سمیع االلہ ملک(آخری قسط)
تاہم سفارتی حلقوں سے وابستہ شخصیات کاخیال ہے کہ عسکری راستہ مزیدانتشارکوجنم دے سکتاہے،اس لیے پسِ پردہ مذاکرات اور علاقائی ہم آہنگی کوفوقیت دی جانی چاہیے۔تاہم چندممکنہ راستے یہ ہوسکتے ہیں کہ بیک چینل مذاکرات کی بحالی،مشترکہ سرحدی نگرانی کانظام،علاقائی کانفرنس جس میں چین،ایران اوروسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہوں،طالبان کے اندرمعتدل عناصرکی حوصلہ افزائی کی جائے۔یہ راستے مشکل ضرورہیں،مگربندگلی سے بہترہیں۔
پاکستان کادعویٰ ہے کہ بھارت اسرائیل سمیت ایک اورملک بھی افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عناصرکی پشت پناہی کررہے ہیں، اگرچہ متعلقہ ممالک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔یہ پہلوعلاقائی سیاست کومزیدپیچیدہ بنادیتاہے۔وسطی ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان میں غیرملکی جنگجوں کی موجودگی پرتشویش رکھتی ہیں۔اس لیے ایک مشترکہ علاقائی حکمتِ عملی اورہم آہنگی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔بعض تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ بیرونی دباؤکے بجائے افغان قیادت کے اندرمعتدل عناصرکی تقویت زیادہ مؤثرہوسکتی ہے،تاکہ تبدیلی داخلی سطح پرابھرے نہ کہ مسلط کی جائے۔جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق شدت پسندی کے خلاف جدوجہدناگزیرہے اوراس میں پسپائی ممکن نہیں۔ان کاکہناہے کہ قومی سلامتی اورشہریوں کاتحفظ ہرقیمت پریقینی بنایاجائے گا۔پاکستان کاکہنا ہے کہ وہ صرف یہ چاہتاہے کہ افغانستان ایک ذمہ دارریاست کے طورپراپنے وعدے پورے کرے۔عسکری کارروائی عوامی غم وغصہ بڑھاسکتی ہے اور بھارت ، اسرائیل اوردیگردشمن قوتیں ان جذبات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔لہذاضروری ہے کہ بیک چینل رابطے بحال ہوں،تاکہ بداعتمادی کی برف پگھل سکے۔
اس جنگی مرحلے کاسب سے اہم پہلویہ ہے کہ کیادونوں ممالک مکمل جنگ کی طرف مزیدبڑھیں گے یامحدود تصادم کے بعدسفارتی راستہ تلاش کریں گے؟جنگ کے ابتدائی بیانات ہمیشہ جذباتی ہوتے ہیں،مگرریاستیں بالآخراپنے مفادات کی بنیادپرفیصلے کرتی ہیں۔اگر جنگ طویل ہوئی تودونوں ممالک کی معیشت،داخلی استحکام اورعلاقائی تعلقات شدیددباؤ میں آجائیں گے۔کچھ سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ رابطے اب بھی منقطع نہیں ہوئے۔چین اوربعض علاقائی ممالک ممکنہ ثالثی کیلئے سرگرم ہوسکتے ہیں۔اگرایساہواتویہ بحران ایک بڑے تصادم میں بدلنے سے قبل روکاجاسکتاہے لیکن اگرعسکری کارروائیاں بڑھتی گئیں،توخدشہ ہے کہ غیرریاستی عناصر اس افراتفری سے فائدہ اٹھاکرمزید محاذکھول دیں گے۔
