سمیع االلہ ملک(پہلی قسط)
سرحدیں کبھی صرف نقشے پرکھینچی ہوئی لکیریں نہیں ہوتیں؛وہ تاریخ کے اوراق پرثبت وہ نشانات ہوتی ہیں جن کے پیچھے نسلوں کی ہجرتیں،تہذیبوں کی آمیزشیں اورخون وآہن کی کہانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔پاک۔افغان خطہ بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے جہاں پہاڑخاموش نہیں،بلکہ عہدوں اورعہدشکنیوں کے گواہ ہیں؛جہاں ہوامیں صرف گردنہیں اڑتی،بلکہ ماضی کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔
آج جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی لہرسفارتی بیانات سے نکل کرباقاعدہ مسلح تصادم کی صورت اختیارکرچکی ہیاور افغانستان کی جانب سے پاکستان پرکھلے حملوں نے جنگ کاآغازکردیاہے،تویہ محض دوریاستوں کانزاع نہیں رہابلکہ پورے خطے کے مستقبل کاسوال بن چکاہے۔یہ محض دوریاستوں کانزاع نہیں،بلکہ ایک ایسے خطے کاامتحان ہیجوصدیوں سے تہذیبی ربط،مذہبی ہم آہنگی اورجغرافیائی وابستگی میں بندھاہواہے۔بندوق کی آوازاگرچہ لمحاتی فیصلہ سناتی ہے،مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ تدبر،اعتدال اور حکمت کے پلڑے میں ہوتاہے۔اس پس منظرمیں یہ جائزہ نہ کسی فریق کی وکالت ہے،نہ کسی الزام کی ترجمانی؛بلکہ ایک سنجیدہ کاوش ہے کہ حالات کے دھندلکے میں حقیقت کی کرن تلاش کی جائے،اوراس بحران کومحض خبرنہیں بلکہ فہم کے دائرے میں دیکھاجائیبالخصوص اب جبکہ جنگ کی آگ سرحدکے دونوں جانب بھڑک اٹھی ہے۔
برصغیر اور خراسان کی سرحدیں محض جغرافیہ نہیں، تاریخ کی سلگتی ہوئی سطریں ہیں۔ یہاں پہاڑ گواہ ہیں کہ طاقت کی بازگشت کبھی بندوق سے سنائی دی، کبھی معاہدے کی سیاہی سے۔ حالیہ ایام میں جب پاکستان نے افغانستان کے مشرقی صوبوںننگرہار، پکتیا اور خوست میں فضائی ضربیں لگائیں تو یہ اقدام ایک عسکری کارروائی سے زیادہ ایک سیاسی اعلان تھا کہ ریاست اپنی حدود کے تحفظ کے باب میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔
21فروری کی شب پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیا اور خوست میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں نے خطے کی فضا کو ایک بار پھر بارود کی بو سے آلودہ کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے ان کارروائیوں کو محض ایک محدود عسکری آپریشن سمجھنا سادہ لوحی ہو گی۔ یہ دراصل ایک پیغام تھاداخلی بھی اور خارجی بھی۔ داخلی سطح پر یہ باور کرانا مقصود تھا کہ ریاست اپنی رِٹ قائم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؛ خارجی سطح پر یہ اشارہ کہ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان حقِ دفاع کے اصول کے تحت پیش قدمی کرے گا۔
اسی جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے21فروری کی شب پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار،پکتیا اورخوست میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اوردولتِ اسلامیہ خراسان کے سات مراکزکونشانہ بنایاگیاجہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔اور80شدت پسندہلاک ہوئے۔اسلام آباد کے مطابق نشانہ وہ مراکزتھے جہاں تحریک طالبان پاکستان اوردولتِ اسلامیہ خراسان کے مسلح عناصرسرگرم تھے۔دعوی کیاگیاکہ متعددشدت پسندمارے گئے۔ کابل نے اسے سرحدی خودمختاری کی پامالی قرار دیتے ہوئے عام شہریوں کی ہلاکت کاالزام عائدکیااورجواب دینے کی تنبیہ کی۔اوراب وہ تنبیہ عملی اقدام میں ڈھل چکی ہے۔یوں توپ کی آوازسفارتی لغت میں ایک نئے باب کاپیش خیمہ بنی اوراب وہ باب باقاعدہ جنگی مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔
آج جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی لہردوبارہ ابھری ہے،تویہ محض دوریاستوں کانزاع نہیں،بلکہ ایک ایسے خطے کاامتحان ہے جوصدیوں سے تہذیبی ربط،مذہبی ہم آہنگی اورجغرافیائی وابستگی میں بندھاہواہے۔بندوق کی آوازاگرچہ لمحاتی فیصلہ سناتی ہے، مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ تدبر،اعتدال اورحکمت کے پلڑے میں ہوتاہے۔اس پس منظرمیں یہ جائزہ نہ کسی فریق کی وکالت ہے،نہ کسی الزام کی ترجمانی؛بلکہ ایک سنجیدہ کاوش ہے کہ حالات کے دھندلکے میں حقیقت کی کرن تلاش کی جائے،اوراس بحران کومحض خبر نہیں بلکہ فہم کے دائرے میں دیکھاجائے۔
