحوصلے کی کہانی ہے۔پاکستان کی یہ تاریخ دراصل ایمان،قربانی اورعزم کی کہانی ہے۔1965 کی جنگ سے لیکر2025کے معرکوں اور سازشوں تک دشمن نے بارباراسے مٹانے اورپاکستان کوختم کرنے کی کوشش کی لیکن ہربارپاکستان ایک نئے حوصلے کے ساتھ ابھرا۔کبھی جنگ کے میدان میں،کبھی دہشتگردی کے
اندھیروں میں،کبھی پانی کے طوفانوں میں،اورکبھی عالمی سیاست میں لیکن ہربارناکام ہوا،ہرسازش بے نقاب ہوئی،اورہرحملہ پاکستان کیلئے نئی حیات کاپیغام بن گیا۔ہمیشہ پاکستان کاپرچم بلندرہا۔یہ ملک محض سرحدوں کانام اورمحض جغرافیہ نہیں بلکہ کلمہ کی بنیادپرایک نظریہ ہے۔یہ وہ خواب ہے جس کی تعبیراورتکمیل قائداعظم کی جدوجہداورعزم کے ساتھ معرضِ وجود میں آئی، اور یہ شہداکے خون کی امانت ہے اورپاکستان آج بھی’’لاالہ الااللہ‘‘کی بنیادپرسینہ سپرہے۔
قرآن کی وہی آیت آج بھی اس قوم کی بنیاد ہے:کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہیں جواللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پرغالب آگئیں۔(البقرہ:249)
پاکستان کاوجوداسی آیت کازندہ ثبوت ہے۔دشمن کے تمام ہتھیار،تمام سازشیں،اورتمام خواب ہمیشہ ناکام ہوں گے کیونکہ یہ سرزمین ’’لاالہ الااللہ‘‘کے نام پربنی ہے،اوریہ پرچم قیامت تک سربلندرہے گا۔ ۔پاکستان آج بھی اپنی شناخت پرقائم ہے۔یہ داستان ہمیں سبق دیتی ہے کہ جب قوم اپنے ایمان پرڈٹ جائے تودنیاکی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔پاکستان کی یہ سرزمین ہمیشہ قائم رہے گی،کیونکہ یہ کلمہ حق پرقائم ہے۔اورجوقوم کلمہ حق کواپنی بنیادبناتی ہے،اس کے خلاف باطل کے تمام ہتھیارہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