پاکستان کامؤقف ہے کہ قومی سلامتی اورشہریوں کاتحفظ ہرقیمت پریقینی بنایاجائے گا۔افغانستان کامؤقف ہے کہ خودمختاری پرسمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔دونوں بیانیے بظاہراپنی جگہ مضبوط ہیںمگرجنگ ہمیشہ بیانیوں سے زیادہ زمینی حقیقتوں سے طے ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان نے افغان طالبان کوان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے باقاعدہ مضبوط شواہد کے ساتھ ان کاروائیوں کو روکنے کیلئے لاکھ جتن کئے ہیں لیکن افغان رجیم اس معاملہ پرسنجیدگی سے عمل کرنے کی بجائے اس وقت بھارت اوراسرائیل کے ہاتھوں کٹھ پتلی کاکردار اداکررہی ہے۔
آج اس بحران کاسب سے نازک پہلویہ ہے کہ دونوں ریاستیں داخلی دباؤکاشکارہیں۔عوامی جذبات بھڑکے ہوئے ہیں،میڈیاکابیانیہ سخت ہے،اورسوشل میڈیاپرقومی غیرت کے نعرے گونج رہے ہیں۔ایسے ماحول میں پسپائی یامصالحت کافیصلہ سیاسی طورپرمشکل ہوجاتا ہے مگرتاریخ گواہ ہے کہ دانشمند قیادت وہی ہوتی ہے جوجذبات کے طوفان میں بھی تدبرکی کشتی کوڈوبنے نہ دے۔پاکستان اور افغانستان کارشتہ محض سیاسی معاہدوں کانہیں، بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی کاامین ہے۔جنگ اس رشتے کووقتی طورپر پانسہ بدل سکتی ہے،مگر اسے مکمل طورپرمنقطع نہیں کرسکتی۔سوال یہ ہے کہ کیادونوں ممالک اس آگ کومحدود رکھ سکیں گے،یایہ شعلے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لیں گے؟
پاکستان اورافغانستان کارشتہ محض سیاسی معاہدوں سے نہیں،بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی سے جڑاہے۔پاکستان اورافغانستان کاتعلق محض دوہمسایہ ریاستوں کابھی نہیں،بلکہ تاریخ،تہذیب اورمذہب کے رشتوں کاآئینہ دارہے۔مگرجب اعتمادکی ڈورکمزورہوجائے،جب سیاست حکمت سے عاری ہوجائے تورشتہ بھی بوجھ بن جاتاہے اورہمسائیگی بھی اجنبیت کاروپ دھارلیتی ہے۔
سوال اب بھی قائم ہے کیامسئلے کاحل بارودمیں ہے یابصیرت میں؟کیارجیم چینج استحکام لاسکتاہے یاانتشارکودعوت دے گا؟اورہاں اصل سوال یہ نہیں کہ توپ چلائی جائے یانہیں،اصل سوال یہ ہے کہ کیادونوں ریاستیں اپنے داخلی بیانیوں سے اوپراٹھ کرمشترکہ مستقبل کی تعمیرکر سکتی ہیں؟اگرجواب اثبات میں ہے توتاریخ ایک نئے باب کی منتظر ہے ؛ اور اگر نفی میں،تواندیشہ ہے کہ یہ کشیدگی محض سرحدی تنازع نہ رہے بلکہ پورے خطے کے امن کواپنی لپیٹ میں لے لے۔
یادرکھیں کہ تاریخ کی عدالت میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جوطاقت کے ساتھ حکمت،اورعزم کے ساتھ اعتدال کوجمع کرلیں۔اگر مکالمہ بحال ہوجائے توشایدسرحدوں کی گھن گرج پھرسے بازاروں کی رونق میں ڈھل سکے اوراگرنہیں،تواندیشہ ہے کہ یہ آگ صرف دوملکوں تک محدودنہ رہے گی،بلکہ اس کے شعلے دورافق تک لپکیں گے۔
ان تمام پہلوؤں کے بیچ ایک بنیادی سوال ابھرتاہے:کیا طاقت کے استعمال سے پائیدارامن ممکن ہے؟تاریخ کاسبق یہ ہے کہ بندوق راستہ کھول سکتی ہے،منزل نہیں دکھا سکتی ۔ اگر کابل اپنی سرزمین کومسلح گروہوں سے پاک کرنے کی سنجیدہ کاوش کرے اوراسلام آباد سفارتی مکالمے کی ڈورتھامے رکھے توشاید برف پگھلنے کاامکان پیداہو۔بصورتِ دیگربداعتمادی کایہ کوہِ گراں پورے خطے پرسایہ فگن رہے گا۔