برصغیراورخراسان کی سرحدیں محض جغرافیہ نہیں،تاریخ کی سلگتی ہوئی سطریں ہیں۔یہاں پہاڑگواہ ہیں کہ طاقت کی بازگشت کبھی بندوق سے سنائی دی،کبھی معاہدے کی سیاہی سے۔حالیہ ایام میں جب پاکستان نے افغانستان کے مشرقی صوبوںننگرہار،پکتیااور خوستمیں فضائی ضربیں لگائیں تویہ اقدام ایک عسکری کارروائی سے زیادہ ایک سیاسی اعلان تھاکہ ریاست اپنی حدودکے تحفظ کے باب میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔کابل نے اسے سرحدی خودمختاری کی پامالی قراردیتے ہوئے سرحدی خلاف ورزی قرار دیااوردعوی کیا گیا کہ عام شہری،حتی کہ خواتین واطفال بھی اس کی زد میں آئے۔ عام شہریوں کی ہلاکت کاالزام عائدکیااور جواب دینے کی تنبیہ کی۔جدید عالمی قانون میں ریاستی خودمختاری ایک مقدس اصول ہے،اور اس کی خلاف ورزی کو اکثر جارحیت کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔یوں ایک محدود کارروائی بھی سفارتی بحران میں ڈھل سکتی ہے۔یوں توپ کی آوازسفارتی لغت میں ایک نئے باب کاپیش خیمہ بن گئی۔
یہ سارا قضیہ دراصل اس معاہدے کی تعبیرسے جڑاہے جسے دوحہ معاہدہ کے نام سے جاناجاتاہے۔دوحہ معاہدہ بنیادی طورپرامریکااور افغان طالبان کے درمیان طے پایاتھا،مگراس کے اثرات پورے خطے پرمرتب ہوئے۔اس عہدنامے میں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت شامل تھی۔افغان پاکستان کااستدلال یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدہ کی روح کی پاسداری نہیں کی،اس شرط کی روح مجروح ہوئی ہے؛اورافغان سرزمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کیلئے استعمال ہورہی ہے اوریہ طرزِعمل دوحہ معاہدہ کی روح کے منافی ہے۔دوسری جانب افغان طالبان کامقف ہے کہ پاکستان اپنی داخلی شورش کوبیرونی رخ دینے کی کوشش کررہاہے جس کابوجھ دوسروں کے کاندھوں پرنہیں ڈالاجاسکتا۔یوں معاہدے کی تعبیراختلاف کامرکزبن گئی ہے۔اوراب جنگ نے اس اختلاف کومزید گہراکردیاہے۔
پاکستان کامؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کوافغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسرہیں۔کابل کاجواب یہ ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔یہاں مسئلہ الفاظ کانہیں،تعبیرکاہے اورتعبیرہمیشہ اعتمادکی آغوش میں پلتی ہے،بداعتمادی کے سایے میں نہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاںعہداورالزام کے درمیان سچائی کی لکیردھندلاجاتی ہے،اورتاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب معاہدے اعتمادکے بغیرہوں تو وہ کاغذکے پرزے بن کرہوامیں اڑجایاکرتے ہیں۔یہاں سوال صرف معاہدے کی تشریح کانہیں،بلکہ اعتمادکی فضا کا ہے ۔ جب نیتوں پرشبہ ہو توالفاظ اپنی معنویت کھودیتے ہیں۔
صدرپاکستان نے خبردارکیاکہ افغانستان میں موجودغیرتسلیم شدہ حکومت دہشتگردعناصرکوپناہ دے رہی ہے،جونہ صرف دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ دنیاکوایک نئینائن الیونکی دہلیزتک لاسکتی ہے۔یہ اشارہ یقینا11ستمبرحملوں کی طرف تھاوہ سانحہ جس نے عالمی سیاست کادھاراموڑدیاتھا۔صدرنے جسنئے نائن الیونکاخدشہ ظاہرکیا،وہ محض خطیبانہ اندازنہیں بلکہ سفارتی حکمتِ عملی اورسفارتی دباکاحربہ بھی ہے۔عالمی توجہ کوایک ایسے بحران کی طرف مبذول کراناجوبظاہرعلاقائی مگردرحقیقت بین الاقوامی نوعیت رکھتاہے۔
ان کابیان محض داخلی سیاست کاجملہ نہیں،بلکہ عالمی ضمیرکوجھنجھوڑنے کی ایک کاوش ہے کہ جب سرحدیں بے قابوہوجائیں توآگ کی چنگاری دوردرازبستیوں کوبھی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔صدرپاکستان نے حالیہ بیان میں عالمی برادری کومتنبہ کیاکہ اگرغیرریاستی گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسررہیں تودنیاایک نئے سانحے کی دہلیزپرآسکتی ہے جس نے عالمی سیاست کوجھنجھوڑدیاتھا۔ان کابیان دراصل عالمی برادری کومتحرک کرنے کی کوشش سمجھاجارہاہے۔11ستمبرحملوں کے بعدعالمی سیاست نے دہشتگردی کے خلاف اجتماعی کارروائی کاتصوراپنایا۔پاکستان اسی عالمی یادداشت کوجگاناچاہتاہے تاکہ افغانستان کامسئلہ عالمی ترجیح بن سکے۔یہ بیان دراصل عالمی برادری کومخاطب ہے:اگرآج خاموشی اختیارکی گئی توکل کانقصان مشترک ہوگا۔مگراب سوال یہ ہے کہ جب جنگ چھڑ چکی ہوتوکیاعالمی برادری محض بیانات تک محدودرہے گی یاعملی سفارت کاری کاراستہ اختیارکرے گی؟افغانستان کی جانب سے باقاعدہ حملوں کی خبریں آ رہی ہیںسرحدی چوکیوں پر ولہ باری، ضائی حدود ی خلاف ورزی کے الزامات، ور عض مقامات پر زمینی جھڑپیںتو ورت حال ایک محدود نازع سے بڑھ کر کھلی جنگ کے دہانے پرپہنچ چکی ہے۔ جنگ کا آغاز ہمیشہ تیز ہوتا ہے،مگراس کااختتام اکثرطویل اورتھکادینے والا۔(جاری ہے)