پاکستان اورافغانستان کاتعلق محض ہمسائیگی نہیں بلکہ تہذیبی اشتراک کاآئینہ دارہے۔پاکستان اورافغانستان کارشتہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی سے بندھاہے۔یہ وہ ہمسائیگی ہے جسے دشمنی کے سانچے میں ڈھالناآسان،مگرامن کے قالب میں ڈھالنادشوارہے۔اگرباہمی ذمہ داریوں کااحساس غالب آجائے توکشیدگی کی یہ دھندچھٹ سکتی ہے؛بصورتِ دیگریہ بحران نہ صرف دوملکوں بلکہ پورے خطے کے امن کواپنی گرفت میں لے سکتاہے۔آج فیصلہ صرف دوریاستوں کانہیں،آنے والی نسلوں کے مستقبل کاہے یاتوخطہ باہمی بصیرت سے استحکام کی راہ چنے،یاپھرتاریخ ایک اوربے سکونی کاباب رقم کرے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے بل پر کھڑی کی گئی عمارتیں دیرپا نہیں ہوتیں؛ پائیدار بنیادیں ہمیشہ اعتماد، انصاف اور باہمی احترام سے استوار ہوتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کا رشتہ محض سیاسی مصلحتوں کا اسیر نہیں، بلکہ صدیوں کی تہذیبی ہم آہنگی، مشترک اقدار اور انسانی روابط کا امین ہے۔ اگر یہ رشتہ کمزور پڑتا ہے تو دراصل پورا خطہ عدم استحکام کے بھنور میں اتر جاتا ہے۔
تاریخ کی عدالت میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جوطاقت کے ساتھ حکمت،اورعزم کے ساتھ اعتدال کوجمع کرلیں۔اگرموجودہ جنگ کو بروقت سفارتی تدبرسے روکاگیاتویہ بحران ایک آزمائش کے طورپریادرکھاجائے گا۔اگرنہیں،تواندیشہ ہے کہ یہ تصادم محض سرحدی تنازع نہ رہے بلکہ جنوبی ووسطی ایشیاکے امن واستحکام کوطویل عرصے کیلئے متاثرکردے۔انتخاب اب بھی ممکن ہییاتوتصادم کی راہ کووسعت دی جائے،یاتدبرکی شاہراہ تلاش کی جائے۔جنگ کاآغازہوچکاہے،مگراس کااختتام ابھی تاریخ نے نہیں لکھا۔یہ فیصلہ آج کی قیادتوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کوایک اورمحاذدے کرجائیں یاایک مشکل مگرپائیدار امن کی بنیادرکھیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جذبات کی تپش کو تدبر کی ٹھنڈک سے متوازن کیا جائے؛ عسکری دبا کو سفارتی بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے؛ اور الزام کے شور میں مکالمے کی آواز کو دبنے نہ دیا جائے۔ اگر قیادتیں اپنے اپنے بیانیوں سے بلند ہو کر مستقبل کی نسلوں کے حق میں فیصلہ کریں تو یہ بحران بھی تاریخ کے اوراق میں ایک آزمائش کے طور پر درج ہو گانہ کہ ایک مستقل زخم کے طور پر،ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ سرحدوں پر اٹھنے والی چنگاریاں کسی ایک دیس تک محدود نہ رہیں، اور وہ آگ جسے بروقت حکمت سے بجھایا جا سکتا تھا، آنے والے کل کے افق کو سرخ کر دے۔انتخاب آج بھی ممکن ہے یا تو تصادم کی راہ، یا تدبر کی شاہراہ۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ ہم نے کون سا راستہ چنا۔